شہر قائد کے علاقے کورنگی میں افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ضیاء کالونی کے ایک گھر سے 20 سالہ نوجوان کی پھندا لگی لاش برآمد ہوئی ہے۔ اطلاع ملتے ہی امدادی ادارے حرکت میں آئے اور لاش کو اپنی تحویل میں لے کر ضروری کارروائی کے لیے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر منتقل کر دیا۔
ایدھی حکام کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ کورنگی کی ضیاء کالونی میں واقع گلی نمبر 12 کے مکان نمبر 425 میں پیش آیا۔ مقامی لوگوں نے گھر سے لاش ملنے کی اطلاع دی جس کے بعد ایدھی ایمبولینس سروس نے موقع پر پہنچ کر لاش کو ہسپتال پہنچایا۔
جاں بحق ہونے والے نوجوان کی شناخت عمان کے نام سے کی گئی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق نوجوان کی موت پھندا لگنے کے باعث ہوئی ہے، تاہم پولیس اور متعلقہ حکام نے واقعے کی مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ موت کی اصل وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد سے بظاہر یہ خودکشی کا واقعہ معلوم ہوتا ہے، تاہم حتمی رپورٹ پوسٹ مارٹم کے بعد ہی سامنے آئے گی۔ حکام اس پہلو سے بھی تفتیش کر رہے ہیں کہ آیا اس واقعے کے پیچھے کوئی اور محرکات تو کارفرما نہیں تھے۔
علاقہ مکینوں نے اس واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور گھر کے دیگر افراد اور ورثاء سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے تاکہ حقائق تک پہنچا جا سکے۔
شہر میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے سماجی حلقوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نوجوان نسل میں بڑھتی ہوئی ذہنی دباؤ کی کیفیت کو سمجھنے اور ان کی کونسلنگ کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ قیمتی جانوں کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔
پولیس حکام کا مزید کہنا ہے کہ قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد لاش ورثاء کے حوالے کر دی جائے گی۔ واقعے کی مزید تفصیلات تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی میڈیا کے ساتھ شیئر کی جائیں گی تاکہ کسی بھی قسم کے ابہام کو دور کیا جا سکے۔
کراچی میں گزشتہ کچھ عرصے کے دوران گھروں کے اندر اس طرح کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے جس پر انتظامیہ کو بھی متوجہ ہونے کی ضرورت ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس ضمن میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں تاکہ صورتحال کو کنٹرول کیا جا سکے۔
واقعے کے بعد علاقے میں سوگ کی فضا قائم ہے۔ پولیس نے ضیاء کالونی کے اس گھر کو سیل کر کے مزید شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے تاکہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کو خارج از امکان قرار دیا جا سکے۔
جناح ہسپتال کے شعبہ حادثات میں لاش لائے جانے کے بعد ڈاکٹروں نے موت کی تصدیق کی ہے۔ ہسپتال انتظامیہ نے قانونی کارروائی کے لیے پولیس کو مطلع کر دیا ہے تاکہ ضابطہ اخلاق کے مطابق پوسٹ مارٹم اور دیگر قانونی مراحل مکمل کیے جا سکیں۔
اس افسوسناک واقعے نے اہل علاقہ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ نوجوان کی موت کے اسباب جاننے کے لیے پولیس کی جانب سے مختلف پہلوؤں پر غور کیا جا رہا ہے، جس میں گھریلو حالات اور دیگر سماجی مسائل بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
پولیس کی جانب سے علاقے میں موجود سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے بھی معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش کے دوران جو بھی حقائق سامنے آئیں گے، ان سے میڈیا اور عوام کو آگاہ کیا جائے گا۔
ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے اہل علاقہ نے ورثاء سے تعزیت کی ہے۔ اس طرح کے واقعات معاشرتی سطح پر گہری تشویش کا باعث بنتے ہیں اور ان کی روک تھام کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔





اپنی رائے دیں