نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایران اور مصر کے وزرائے خارجہ سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے جس میں خطے کی موجودہ صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق اسحاق ڈار نے اپنے ایرانی ہم منصب کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے علاقائی مسائل کے پرامن حل کے لیے سفارتی کوششوں اور مذاکرات کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے مسلسل رابطے میں رہنا ضروری ہے تاکہ مشترکہ چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکے اور باہمی تعلقات کو مزید مستحکم بنایا جائے۔
اس موقع پر او آئی سی کی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کے حوالے سے بھی مشاورت کی گئی، جس میں مسلم دنیا کو درپیش اہم مسائل اور ان کے حل کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اپنانے پر زور دیا گیا۔
دوسری جانب نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی سے بھی ٹیلی فونک رابطہ کیا، جس میں دو طرفہ تعلقات اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر بات چیت کی گئی۔
اس گفتگو کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور مصر اس حوالے سے یکساں موقف رکھتے ہیں۔
ملاقات میں پاکستان، مصر، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان آر فور فریم ورک کے تحت جاری تعاون کے فروغ پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی، جسے خطے کی ترقی کے لیے اہم قرار دیا گیا۔
دونوں رہنماؤں نے علاقائی امور پر بہتر رابطہ کاری اور باہمی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے آر فور فریم ورک کا اجلاس جلد بلانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔
اسحاق ڈار نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان خطے کے ممالک کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور تمام تر مسائل کا حل باہمی مشاورت اور افہام و تفہیم کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
مصر کے وزیر خارجہ نے بھی پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش کا اظہار کیا اور کہا کہ علاقائی امن کے لیے پاکستان کا کردار انتہائی کلیدی اور قابل تحسین ہے۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی کے تحت موجودہ حکومت خطے کے تمام اہم ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے فروغ پر کام کر رہی ہے تاکہ معاشی اور سیاسی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
آر فور فریم ورک کے تحت ہونے والی یہ پیش رفت خطے میں ایک نئے اقتصادی اور سفارتی اتحاد کی جانب اہم قدم سمجھی جا رہی ہے جس سے رکن ممالک کے مابین تعاون میں اضافہ ہوگا۔
دفتر خارجہ کے حکام کے مطابق اس طرح کے رابطے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہیں، جنہیں مستقبل میں بھی جاری رکھا جائے گا۔





اپنی رائے دیں