اوکاڑہ کے علاقے تھانہ صدر رینالہ خورد میں پولیس نے ایک اہم کارروائی کے دوران انتہائی مطلوب ڈاکو کو ہلاک کر دیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ تھانہ صدر کی حدود میں واقع 3 ون ایل موڑ کے قریب پیش آیا جہاں پولیس ٹیم اور جرائم پیشہ افراد کا آمنا سامنا ہوا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں معمول کی گشت کے دوران مشکوک افراد کو رکنے کا اشارہ کیا گیا تھا۔ پولیس کی جانب سے رکنے کے اشارے پر ملزمان نے پولیس پارٹی پر فائرنگ شروع کر دی جس کے بعد جوابی کارروائی کا آغاز کیا گیا۔
فائرنگ کے اس تبادلے کے نتیجے میں ایک ڈاکو موقع پر ہی ہلاک ہو گیا جبکہ اس کے دو ساتھی رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قریبی کھیتوں اور جھاڑیوں کی آڑ لے کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
ہلاک ہونے والے ڈاکو کی شناخت اللہ رکھا کے نام سے ہوئی ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزم انتہائی خطرناک تھا اور وہ اقدام قتل، ڈکیتی اور راہزنی سمیت سنگین نوعیت کے 51 مختلف مقدمات میں پولیس کو طویل عرصے سے مطلوب تھا۔
پولیس نے جائے وقوعہ سے ملزم کے قبضے سے ایک موٹر سائیکل اور جدید اسلحہ برآمد کر لیا ہے۔ لاش کو ضابطے کی قانونی کارروائی اور شناخت کے عمل کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ مزید تفتیشی تقاضے پورے کیے جا سکیں۔
واقعے کے بعد پولیس کی بھاری نفری نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے لیا اور علاقے میں سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا گیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ فرار ہونے والے ملزمان کی تلاش کے لیے قریبی علاقوں میں ناکہ بندی بھی سخت کر دی گئی ہے۔
ڈی پی او اوکاڑہ ڈاکٹر اسد اعجاز نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے فرار ہونے والے ملزمان کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی ہے کہ ملزمان کو ہر صورت قانون کی گرفت میں لایا جائے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ فرار ملزمان کے بارے میں سراغ لگانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس ذرائع کی مدد بھی لی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق ملزمان کے نیٹ ورک کا پتہ لگانے کے لیے بھی تفتیش کو وسیع کر دیا گیا ہے۔
علاقہ مکینوں نے پولیس کی اس کارروائی کو سراہا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ علاقے میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مزید سخت اقدامات کیے جائیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ عوام کا تعاون جرائم کے خاتمے کے لیے انتہائی ناگزیر ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق ہلاک ہونے والا ملزم اللہ رکھا علاقے میں خوف کی علامت بنا ہوا تھا۔ اس کے خلاف درج 51 مقدمات اس کی مجرمانہ سرگرمیوں کی سنگینی کا ثبوت ہیں، جن میں قتل کی وارداتیں بھی شامل تھیں۔
رینالہ خورد کے اس علاقے میں پولیس کی جانب سے گشت کے نظام کو مزید موثر بنایا جا رہا ہے۔ ڈی پی او نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی مجرم کو قانون سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور امن و امان کا قیام اولین ترجیح ہے۔
پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کے بارے میں فوری طور پر قریبی تھانے یا ہیلپ لائن پر اطلاع دیں۔ پولیس کی جانب سے مخبروں کا نام صیغہ راز میں رکھنے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے۔
مستقبل میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے پولیس نے حکمت عملی کو مزید بہتر بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ علاقے میں پولیس کی موجودگی کو بڑھایا جا رہا ہے تاکہ جرائم پیشہ افراد کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جا سکے۔




اپنی رائے دیں