مواد پر جائیں
پیر، 19 اکتوبر 2026 8 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 3:58
بریکنگ
بلوچستان: سیکیورٹی فورسز کے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز میں 8 دہشت گرد ہلاکیمن میں حوثی باغیوں کے خلاف آپریشن ڈان آف یمن جاری، 1326 حملےبالی ووڈ اداکار ٹائیگر شیروف پر حملہ، گاڑی پر فائرنگ سے مداح تشویش میں مبتلاآزاد کشمیر میں بدامنی کیلئے بھارتی سازش اور کالعدم تنظیم کا گٹھ جوڑ بے نقابخیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ: قومی سلامتی اور سیاسی استحکام کا تقاضادانش اسکول کا دائرہ کار پورے پاکستان تک وسیع کرنے کا اعلانایران کی امریکا کو سات روزہ تجویز، شرائط ماننے پر آبنائے ہرمز کھولنے کا عندیہبالی وڈ اداکار ٹائیگر شروف فائرنگ کے واقعے میں محفوظ رہےکراچی میں غیر ملکیوں کو لوٹنے والا بڑا سائبر فراڈ نیٹ ورک بے نقاببولان: مزدا اور کار میں تصادم، خواتین اور بچوں سمیت 4 افراد جاں بحقممبئی میں بالی ووڈ اداکار ٹائیگر شیروف کی گاڑی پر فائرنگ، اداکار محفوظراولپنڈی: ون ویلنگ سے روکنے پر فائرنگ، خاتون سمیت 3 افراد زخمیبھارتی اداکار ٹائیگر شروف پر قاتلانہ حملہ، ڈرائیور سمیت تین افراد زخمیایسی غذائیں جو فریج کے بغیر بھی برسوں تک خراب نہیں ہوتیںکراچی: کورنگی میں 20 سالہ نوجوان کی پھندا لگی لاش برآمدپاکستان میں غربت کی شرح کورونا وبا سے قبل کی سطح سے زیادہ، عالمی بینک کی رپورٹاوکاڑہ: پولیس مقابلے میں 51 مقدمات میں مطلوب خطرناک ڈاکو ہلاکایران کی آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کیلئے 7 روزہ منصوبے کی پیشکشروس کا ایران اور امریکہ کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر واپس آنے کا مطالبہکینیڈا کے شہر ایڈمنٹن میں خالصتان ریفرنڈم کے لیے ووٹنگ کا انعقاد
دنیا بریکنگ نیوز

یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف آپریشن ڈان آف یمن جاری، 1326 حملے

یمنی فوج نے مارب اور تعز کے محاذوں پر پیش قدمی کرتے ہوئے حوثی باغیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف آپریشن ڈان آف یمن جاری، 1326 حملے

یمن کی مسلح افواج نے ملک میں جاری کشیدگی کے دوران حوثی باغیوں کے خلاف جاری 'آپریشن ڈان آف یمن' میں بڑی کامیابیوں کا دعویٰ کیا ہے۔ سرکاری فورسز کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران حوثی ٹھکانوں پر 1,326 حملے کیے گئے ہیں۔

فوجی ترجمان کے مطابق ان کارروائیوں میں حوثی باغیوں کے اجتماعات، فوجی گاڑیوں، قلعہ بند ٹھکانوں اور فائرنگ کی پوزیشنز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس آپریشن میں یمنی فضائیہ کے جنگی طیاروں اور جدید ڈرونز نے بھرپور حصہ لیا جس سے باغیوں کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔

ابتدائی فوجی جائزے کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران تقریباً 370 حوثی جنگجو ہلاک یا غیر مؤثر ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ درجنوں فوجی گاڑیاں اور عسکری تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ یا ناکارہ کر دیا گیا ہے، جس سے باغیوں کی آپریشنل صلاحیتوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔

مارب کے مغربی علاقے میں واقع مشرقی محاذ پر سرکاری فورسز نے اہم پیش قدمی کی ہے۔ اس پیش قدمی کے نتیجے میں باغیوں کی نقل و حرکت اور کمک پہنچانے کے راستوں کو محدود کر دیا گیا ہے، جس سے ان کی دفاعی پوزیشن کمزور پڑ گئی ہے۔

جنوبی اور مغربی محاذوں پر بھی سرکاری فوج نے دباؤ برقرار رکھا ہوا ہے۔ ان علاقوں میں حوثی باغیوں کی فوجی صف بندی کو درہم برہم کر دیا گیا ہے، جس سے ان کے لیے مزید کمک منتقلی اور نئے مورچے سنبھالنا مشکل ہو گیا ہے۔

تعز کے محاذ پر سرکاری فورسز اور عوامی مزاحمتی گروپوں نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے متعدد اہم پوزیشنز کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ اس دوران باغیوں کے زیر استعمال بھاری ہتھیار اور دیگر عسکری سازوسامان بھی سرکاری فوج کے قبضے میں آ گیا ہے۔

فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ تمام حملے انتہائی درستگی کے ساتھ صرف فوجی اہداف پر کیے گئے ہیں۔ شہری آبادی اور اہم شہری تنصیبات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام تر احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی ہیں تاکہ عام شہریوں کو نقصان نہ پہنچے۔

یمنی فوج کی جانب سے جاری کردہ یہ اعداد و شمار ابتدائی نوعیت کے ہیں اور ان کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن کے مقاصد کے حصول تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔

واضح رہے کہ یمن میں جاری خانہ جنگی کے باعث ملک کو شدید انسانی بحران کا سامنا ہے۔ سرکاری فورسز کی جانب سے حوثیوں کے خلاف یہ کارروائیاں ملک میں امن و امان کی بحالی اور ریاستی رٹ قائم کرنے کی کوششوں کا حصہ سمجھی جا رہی ہیں۔

عرب میڈیا کے مطابق یمنی فوج کی حالیہ پیش قدمی نے حوثی باغیوں کی سپلائی لائنوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر آنے والے دنوں میں محاذوں پر مزید تبدیلیوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

حوثی باغیوں کی جانب سے تاحال ان نقصانات کے حوالے سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ سرکاری فورسز نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کرتے ہوئے باغیوں پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔

عالمی برادری یمن میں جاری اس طویل تنازع کے پرامن حل کے لیے کوشاں ہے۔ تاہم زمینی صورتحال کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان فوجی محاذ آرائی میں شدت دیکھی جا رہی ہے جس سے خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔

یمنی عوام کو امید ہے کہ سرکاری فورسز کی جانب سے کی جانے والی یہ کارروائیاں ملک میں جاری غیر یقینی صورتحال کے خاتمے اور پائیدار امن کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوں گی۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں