وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے ایوان بالا کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے چیلنج سے نمٹنے کیلئے وفاقی حکومت تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کرنے کیلئے مکمل طور پر تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف آج بھی قومی سلامتی اور اس نوعیت کے اہم امور پر تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلنے کی پالیسی پر پوری طرح کاربند ہیں۔
انہوں نے ایوان کو تفصیل سے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان اور دہشت گردی کی جو صورتحال رہی ہے، اس پر متعلقہ صوبائی حکومت کی جانب سے وفاقی اداروں کو مطلوبہ تعاون فراہم نہیں کیا گیا، جبکہ اس کے برعکس بلوچستان میں صوبائی حکومت وفاقی پالیسیوں کے ساتھ بھرپور تعاون کر رہی ہے۔
رانا ثناء اللہ نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی ایک ایسا سنگین ناسور ہے جو کسی ایک صوبے یا کسی مخصوص جماعت کا نہیں بلکہ پورے ملک کا مشترکہ مسئلہ ہے، اس لیے تمام سیاسی قوتوں کو اپنی تمام تر ذاتی اور گروہی صف بندیوں سے بالاتر ہو کر سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا۔
انہوں نے ایوان کے توسط سے تمام سیاسی جماعتوں کو باضابطہ دعوت دی کہ وہ اس اہم ترین اور قومی سلامتی کے معاملے پر وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ بیٹھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ لیکن ملکی بقا کے لیے تمام قیادت کو ایک پلیٹ فارم پر آنا ہوگا۔
مشیر سیاسی امور نے ایوان میں گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت تشکیل پانے والی ایپکس کمیٹی کے فیصلوں اور اجلاسوں میں اپوزیشن کے اراکین شرکت کرنے سے گریز کرتے ہیں، حالانکہ ان اعلیٰ سطحی فورمز پر ملک کو درپیش چیلنجز پر ہمیشہ کھل کر اور نہایت سنجیدہ گفتگو کی جاتی ہے۔
انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ملک اس وقت حالت جنگ میں ہے اور دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن جنگ نبردآزما ہے جہاں ہمارے مخلص جوان آئے روز مادرِ وطن کی خاطر جام شہادت نوش کر رہے ہیں۔
انہوں نے حالیہ دنوں میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات اور ایک سکیورٹی میجر کی شہادت کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے دلخراش سانحات اس بات کا سخت تقاضا کرتے ہیں کہ پوری قوم اور تمام سیاسی قیادت یک زبان ہو کر دہشت گرد عناصر اور ان کے تمام سہولت کاروں کے خلاف صف آراء ہو جائیں۔
قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی صورتحال اور قیادت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ایک اہم انکشاف کیا کہ محمود اچکزئی قومی اسمبلی کے اسپیکر کے باضابطہ دستخطوں کے بعد اپوزیشن لیڈر کے منصب پر فائز ہوئے ہیں اور انہوں نے اس آئینی عہدے کا حلف بھی اٹھا لیا ہے۔ تاہم، انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اس سب کے باوجود محمود اچکزئی اسپیکر کے چیمبر میں جانے سے مسلسل گریزاں ہیں۔
رانا ثناء اللہ نے ایوان کو بتایا کہ وہ ذاتی طور پر محمود اچکزئی کے پاس گئے تھے اور انہیں پرخلوص مشورہ دیا تھا کہ وہ اپنی سیاسی ضد یا ہٹ دھرمی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کریں تاکہ پارلیمانی امور اور جمہوری عمل کو بہتر سمت میں آگے بڑھایا جا سکے، کیونکہ جمہوریت کے اندر بات چیت اور ڈائیلاگ کے دروازے کبھی بھی بند نہیں ہونے چاہئیں۔
ملکی سیاسی صورتحال اور حالیہ تنازعات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے شدید تنقید کی کہ ملاقاتوں کی آڑ میں کچھ عناصر جنہیں انہوں نے گالی گلوچ بریگیڈ سے تشبیہ دی، ریاستی اداروں کے خلاف مسلسل پروپیگنڈا بیانیہ تشکیل دے رہے ہیں، اس لیے اب پارلیمانی قواعد و ضوابط اور طے شدہ قوانین کے تحت اس قسم کی غیر ضروری ملاقاتوں اور سرگرمیوں کو محدود یا سختی سے ریگولیٹ کیا جائے گا۔
سابق وزیراعظم اور بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت اور حامیوں کا مجموعی رویہ شدید تضاد کا شکار دکھائی دیتا ہے، کیونکہ وہ کبھی عدالتی راستوں کے ذریعے جیل سے باہر آنے کی کوشش کرتے ہیں اور کبھی غیر ملکی شخصیات مثلاً امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مبینہ مداخلت کے ذریعے رہائی کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔
رانا ثناء اللہ نے اپنے خطاب کے اختتام پر ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت پاکستان ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والے عناصر کے خلاف بلاتعطل اور سخت کارروائیاں جاری رکھے گی اور ملک کو پرامن بنانے کیلئے تمام آئینی اور سیاسی راستے مکمل سنجیدگی کے ساتھ بروئے کار لائے جائیں گے۔
انہوں نے آخر میں تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ اپنے ذاتی اور پارٹی مفادات کو پس پشت ڈال کر قومی مفاد کو مقدم رکھیں اور ملک کو دہشت گردی کے اس ناسور سے پاک کرنے کیلئے ریاست اور مسلح افواج کا بھرپور ساتھ دیں۔





اپنی رائے دیں