آسٹریلیا میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جس میں آزاد رکن پارلیمنٹ ہیلن ہینز کو ان کے انتخابی دفتر کے باہر گاڑی سے ٹکر مار کر شدید زخمی کر دیا گیا ہے۔ یہ واقعہ ریاست وکٹوریہ کے شہر وانگاراٹا میں پیش آیا جس نے سیاسی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
پینسٹھ سالہ ہیلن ہینز کو واقعے کے فوری بعد ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی اور پھر انہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے میلبورن کے ایک بڑے ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق ان کی حالت تشویشناک ہے اور وہ زیر علاج ہیں۔
مقامی پولیس کے مطابق گاڑی چلانے والے تینتالیس سالہ شخص کو موقع پر موجود ایک بہادر شہری نے قابو کر لیا تھا۔ بعد ازاں پولیس نے ملزم کو حراست میں لے کر گاڑی کی تلاشی لی جس سے ایک چھری بھی برآمد ہوئی ہے۔
حکام اس بات کی گہرائی سے تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا یہ ایک دانستہ حملہ تھا یا کوئی حادثہ۔ تفتیش کار یہ بھی پتہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا ملزم کا ہیلن ہینز کے ساتھ ماضی میں کوئی تعلق یا تنازعہ رہا ہے۔
آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیزی نے اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے اسے بظاہر ایک دانستہ کارروائی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حملے کے محرکات کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا، تاہم تحقیقات جاری ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ ٹونی برک نے اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ عرصے میں سیاست دانوں کو ہراساں کرنے اور دھمکانے کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ مالی سال کے دوران ایسے واقعات کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
ہیلن ہینز سن دو ہزار انیس سے آسٹریلوی پارلیمنٹ کی رکن ہیں۔ وہ خاص طور پر بدعنوانی کے خاتمے کے لیے آواز اٹھانے اور شفافیت کے فروغ کے حوالے سے اپنی سیاسی شناخت رکھتی ہیں، جس کی وجہ سے وہ عوامی حلقوں میں کافی مقبول ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ فی الحال عوام کو کسی قسم کے مسلسل خطرے کا سامنا نہیں ہے۔ علاقے میں سیکیورٹی کے انتظامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور ملزم سے تفتیش کے دوران ہر پہلو کو مدنظر رکھا جا رہا ہے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔
وانگاراٹا شہر میں پیش آنے والے اس واقعے کے بعد سیاسی رہنماؤں اور عوام کی جانب سے مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے ہیلن ہینز کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔
آسٹریلوی میڈیا کے مطابق پولیس اس بات کی بھی جانچ کر رہی ہے کہ آیا ملزم ذہنی طور پر کسی دباؤ کا شکار تھا یا اس کے پیچھے کوئی منظم منصوبہ بندی کارفرما تھی۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی اس حوالے سے مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور تحقیقات میں پولیس کے ساتھ تعاون کریں۔ حکام کا عزم ہے کہ اس واقعے کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
ملک بھر میں اس واقعے کے بعد سیاست دانوں کی سیکیورٹی کے حوالے سے بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے عوامی نمائندوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے نئی حکمت عملی مرتب کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
ہیلن ہینز کی سیاسی جدوجہد اور ان کی عوامی خدمات کو دیکھتے ہوئے ان پر ہونے والے اس حملے کو جمہوریت پر حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ آسٹریلوی معاشرے میں اس قسم کے پرتشدد واقعات کو انتہائی ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے۔





اپنی رائے دیں