مواد پر جائیں
بدھ، 21 اکتوبر 2026 10 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 7:36
بریکنگ
حج و عمرہ زائرین ویکسین اسکینڈل: بارڈر ہیلتھ سروسز کے سربراہ سمیت 3 افسران گرفتارفیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ ایران: اہم علاقائی امور پر تبادلہ خیالایم ڈی کیٹ نتائج اور سوالنامہ: پی ایم ڈی سی کا ہنگامی اجلاس طلبحکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی اضافہلاہور: مین شام نگر روڈ پر ترقیاتی کام التواء کا شکار، شہریوں کو مشکلات کا سامناخیبرپختونخوا حکومت کا دہشت گردی کی جنگ کے لیے ملنے والے 800 ارب روپے کا آڈٹ کرنے کا فیصلہوفاقی حکومت کا قومی بچت اسکیموں پر منافع کی شرح میں اضافہیمن: سرکاری فوج کے 700 سے زائد حملے، متعدد حوثی جنگجو ہلاکسعودی اور کویتی وزرائے خارجہ کا حوثی حملوں کی شدید مذمت کا اعادہسینٹ کام نے آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز کے بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کی تردید کر دیکراچی: ڈملوٹی سے پانی کی فراہمی کا نیا منصوبہ، 10 ملین گیلن یومیہ پانی ملے گاکراچی: مختلف علاقوں میں پولیس کے مبینہ مقابلے، 7 زخمیوں سمیت 12 ملزمان گرفتارسعودی شہزادی مشاعل بنت سعود بن محمد بن عبدالعزیز انتقال کر گئیںملتان: بچے کی ہلاکت پر یتیم خانے کی رجسٹریشن درخواست مستردبرطانوی اداکار رسل برینڈ کے خلاف ریپ کے مقدمے کی سماعت جاریلاہور: ٹک ٹاکر خاتون پر تشدد کرنے والا ڈرائیور گرفتاربولی وڈ اداکار ٹائیگر شروف پر حملہ: اصل ہدف کوئی اور تھا، کرائم برانچ کا انکشافاسرائیلی قومی سلامتی کا نیا نقشہ: نیتن یاہو کی حکمت عملی پر سوالاتسعودی عرب میں مسجد کے تقدس کی پامالی پر دو غیر ملکیوں کو سزائے موتعرفات منہاس کا انگلینڈ کیخلاف شاندار کارکردگی پر اہم اعزاز اپنے نام
جرم و سزا

لاہور: ٹک ٹاکر خاتون پر تشدد کرنے والا ڈرائیور گرفتار

گجر پورہ پولیس نے متاثرہ خاتون کے ویڈیو بیان کی مدد سے ملزم کو حراست میں لے لیا۔

لاہور: ٹک ٹاکر خاتون پر تشدد کرنے والا ڈرائیور گرفتار

لاہور کے علاقے گجر پورہ میں پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے میں پولیس نے ٹک ٹاکر خاتون پر تشدد کرنے والے ڈرائیور کو گرفتار کر لیا ہے۔ ملزم پر الزام ہے کہ اس نے اپنی اہلیہ کے ہمراہ خاتون کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔

پولیس حکام کے مطابق متاثرہ خاتون نے واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بیان جاری کیا تھا جس میں انہوں نے ڈی آئی جی آپریشنز سے انصاف کی اپیل کی تھی۔ اس ویڈیو بیان کی مدد سے پولیس نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم خرم کو شناخت کر لیا۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق گرفتار ملزم متاثرہ خاتون کا ڈرائیور تھا اور اس نے حسد اور لالچ کی بنیاد پر خاتون کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے ملزم کو حراست میں لینے کے بعد مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کر دیا ہے۔

ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ خواتین اور بچوں پر تشدد کے واقعات کسی صورت قابل قبول نہیں ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے گا اور گرفتار ملزم کو سخت سزا دلوائی جائے گی۔

پولیس کا مزید کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں اور تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ متاثرہ خاتون کی جانب سے دی گئی درخواست پر قانونی کارروائی کا عمل تیزی سے مکمل کیا جا رہا ہے۔

خواتین کے تحفظ کے حوالے سے پنجاب پولیس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسے واقعات میں ملوث ملزمان کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔ متاثرین کی بروقت داد رسی کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے جہاں صارفین نے خاتون پر تشدد کی مذمت کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ تھانے کو دیں۔

گجر پورہ پولیس کی جانب سے کی گئی یہ کارروائی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مستعدی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش کے دوران مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں تاکہ ملزم کو عدالت سے قرار واقعی سزا دلوائی جا سکے۔

خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے اداروں نے بھی اس واقعے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ خاتون کو انصاف کی فراہمی میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔ پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے۔

واقعے کے بعد علاقے میں سکیورٹی کے انتظامات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔ پولیس کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ تفتیش شفاف انداز میں مکمل کی جائے گی۔

ملزم خرم سے مزید پوچھ گچھ جاری ہے جس میں تشدد کے محرکات اور اس کی اہلیہ کے کردار کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔ پولیس نے اس کیس کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

عدالتی کارروائی کے لیے بھی تمام ضروری دستاویزات تیار کی جا رہی ہیں تاکہ ملزم کو جلد از جلد کٹہرے میں لایا جا سکے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاتون کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا اور انہیں انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔

یہ واقعہ معاشرے میں عدم برداشت کے بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے جس پر قابو پانے کے لیے سماجی اور قانونی سطح پر اقدامات کی ضرورت ہے۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے پرعزم ہیں۔

جرم و سزا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں