مواد پر جائیں
بدھ، 21 اکتوبر 2026 10 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 8:17
بریکنگ
ٹائیگر شروف پر حملے کے بعد سلمان خان کی سکیورٹی میں غیر معمولی اضافہحج و عمرہ زائرین ویکسین اسکینڈل: بارڈر ہیلتھ سروسز کے سربراہ سمیت 3 افسران گرفتارفیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ ایران: اہم علاقائی امور پر تبادلہ خیالایم ڈی کیٹ نتائج اور سوالنامہ: پی ایم ڈی سی کا ہنگامی اجلاس طلبحکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی اضافہسرطان کے خلاف جنگ: طبی تحقیق اور سماجی ذمہ داریوں کا تقاضاکراچی: سعید آباد پولیس ٹریننگ سینٹر میں چھت کا پلستر گرنے سے دو خواتین اہلکار زخمیپاکستان میں منصفانہ ٹیکس نظام کا قیام ناگزیر ہے، جہاد ازورانٹرنیٹ پر وائرل ہونے والی تصویر میں نمبر 8 کی تعداد کتنی ہے؟ہندو برادری کا نوراتری کا تہوار مذہبی جوش و جذبے اور عقیدت سے جاریلاہور: مین شام نگر روڈ پر ترقیاتی کام التواء کا شکار، شہریوں کو مشکلات کا سامناخیبرپختونخوا حکومت کا دہشت گردی کی جنگ کے لیے ملنے والے 800 ارب روپے کا آڈٹ کرنے کا فیصلہوفاقی حکومت کا قومی بچت اسکیموں پر منافع کی شرح میں اضافہیمن: سرکاری فوج کے 700 سے زائد حملے، متعدد حوثی جنگجو ہلاکسعودی اور کویتی وزرائے خارجہ کا حوثی حملوں کی شدید مذمت کا اعادہسینٹ کام نے آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز کے بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کی تردید کر دیکراچی: ڈملوٹی سے پانی کی فراہمی کا نیا منصوبہ، 10 ملین گیلن یومیہ پانی ملے گاکراچی: مختلف علاقوں میں پولیس کے مبینہ مقابلے، 7 زخمیوں سمیت 12 ملزمان گرفتارسعودی شہزادی مشاعل بنت سعود بن محمد بن عبدالعزیز انتقال کر گئیںملتان: بچے کی ہلاکت پر یتیم خانے کی رجسٹریشن درخواست مسترد
پاکستان

کراچی: ڈملوٹی سے پانی کی فراہمی کا نیا منصوبہ، 10 ملین گیلن یومیہ پانی ملے گا

کراچی کے تاریخی آبی وسیلے ڈملوٹی سے ڈیفنس اور ملحقہ علاقوں کے لیے 14 ارب روپے کی لاگت سے پانی کی فراہمی کا منصوبہ شروع کر دیا گیا ہے۔

کراچی: ڈملوٹی سے پانی کی فراہمی کا نیا منصوبہ، 10 ملین گیلن یومیہ پانی ملے گا

کراچی کے شہریوں کے لیے پانی کی فراہمی ایک دیرینہ اور اہم مسئلہ رہا ہے، جس کے حل کے لیے اب تاریخی ڈملوٹی کے آبی نظام کو جدید خطوط پر بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ملیر کے تاریخی مقام ڈملوٹی سے ڈیفنس اور اس کے ملحقہ علاقوں کو روزانہ 10 ملین گیلن پانی فراہم کیا جائے گا۔

ڈملوٹی کا یہ آبی نظام تقریباً ڈیڑھ صدی قدیم ہے، جسے انیسویں صدی کے آخر میں کراچی کی بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے انجینئرنگ کے ایک شاہکار کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا۔ اس وقت کے ماہرین نے ملیر کے قدرتی جغرافیے اور زیر زمین پانی کے ذخائر کو استعمال میں لاتے ہوئے پانی کی فراہمی کا مربوط نظام قائم کیا تھا۔

تاریخی طور پر ڈملوٹی کے کنوؤں اور فلٹریشن گیلریوں کے ذریعے پانی حاصل کیا جاتا تھا، جس کی ابتدائی صلاحیت 5 ملین گیلن یومیہ تھی اور بعد میں اسے بڑھا کر 20 ملین گیلن تک پہنچایا گیا تھا۔ یہ نظام ملیر کینٹ، جامعہ کراچی اور شہر کے دیگر اہم علاقوں تک پانی پہنچانے کا ایک منظم ذریعہ تھا۔

نئے منصوبے پر تقریباً 14 ارب روپے کی لاگت آئے گی اور اسے 12 ماہ کی قلیل مدت میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے 38 کلومیٹر طویل نئی پائپ لائن بچھائی جائے گی تاکہ ڈی ایچ اے اور اس سے ملحقہ رہائشی علاقوں کو اضافی پانی کی فراہمی ممکن ہو سکے۔

کراچی کی موجودہ آبادی اور تجارتی ضروریات کے پیش نظر شہر کو روزانہ ایک ارب گیلن سے زائد پانی کی ضرورت ہے، جبکہ دستیاب پانی کی مقدار اس سے کافی کم ہے۔ اگرچہ 10 ملین گیلن کا یہ اضافہ پورے بحران کا حل نہیں، لیکن یہ شہر کے آبی نیٹ ورک کو بہتر بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈملوٹی کا نظام ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ پانی کے مسائل کا حل صرف بڑے ڈیموں میں نہیں بلکہ قدرتی آبی ذرائع اور زیر زمین پانی کے ذخائر کے تحفظ میں بھی پوشیدہ ہے۔ ملیر دریا اس پورے نظام کی بنیاد ہے، جس کے قدرتی ری چارج علاقوں کا تحفظ انتہائی ضروری ہے۔

منصوبے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ حاصل کردہ پانی کو ایک مربوط شہری واٹر گرڈ کا حصہ بنایا جائے اور ترسیلی نقصانات کو کم کیا جائے۔ پرانی لائنوں کی مرمت، غیر قانونی کنکشنز کا خاتمہ اور پانی کی تقسیم میں شفافیت لانا بھی ناگزیر ہے۔

جدید شہری انتظام میں پانی کی ہر بوند کا حساب رکھنا ضروری ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ پانی کس ذخیرے سے آیا اور کس علاقے میں کتنا تقسیم ہوا۔ کراچی جیسے بڑے شہر کے لیے ایک شفاف میٹرنگ اور نگرانی کا نظام اب وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔

شہری مساوات کے اصول کے تحت، نئے منصوبوں کا فائدہ شہر کے تمام حصوں تک پہنچنا چاہیے۔ ڈی ایچ اے کے ساتھ ساتھ دیگر علاقوں کے مکین بھی پانی جیسی بنیادی سہولت کے حق دار ہیں، جس کے لیے ایک جامع شہری حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

کراچی کے مسائل صرف پانی تک محدود نہیں ہیں بلکہ اس میں ٹرانسپورٹ، سیوریج اور بجلی جیسے دیگر چیلنجز بھی شامل ہیں۔ کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی اور جدید پبلک ٹرانسپورٹ کا قیام بھی شہر کی مجموعی ترقی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

ڈملوٹی کا یہ تاریخی ورثہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دور اندیش منصوبہ بندی سے شہروں کا مستقبل بدلا جا سکتا ہے۔ آج کے دور میں دستیاب جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی معلومات کو بروئے کار لا کر کراچی کے پانی کے بحران کو مستقل بنیادوں پر حل کیا جا سکتا ہے۔

حکام کو چاہیے کہ ڈملوٹی کے تاریخی کنوؤں اور آبی تنصیبات کی دستاویز بندی کریں اور انہیں ایک آبی ورثے کے طور پر محفوظ بنائیں۔ نئی نسل کو بھی اس بات سے آگاہ کرنا ضروری ہے کہ کراچی کے پانی کا سفر کس طرح ایک منظم نظام کے تحت شروع ہوا تھا۔

امید کی جا رہی ہے کہ یہ منصوبہ کراچی کے شہریوں کے لیے پانی کی قلت میں کمی کا باعث بنے گا۔ اگر اس منصوبے کو شفافیت اور بروقت تکمیل کے اصولوں کے ساتھ آگے بڑھایا گیا تو یہ شہر کے بہتر مستقبل کی جانب ایک مستحکم پیش رفت ثابت ہو گی۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں