مواد پر جائیں
بدھ، 21 اکتوبر 2026 10 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 6:37
بریکنگ
حج و عمرہ زائرین ویکسین اسکینڈل: بارڈر ہیلتھ سروسز کے سربراہ سمیت 3 افسران گرفتارفیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ ایران: اہم علاقائی امور پر تبادلہ خیالایم ڈی کیٹ نتائج اور سوالنامہ: پی ایم ڈی سی کا ہنگامی اجلاس طلبحکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی اضافہاسلام آباد میں این سی سی آئی اے کا بڑا کریک ڈاؤن، 200 چینی باشندے گرفتارملتان: بچے کی ہلاکت پر یتیم خانے کی رجسٹریشن درخواست مستردبرطانوی اداکار رسل برینڈ کے خلاف ریپ کے مقدمے کی سماعت جاریلاہور: ٹک ٹاکر خاتون پر تشدد کرنے والا ڈرائیور گرفتاربولی وڈ اداکار ٹائیگر شروف پر حملہ: اصل ہدف کوئی اور تھا، کرائم برانچ کا انکشافاسرائیلی قومی سلامتی کا نیا نقشہ: نیتن یاہو کی حکمت عملی پر سوالاتسعودی عرب میں مسجد کے تقدس کی پامالی پر دو غیر ملکیوں کو سزائے موتعرفات منہاس کا انگلینڈ کیخلاف شاندار کارکردگی پر اہم اعزاز اپنے نامآن لائن فراڈ میں اضافہ: نوجوان نسل کو محتاط رہنے کی تنبیہسوشل میڈیا پر وائرل ‘اکتوبر تھیوری’ کیا ہے اور اس کی حقیقت کیا ہے؟امریکا کا نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں: وائٹ ہاؤسپاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی تعاون: خطے میں امن و استحکام کے لیے اہم پیش رفتچین: 12ویں منزل کی کھڑکی سے لٹکتی 3 سالہ بچی کو ریسکیو کر لیا گیاپاکستانی کرکٹ میں بہتری: طویل مدتی اصلاحات کی ضرورتانگلینڈ کے خلاف فتح، حسن نواز کا عرفات منہاس کی شاندار کارکردگی پر اظہارِ خیالنئی آٹو پالیسی: 5 سال میں 6 ارب ڈالر کی گاڑیوں کی برآمد کا ہدف مقرر
دنیا

چین: 12ویں منزل کی کھڑکی سے لٹکتی 3 سالہ بچی کو ریسکیو کر لیا گیا

ژانگ پنگ شہر میں ایک معصوم بچی کھڑکی کی جالی میں پھنس گئی تھی، پڑوسیوں اور فائر فائٹرز نے بروقت کارروائی کر کے زندگی بچا لی۔

چین: 12ویں منزل کی کھڑکی سے لٹکتی 3 سالہ بچی کو ریسکیو کر لیا گیا

چین کے شہر ژانگ پنگ میں ایک انتہائی خوفناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک تین سالہ بچی بلندی پر واقع فلیٹ کی کھڑکی سے لٹک گئی، تاہم بروقت امدادی کارروائی کے نتیجے میں اسے بحفاظت بچا لیا گیا۔

واقعہ اس وقت پیش آیا جب بچی کی والدہ اسے گھر میں اکیلا چھوڑ کر خریداری کے لیے باہر گئی تھیں۔ اس دوران بچی کسی طرح کھڑکی کے قریب پہنچ گئی اور وہاں لگی لوہے کی جالی میں پھنس کر باہر کی جانب لٹک گئی۔

بارہویں منزل کی بلندی پر معصوم بچی کو اس خطرناک حالت میں لٹکتا دیکھ کر نیچے موجود لوگوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ یہ منظر انتہائی دل دہلا دینے والا تھا جس نے دیکھنے والوں کی سانسیں روک دیں۔

بچی کو گرنے سے بچانے کے لیے وہاں موجود ایک سیکیورٹی گارڈ اور پڑوسیوں نے فوری طور پر مدد کا آغاز کیا۔ انہوں نے بچی کے نیچے ایک اسٹول تھام لیا تاکہ اگر اس کی گرفت کمزور پڑے تو اسے ممکنہ سہارا مل سکے۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی فائر فائٹرز کی ٹیم فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔ امدادی اہلکاروں نے انتہائی احتیاط اور مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ریسکیو آپریشن شروع کیا اور بچی کو بحفاظت کھڑکی سے اندر کھینچ لیا۔

خوش قسمتی سے اس حادثے میں بچی کو کسی قسم کی کوئی چوٹ نہیں آئی اور وہ مکمل طور پر محفوظ رہی۔ ریسکیو آپریشن کے دوران سنسنی خیز مناظر دیکھنے میں آئے جو بعد ازاں سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہو گئے۔

سوشل میڈیا صارفین نے اس واقعے کی ویڈیو دیکھنے کے بعد پڑوسیوں اور سیکیورٹی گارڈ کی فوری مدد اور ہمت کو بھرپور انداز میں سراہا۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ بروقت اقدامات نے ایک بڑی انسانی المیے کو روکنے میں مدد کی۔

اس واقعے نے والدین کے لیے ایک بار پھر انتباہی پیغام دیا ہے کہ چھوٹے بچوں کو گھر میں کبھی بھی اکیلا نہ چھوڑا جائے۔ ماہرین کے مطابق بچوں کی نگرانی میں ذرا سی غفلت سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔

ریسکیو حکام نے بھی شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے گھروں کی کھڑکیوں اور بالکونیوں کو محفوظ بنائیں تاکہ بچے ان تک نہ پہنچ سکیں۔ حفاظتی جالیوں اور گرلز کا درست ہونا ایسے حادثات سے بچاؤ کے لیے ضروری ہے۔

ژانگ پنگ کے رہائشیوں نے اس کامیاب ریسکیو آپریشن پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ فائر فائٹرز کی بروقت آمد اور پیشہ ورانہ مہارت نے نہ صرف بچی کی جان بچائی بلکہ علاقے میں پھیلی تشویش کو بھی ختم کر دیا۔

بچی کے والدین نے بھی امدادی ٹیموں اور پڑوسیوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر ان کی بیٹی کو بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ یہ واقعہ انسانی ہمدردی اور بروقت ردعمل کی ایک بہترین مثال ہے۔

اس قسم کے واقعات دنیا بھر میں پیش آتے رہتے ہیں جہاں بچوں کی معصومانہ شرارتیں یا غفلت کے باعث خطرناک صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کی نقل و حرکت پر گہری نظر رکھیں۔

حکام نے اس واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات کا اعادہ نہ ہو۔ عوامی مقامات اور رہائشی عمارتوں میں حفاظتی انتظامات کو مزید سخت کرنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں