ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خطے کی صورتحال پر اہم بیان دیا ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے اور کشیدگی کم کرنے کیلئے ایک سات روزہ ٹھوس منصوبہ پیش کیا ہے۔
عباس عراقچی کے مطابق یہ امن منصوبہ قطر کے توسط سے متعلقہ فریقین تک پہنچایا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب گیند امریکا کے کورٹ میں ہے اور اس منصوبے پر عمل درآمد کا حتمی فیصلہ واشنگٹن کی جانب سے کیا جانا باقی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ ایران نے ہمیشہ اپنے عوام، ملکی خودمختاری اور قومی مفادات کا دفاع کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے کیے گئے اقدامات دراصل دفاعی نوعیت کے تھے جو ملکی سلامتی کیلئے ضروری تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے کبھی اپنے پڑوسی ممالک پر جارحیت نہیں کی اور نہ ہی کسی ملک کے خلاف پہل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے جو بھی کارروائیاں کیں وہ امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو ہدف بنانے تک محدود تھیں۔
عباس عراقچی نے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے یہ اڈے ہمارے پڑوس میں واقع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان اڈوں کی موجودگی خطے میں عدم استحکام کا باعث بنتی ہے اور کشیدگی میں اضافے کا سبب ہے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت بالخصوص توانائی کی ترسیل کیلئے ایک انتہائی اہم گزرگاہ ہے۔ دنیا بھر کا ایک بڑا حصہ تیل اور گیس کی سپلائی کیلئے اسی آبی گزرگاہ پر انحصار کرتا ہے، جس کی وجہ سے یہاں امن و امان عالمی اہمیت کا حامل ہے۔
ماضی میں بھی آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران اور مغربی ممالک کے درمیان کشیدگی دیکھی گئی ہے۔ ایران کا موقف رہا ہے کہ خطے میں غیر ملکی افواج کی موجودگی کے بجائے علاقائی ممالک کو مل کر سکیورٹی کے معاملات حل کرنے چاہئیں۔
او آئی سی کے اجلاس میں شریک دیگر ممالک کے نمائندوں نے بھی خطے میں جاری کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ رکن ممالک کا مطالبہ ہے کہ سفارتی کوششوں کے ذریعے مسائل کا حل نکالا جائے تاکہ عالمی امن کو یقینی بنایا جا سکے۔
ایران کی جانب سے پیش کردہ یہ سات روزہ منصوبہ اس تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر اس منصوبے پر سنجیدگی سے بات چیت کی جائے تو خطے میں جاری تناؤ میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔
امریکا کی جانب سے تاحال اس پیشکش پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا واشنگٹن اس سفارتی پیشکش کو قبول کرتا ہے یا خطے میں اپنی حکمت عملی کو برقرار رکھتا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ نے اپنے خطاب کے دوران ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ تہران خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنے پڑوسیوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم رکھنے اور باہمی احترام کی بنیاد پر تعاون کرنے کا حامی ہے۔
خطے کے دیگر ممالک بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ کسی بھی قسم کی فوجی کشیدگی کے اثرات براہ راست عالمی معیشت اور توانائی کی قیمتوں پر مرتب ہوتے ہیں، جس سے پاکستان سمیت تمام ترقی پذیر ممالک متاثر ہوتے ہیں۔
امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ او آئی سی کے پلیٹ فارم سے ہونے والی یہ بات چیت کسی مثبت نتیجے تک پہنچے گی۔ سفارتی ذرائع کے مطابق ایران کا یہ اقدام کشیدگی کو کم کرنے کی جانب ایک سنجیدہ پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔





اپنی رائے دیں