مواد پر جائیں
منگل، 20 اکتوبر 2026 9 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 3:17
بریکنگ
قلات اور گوادر میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 4 دہشتگرد ہلاک، میجر وجاہت وحید شہیدآسٹریلیا: وفاقی رکن پارلیمنٹ گاڑی کی ٹکر سے شدید زخمی، حالت تشویشناکدہشتگردی کرنے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جانا چاہیے: نواز شریفکراچی: سائٹ ایریا میں گارمنٹس فیکٹری کے گودام میں دوبارہ آگ بھڑک اٹھیسوشل میڈیا پر ریاست مخالف مواد کا معاملہ، اقرار الحسن عدالتی ریمانڈ پر جیل منتقللاہور: مزنگ اڈا میں گیس سلنڈر لیک ہونے سے آگ بھڑک اٹھی، 2 افراد زخمیسعودی عرب کے دفاع کے لیے مصری پارلیمان کی منظوری، فوجی کردار پر بحث تیزاسرائیلی پارلیمانی انتخابات: سیاسی جوڑ توڑ اور مختلف جماعتوں کی پوزیشنوزیراعظم شہباز شریف کا دانش اسکولوں کے فروغ پر زورکراچی: ناردرن بائی پاس پر کار پل سے نیچے جا گری، 5 نوجوان زخمیلاہور: گلاب دیوی اسپتال میں ڈاکٹر اور مریض کے لواحقین میں جھگڑا، دو خواتین گرفتارملتان میں گاڑی کی ٹکر سے جاں بحق نوآموز الیکٹریشن کا معاملہ، ملزم توقیر کا بیان سامنے آگیاورلڈ فوڈ پروگرام نے فنڈز کی کمی پر غزہ میں امداد نصف کر دیروزانہ پھلوں کا استعمال ڈپریشن اور انزائٹی کا خطرہ کم کرتا ہےکراچی میں نوجوان گلوکارہ ایمن زارا کی پہلی سولو پرفارمنسغزہ کیلیے عالمی فورس کی تیاری، امریکی قیادت میں مراکش کے 500 اہلکاروں کی خصوصی ٹریننگایل پی جی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، تمام ریکارڈ ٹوٹ گئےحکومتی قرضوں میں روزانہ اضافے کی خبر نامکمل اور گمراہ کن ہے: وزارتِ خزانہحکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا اعلان کر دیاپیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا اعلان
جرم و سزا

ملتان میں گاڑی کی ٹکر سے جاں بحق نوآموز الیکٹریشن کا معاملہ، ملزم توقیر کا بیان سامنے آگیا

ملتان کی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں گاڑی تلے کچلے جانے والے پندرہ سالہ وسیم کے معاملے میں گرفتار ملزم توقیر نذیر نے پولیس کو ابتدائی بیان دے دیا ہے۔

ملتان میں گاڑی کی ٹکر سے جاں بحق نوآموز الیکٹریشن کا معاملہ، ملزم توقیر کا بیان سامنے آگیا

ملتان کے علاقے میں پیش آنے والے ایک دلخراش واقعے میں نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے اندر پندرہ سالہ لڑکے وسیم کو گاڑی تلے کچل دیے جانے کے معاملے کی تحقیقات کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔ پولیس حکام نے اس ضمن میں فوری کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم توقیر نذیر کو حراست میں لے لیا ہے اور اس کے خلاف باضابطہ طور پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

گرفتار ملزم توقیر نذیر نے پولیس کے سامنے اپنے ابتدائی بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ وہ طالبعلم وسیم کو صرف روکنا چاہتا تھا اور اس کا ارادہ ہرگز اسے نقصان پہنچانے کا نہیں تھا۔ ملزم کے مطابق مقتول نوجوان اس کے پاس الیکٹریشن کا کام سیکھنے کے لیے آتا تھا اور وہ اکثر کام کے دوران وہاں سے بھاگ جایا کرتا تھا۔

ملزم کا اپنے بیان میں مزید کہنا تھا کہ واقعے کے روز اس نے وسیم کو پکڑنے کی غرض سے اپنی گاڑی اس کے پیچھے دوڑائی تھی تاکہ اسے قابو کیا جا سکے۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ گاڑی کی رفتار بڑھا کر صرف لڑکے کا راستہ روکنا چاہ رہا تھا لیکن بدقسمتی سے اس دوران گاڑی کی زد میں آ کر نوجوان شدید زخمی ہو گیا۔

دوسری جانب یتیم خانے کے منتظمین نے اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پندرہ سالہ مقتول وسیم عباس ایک یتیم بچہ تھا اور دارالامان یا فلاحی ادارے کے زیر سایہ رہائش پذیر تھا۔ اسے بہتر مستقبل اور روزگار کے حصول کے لیے ہنر سکھانے کی غرض سے ملزم توقیر نذیر کے حوالے کیا گیا تھا تاکہ وہ الیکٹریکل کا کام سیکھ سکے۔

آرفن ہاؤس کے ایڈمنسٹریٹر جواد حیدر کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق مقتول وسیم عباس یتیم تھا اور یتیم خانے میں ہی مقیم رہتا تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مقتول وسیم کو باقاعدہ طور پر کام سیکھنے کی غرض سے ملزم توقیر نذیر کے سپرد کیا گیا تھا تاکہ وہ زندگی میں اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکے۔

پولیس حکام کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقاتی مرحلے میں مقتول وسیم پر چوری یا کسی بھی قسم کے غیر قانونی فعل کا کوئی ثبوت نہیں مل سکا ہے۔ پولیس کا بتانا ہے کہ ملزم توقیر مختلف عمارتوں اور گھروں میں بجلی کے کام کے ٹھیکے لینے کا کام کرتا تھا اور اس کے علاوہ بھی یتیم خانے کے دیگر بچے اس کے پاس تربیت حاصل کرنے کے لیے آتے رہے ہیں۔

اس المناک واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر دستیاب شواہد کی روشنی میں مزید تفتیش کا عمل جاری ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ واقعہ محض حادثہ تھا یا اس کے پیچھے کوئی اور محرکات کارفرما تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد حقائق کو مکمل طور پر عوام اور عدالت کے سامنے لایا جائے گا۔

شہر کے سماجی حلقوں اور فلاحی اداروں کے نمائندوں نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ بچوں کو کام پر رکھنے والے افراد کے حوالے سے سخت ضابطہ اخلاق بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یتیم خانوں سے تربیت کے لیے بھیجے جانے والے بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے انتظامیہ کو مزید مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

مفصل تفتیش کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ سے تمام تر اہم شواہد اکٹھے کر لیے ہیں جن کی روشنی میں ملزم کے بیانات کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔ پولیس حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملزم توقیر کے ماضی کے ریکارڈ اور اس کے زیر تربیت رہنے والے دیگر بچوں سے بھی پوچھ گچھ کی جا سکتی ہے تاکہ اس امر کا تعین کیا جا سکے کہ آیا اس طرح کے واقعات کی کوئی اور وجوہات تو نہیں۔

مقتول وسیم کے لواحقین اور یتیم خانے کی انتظامیہ نے حکومت اور اعلیٰ عدلیہ سے پُر زور مطالبہ کیا ہے کہ اس پورے معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک غریب اور یتیم بچے کی اس طرح بے دردی سے موت انتہائی افسوسناک ہے اور ملوث شخص کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا دی جانی چاہیے تاکہ آئندہ اس قسم کے انسانی جانوں کے زیاں کا سدباب ہو سکے۔

پولیس ترجمان کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی رپورٹس میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ واقعے کا مقدمہ پولیس کی اپنی مدعیت میں درج کیا گیا ہے جس میں نامزد ملزم کو تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش کے اگلے مراحل مکمل ہونے کے بعد چالان جلد از جلد عدالت میں پیش کیا جائے گا جہاں قانونی کارروائی کا آغاز ہوگا۔

علاقے کے مکینوں نے اس دلخراش سانحے کے بعد گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ نو عمر بچوں سے کام کروانے والے افراد کی باقاعدہ مانیٹرنگ ہونی چاہیے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ فلاحی اداروں سے بچوں کو اس طرح ہنر سکھانے کے لیے بھیجتے وقت اس بات کی مکمل ضمانت لی جانی چاہیے کہ ان کی جان و مال پوری طرح محفوظ ہاتھوں میں ہو۔

تمام تر دستیاب معلومات اور ابتدائی بیانات کی روشنی میں پولیس کا کہنا ہے کہ وہ انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اس کیس کی ہر زاویے سے تفتیش کر رہی ہے۔ میڈیا اور عوام کو تحقیقات میں ہونے والی پیش رفت سے وقتاً فوقتاً آگاہ کیا جاتا رہے گا تاکہ اس سانحے کے تمام حقائق واضح ہو سکیں۔

جرم و سزا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں