بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز کی جانب سے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں صوبے کے مختلف اضلاع میں کی گئی کارروائیوں کے دوران 8 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ کارروائیاں کوئٹہ، نوشکی اور خضدار کے علاقوں میں کی گئیں۔ ان آپریشنز کا بنیادی مقصد علاقے میں سرگرم دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو توڑنا اور امن کو یقینی بنانا تھا۔
تفصیلات کے مطابق 17 اکتوبر کو پنج پائی کے علاقے میں دہشت گردوں نے سڑک پر رکاوٹیں کھڑی کر کے شہریوں کی نقل و حرکت کو متاثر کرنے کی کوشش کی۔ سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ان کی اس مذموم کوشش کو ناکام بنا دیا۔
فورسز کی جانب سے کی گئی جوابی کارروائی کے دوران 5 دہشت گرد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ اس دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے کو بھی کامیابی سے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا، جو علاقے میں تخریب کاری کے لیے استعمال ہو رہا تھا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں شدید فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا جس کے نتیجے میں مزید 2 دہشت گرد مارے گئے۔ اس آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے قبضے سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا ہے۔
دوسری جانب خضدار میں بھی سیکیورٹی فورسز نے ایک کامیاب انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن مکمل کیا۔ اس کارروائی کے دوران فورسز نے دہشت گردوں کے ایک اہم ٹھکانے کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ایک دہشت گرد ہلاک ہو گیا۔
خضدار میں ہونے والی اس کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز نے 490 کلوگرام وزنی دھماکا خیز مواد بھی قبضے میں لیا ہے۔ یہ دھماکا خیز مواد علاقے میں بڑی تباہی پھیلانے کے لیے جمع کیا گیا تھا جسے بروقت کارروائی سے ناکام بنا دیا گیا۔
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ یہ دہشت گرد بیرونی حمایت اور سرپرستی میں سرگرم تھے جو بلوچستان میں بدامنی پھیلانے کے درپے تھے۔ فورسز نے ان کے نیٹ ورک کو کمزور کرنے کے لیے گھیرا تنگ کر دیا ہے۔
آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ علاقے میں دیگر دہشت گردوں کی تلاش اور خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشنز کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ فورسز ہر قیمت پر علاقے کو دہشت گردی کے عناصر سے پاک کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بیرونی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک یہ کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔
حکومت اور سیکیورٹی اداروں کی جانب سے بلوچستان میں امن کے قیام کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔ ان آپریشنز کو مقامی سطح پر بھی سراہا جا رہا ہے کیونکہ اس سے تخریب کاروں کے عزائم کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
بلوچستان کے عوام نے بھی سیکیورٹی فورسز کی ان کوششوں پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف یہ کامیابیاں سیکیورٹی اداروں کی پیشہ ورانہ مہارت اور انٹیلیجنس نیٹ ورک کی مضبوطی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
مستقبل میں بھی ایسی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہے گا تاکہ صوبے میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔ سیکیورٹی فورسز نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ اداروں کو دیں تاکہ بروقت کارروائی ممکن ہو سکے۔





اپنی رائے دیں