یمن کی مسلح افواج نے ملک میں جاری کشیدگی کے دوران حوثی باغیوں کے خلاف جاری 'آپریشن ڈان آف یمن' میں بڑی کامیابیوں کا دعویٰ کیا ہے۔ سرکاری فورسز کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران حوثی ٹھکانوں پر 1,326 حملے کیے گئے ہیں۔
فوجی ترجمان کے مطابق ان کارروائیوں میں حوثی باغیوں کے اجتماعات، فوجی گاڑیوں، قلعہ بند ٹھکانوں اور فائرنگ کی پوزیشنز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس آپریشن میں یمنی فضائیہ کے جنگی طیاروں اور جدید ڈرونز نے بھرپور حصہ لیا جس سے باغیوں کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔
ابتدائی فوجی جائزے کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران تقریباً 370 حوثی جنگجو ہلاک یا غیر مؤثر ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ درجنوں فوجی گاڑیاں اور عسکری تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ یا ناکارہ کر دیا گیا ہے، جس سے باغیوں کی آپریشنل صلاحیتوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔
مارب کے مغربی علاقے میں واقع مشرقی محاذ پر سرکاری فورسز نے اہم پیش قدمی کی ہے۔ اس پیش قدمی کے نتیجے میں باغیوں کی نقل و حرکت اور کمک پہنچانے کے راستوں کو محدود کر دیا گیا ہے، جس سے ان کی دفاعی پوزیشن کمزور پڑ گئی ہے۔
جنوبی اور مغربی محاذوں پر بھی سرکاری فوج نے دباؤ برقرار رکھا ہوا ہے۔ ان علاقوں میں حوثی باغیوں کی فوجی صف بندی کو درہم برہم کر دیا گیا ہے، جس سے ان کے لیے مزید کمک منتقلی اور نئے مورچے سنبھالنا مشکل ہو گیا ہے۔
تعز کے محاذ پر سرکاری فورسز اور عوامی مزاحمتی گروپوں نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے متعدد اہم پوزیشنز کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ اس دوران باغیوں کے زیر استعمال بھاری ہتھیار اور دیگر عسکری سازوسامان بھی سرکاری فوج کے قبضے میں آ گیا ہے۔
فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ تمام حملے انتہائی درستگی کے ساتھ صرف فوجی اہداف پر کیے گئے ہیں۔ شہری آبادی اور اہم شہری تنصیبات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام تر احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی ہیں تاکہ عام شہریوں کو نقصان نہ پہنچے۔
یمنی فوج کی جانب سے جاری کردہ یہ اعداد و شمار ابتدائی نوعیت کے ہیں اور ان کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن کے مقاصد کے حصول تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔
واضح رہے کہ یمن میں جاری خانہ جنگی کے باعث ملک کو شدید انسانی بحران کا سامنا ہے۔ سرکاری فورسز کی جانب سے حوثیوں کے خلاف یہ کارروائیاں ملک میں امن و امان کی بحالی اور ریاستی رٹ قائم کرنے کی کوششوں کا حصہ سمجھی جا رہی ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق یمنی فوج کی حالیہ پیش قدمی نے حوثی باغیوں کی سپلائی لائنوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر آنے والے دنوں میں محاذوں پر مزید تبدیلیوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
حوثی باغیوں کی جانب سے تاحال ان نقصانات کے حوالے سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ سرکاری فورسز نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کرتے ہوئے باغیوں پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔
عالمی برادری یمن میں جاری اس طویل تنازع کے پرامن حل کے لیے کوشاں ہے۔ تاہم زمینی صورتحال کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان فوجی محاذ آرائی میں شدت دیکھی جا رہی ہے جس سے خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔
یمنی عوام کو امید ہے کہ سرکاری فورسز کی جانب سے کی جانے والی یہ کارروائیاں ملک میں جاری غیر یقینی صورتحال کے خاتمے اور پائیدار امن کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوں گی۔





اپنی رائے دیں