جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) خیبر پختونخوا کی صوبائی قیادت نے صوبے کے مختلف اضلاع میں حکومتی سطح پر قائم کی گئی ترقیاتی کمیٹیوں اور کونسلز کو مسترد کرنے کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔ پارٹی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں ان کمیٹیوں کے قیام کے عمل پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔
صوبائی امیر سینیٹر مولانا عطاء الرحمن نے پارٹی کی تمام ضلعی تنظیموں اور کارکنوں کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ ان کمیٹیوں کا حصہ نہ بنیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر کسی رکن نے پہلے سے ان کمیٹیوں میں شمولیت اختیار کی ہے تو وہ فوری طور پر اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیں۔
واضح رہے کہ خیبر پختونخوا کے قبائلی اور ملحقہ اضلاع میں مقامی آبادی کو ترقیاتی فیصلوں میں نمائندگی دینے اور علاقائی سطح پر ترقیاتی امور کی نگرانی کے لیے 48 رکنی کونسل تشکیل دی گئی تھی۔ اس اقدام کا مقصد مقامی سطح پر ترقیاتی کاموں کو مربوط بنانا بتایا گیا تھا۔
تاہم جے یو آئی نے اس کونسل کے قیام کے طریقہ کار اور اس کے مقاصد پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی قیادت کا موقف ہے کہ ان کمیٹیوں میں شمولیت اختیار کرنا پارٹی پالیسی کے منافی ہے، جس کے پیش نظر کسی بھی رکن کو اس کا حصہ بننے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق جے یو آئی کا یہ فیصلہ صوبائی سیاست میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ پارٹی کی جانب سے اس بائیکاٹ کے بعد اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ ان کمیٹیوں کی تشکیل کا عمل کس طرح آگے بڑھتا ہے اور حکومت اس پر کیا ردعمل دیتی ہے۔
جے یو آئی خیبر پختونخوا میں ایک بڑی سیاسی قوت کے طور پر موجود ہے اور ماضی میں بھی صوبائی ترقیاتی امور پر اپنی رائے کا اظہار کرتی رہی ہے۔ پارٹی کی جانب سے اس فیصلے کو تنظیمی نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
پارٹی کے صوبائی ترجمان کا کہنا ہے کہ جے یو آئی عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھاتی رہے گی، تاہم ایسی کسی بھی کمیٹی کا حصہ نہیں بنے گی جس کے مقاصد اور تشکیل کے طریقہ کار پر پارٹی کو تحفظات ہوں۔
صوبائی قیادت نے اپنے تمام کارکنوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ پارٹی نظم و ضبط کی پابندی کریں اور قیادت کے فیصلوں پر من و عن عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ اس فیصلے سے صوبے کے مختلف اضلاع میں سیاسی سرگرمیوں میں نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔
خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع میں ترقیاتی کاموں کی اہمیت کے پیش نظر ان کمیٹیوں کو کافی اہمیت دی جا رہی تھی۔ تاہم جے یو آئی کی جانب سے ان کے بائیکاٹ کے اعلان نے ان کمیٹیوں کی فعالیت پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا عطاء الرحمن نے تمام ضلعی صدور کو اس فیصلے سے آگاہ کر دیا ہے تاکہ کسی بھی سطح پر کوئی ابہام نہ رہے۔ جے یو آئی کی یہ حکمت عملی صوبائی حکومت کے ساتھ سیاسی تعلقات پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔
حکومت کی جانب سے تاحال اس معاملے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں اس حوالے سے مزید وضاحتیں سامنے آئیں گی اور سیاسی صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔
جے یو آئی کے کارکنوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پارٹی قیادت کی ہدایات کے مطابق اپنے سیاسی لائحہ عمل کو ترتیب دیں۔ پارٹی کی جانب سے اس معاملے پر کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہ کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔
صوبے بھر میں جے یو آئی کے تنظیمی ڈھانچے کو اس فیصلے پر عمل درآمد کے لیے متحرک کر دیا گیا ہے۔ پارٹی قیادت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تنظیمی وقار اور پالیسیوں کا تحفظ ہر کارکن کی اولین ذمہ داری ہے۔





اپنی رائے دیں