امریکی انتظامیہ نے ان قیاس آرائیوں کی تردید کر دی ہے جن میں یہ کہا جا رہا تھا کہ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل امریکا ایران پر کوئی بڑا حملہ کر سکتا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی نائب ترجمان اینا کیلی نے ایک پریس بریفنگ کے دوران میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کا نومبر کے انتخابات سے قبل ایران پر کسی بھی قسم کے حملے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
اس بیان کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کیونکہ حالیہ دنوں میں خطے کی صورتحال اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث مختلف حلقوں میں جنگ کی افواہیں گردش کر رہی تھیں۔ وائٹ ہاؤس نے ان تمام دعووں کو مسترد کر دیا ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ کا ماننا ہے کہ ایران اس وقت معاشی اور عسکری دونوں لحاظ سے انتہائی کمزور پوزیشن میں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز میں ایرانی ناکہ بندی کے باوجود تیل کی ترسیل بدستور جاری ہے۔
اینا کیلی نے مزید کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی ریکارڈ سطح پر برقرار ہے اور کسی بھی قسم کی رکاوٹ کے باوجود امریکی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے ایران پر براہ راست حملے کے امکان کو یکسر مسترد کیا۔
اس سے قبل اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ ایرانی قیادت کے خاتمے کے منصوبے کی حمایت کرتے ہیں۔ تاہم وائٹ ہاؤس کے تازہ ترین بیان نے ان دعووں کو پس پشت ڈال دیا ہے۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ خود بھی اپنے بیانات میں اس بات کا عندیہ دے چکے ہیں کہ وہ انتخابات سے قبل کسی بڑی جنگی مہم جوئی سے گریز کریں گے۔ ان کا موقف ہے کہ ملکی مفادات کو ترجیح دینا ان کی اولین ذمہ داری ہے۔
امریکی سیاست میں وسط مدتی انتخابات انتہائی اہمیت کے حامل سمجھے جاتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنگی صورتحال سے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے، جس سے حکومتی مقبولیت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی طویل عرصے سے جاری ہے، تاہم وائٹ ہاؤس کا یہ بیان خطے میں موجودہ تناؤ کو کم کرنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ سفارتی حلقے اسے ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکا خطے میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھا جا سکے۔ کسی بھی جارحانہ اقدام سے گریز کرنا ہی اس وقت حکمت عملی ہے۔
مبصرین کے مطابق، امریکی انتظامیہ کا یہ بیان ان تمام خدشات کو ختم کرنے کے لیے کافی ہے جو ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ کے حوالے سے پیدا ہو رہے تھے۔ انتخابات تک صورتحال کو پرسکون رکھنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے اور یہاں ہونے والی کسی بھی کشیدگی کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ امریکا نے اس راستے کو کھلا رکھنے کے لیے اپنی عسکری موجودگی برقرار رکھی ہوئی ہے۔
مستقبل کے حوالے سے وائٹ ہاؤس نے کوئی حتمی لائحہ عمل جاری نہیں کیا، تاہم یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ فی الحال کسی بھی فوجی کارروائی کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ہے۔ انتظامیہ اپنی توجہ انتخابی امور پر مرکوز رکھے ہوئے ہے۔





اپنی رائے دیں