کراچی کے علاقے ناردرن بائی پاس پر ایک افسوسناک ٹریفک حادثہ پیش آیا ہے جس میں ایک تیز رفتار کار ڈرائیور کے قابو سے باہر ہو کر پل سے نیچے جا گری۔ اس حادثے کے نتیجے میں گاڑی میں سوار پانچ نوجوان شدید زخمی ہوئے ہیں۔
واقعہ سعدی گارڈن کے قریب پیش آیا جہاں گاڑی کی رفتار زیادہ ہونے کی وجہ سے ڈرائیور گاڑی پر اپنا کنٹرول برقرار نہ رکھ سکا۔ گاڑی پل کی حفاظتی دیوار سے ٹکرانے کے بعد نیچے جا گری، جس سے گاڑی کا اگلا حصہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس اور امدادی اداروں کی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ امدادی کارروائیوں کے دوران چھیپا کے رضا کاروں نے زخمیوں کو گاڑی سے نکال کر طبی امداد کے لیے قریبی نجی ہسپتال منتقل کیا۔
ہسپتال انتظامیہ کے مطابق زخمیوں میں ایک 12 سالہ لڑکا ثاقب بھی شامل ہے، جبکہ دیگر زخمیوں میں 17 سالہ زین، 22 سالہ مہران، 25 سالہ جنید اور 22 سالہ آفتاب شامل ہیں۔ تمام زخمیوں کو طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کی ابتدائی وجہ گاڑی کی تیز رفتاری معلوم ہوتی ہے تاہم واقعے کی مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ حادثے کے بعد علاقے میں ٹریفک کی روانی کچھ دیر کے لیے متاثر ہوئی جسے بعد ازاں بحال کر دیا گیا۔
ناردرن بائی پاس پر اس طرح کے حادثات اکثر پیش آتے رہتے ہیں جس کی بڑی وجہ سڑک پر گاڑیوں کی تیز رفتاری اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ شہریوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ یہاں حفاظتی اقدامات کو مزید بہتر بنایا جائے۔
ٹریفک پولیس نے ڈرائیوروں کو ہدایت کی ہے کہ شاہراہوں پر سفر کے دوران رفتار کو مقررہ حد کے اندر رکھیں تاکہ کسی بھی قسم کے جانی نقصان سے بچا جا سکے۔ تیز رفتاری نہ صرف ڈرائیور بلکہ دیگر مسافروں کی زندگیوں کے لیے بھی خطرہ ہے۔
زخمی ہونے والے نوجوانوں کے اہل خانہ کو واقعے کی اطلاع دے دی گئی ہے اور ہسپتال میں ان کی دیکھ بھال کی جا رہی ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد اب خطرے سے باہر قرار دیا جا رہا ہے۔
شہر میں بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات کے پیش نظر ٹریفک پولیس کی جانب سے آگاہی مہم بھی چلائی جا رہی ہے تاکہ حادثات کی شرح میں کمی لائی جا سکے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ڈرائیونگ کے دوران احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔
اس واقعے نے ایک بار پھر تیز رفتاری کے نقصانات کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے۔ حکام کی جانب سے اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا پل کے اس حصے پر اضافی حفاظتی رکاوٹیں لگانے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔
پولیس نے حادثے کا مقدمہ درج کر کے واقعے کے عینی شاہدین کے بیانات بھی قلمبند کیے ہیں۔ حادثے کا شکار ہونے والی گاڑی کو کرین کی مدد سے پل کے نیچے سے ہٹا دیا گیا ہے تاکہ ٹریفک کی روانی میں کوئی رکاوٹ نہ رہے۔
شہر کے دیگر مصروف راستوں پر بھی ٹریفک پولیس کی نفری تعینات کر دی گئی ہے تاکہ گاڑیوں کی رفتار پر نظر رکھی جا سکے۔ انتظامیہ کا عزم ہے کہ سڑکوں کو محفوظ بنانے کے لیے مزید سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
عوام سے بھی گزارش کی گئی ہے کہ وہ ٹریفک قوانین کی پاسداری کریں اور دورانِ سفر سیٹ بیلٹ کا استعمال یقینی بنائیں۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں امدادی اداروں کو فوری اطلاع دیں تاکہ بروقت کارروائی ممکن ہو سکے۔





اپنی رائے دیں