مواد پر جائیں
اتوار، 18 اکتوبر 2026 7 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 11:18
بریکنگ
بولان: مزدا اور کار میں تصادم، خواتین اور بچوں سمیت 4 افراد جاں بحقممبئی میں بالی ووڈ اداکار ٹائیگر شیروف کی گاڑی پر فائرنگ، اداکار محفوظراولپنڈی: ون ویلنگ سے روکنے پر فائرنگ، خاتون سمیت 3 افراد زخمیبھارتی اداکار ٹائیگر شروف پر قاتلانہ حملہ، ڈرائیور سمیت تین افراد زخمیکراچی: نجی کمپنی کے فنڈز میں خردبرد کرنے والے دو ملزمان ایف آئی اے کے ہتھے چڑھ گئےالٹرا پراسیسڈ غذاؤں کا زیادہ استعمال دماغی صحت اور فالج کے لیے خطرہ قرارپشاور: گیس کنکشن کے تنازع پر ہمسایوں کی فائرنگ سے ایک شخص جاں بحقلاہور ایئرپورٹ پر جعلی دستاویزات پر ملائیشیا جانے کی کوشش ناکامپشاور: گیس پائپ لائن کی منتقلی کے باعث مختلف علاقوں میں فراہمی معطل رہے گیامریکہ بھر میں ‘نو کنگز’ مہم کے تحت صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کیخلاف مظاہرےسانحہ کار ساز: ملکی تاریخ کا ایک المناک باب جس نے سیاست کو بدل کر رکھ دیاکراچی: گڈز ٹرانسپورٹرز اور کے پی ٹی کے درمیان اہم معاملات پر اتفاقپی ٹی آئی کور کمیٹی اجلاس: لانگ مارچ کی ناکامی پر اہم رہنماؤں کے تحفظاتیوٹیوب سرچ میں مصنوعی ذہانت کا نیا تجربہ، صارفین کو ویڈیوز کے خلاصے ملیں گےلندن میں اسلاموفوبیا کے خلاف لبنانی فنکار کا منفرد اقدام، ‘کوسمک بریتھ’ پیشپی ٹی آئی کور کمیٹی اجلاس: لانگ مارچ اور سیاسی حکمت عملی پر اہم مشاورتامام الحق کو پریذیڈنٹ ٹرافی میں شرکت کی اجازت مل گئیآئی میکس فلم سازی: روایتی سیلولائڈ اور جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا موازنہسہ فریقی ون ڈے سیریز: پاکستان نے سری لنکا کو 37 رنز سے شکست دے دیتین ملکی ون ڈے سیریز: پاکستان نے سری لنکا کو 37 رنز سے شکست دے دی
دنیا

لندن میں اسلاموفوبیا کے خلاف لبنانی فنکار کا منفرد اقدام، ‘کوسمک بریتھ’ پیش

امریکی نژاد لبنانی آرٹسٹ جونامی نے لندن میں مختلف ممالک کی اذانوں پر مبنی صوتی انسٹالیشن کے ذریعے امن کا پیغام دیا ہے۔

لندن میں اسلاموفوبیا کے خلاف لبنانی فنکار کا منفرد اقدام، ‘کوسمک بریتھ’ پیش

برطانوی دارالحکومت لندن میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا اور سماجی تعصب کے تناظر میں، امریکی نژاد لبنانی فنکار اور موسیقار جونامی نے ایک منفرد اور پرامن اقدام اٹھایا ہے۔ انہوں نے وسطی لندن میں 'کوسمک بریتھ' کے نام سے ایک ملٹی چینل ساؤنڈ انسٹالیشن پیش کی ہے، جو دنیا بھر کی مساجد سے لی گئی اذانوں کی ریکارڈنگز پر مشتمل ہے۔

یہ فن پارہ لندن کی مصروف ترین آکسفورڈ اسٹریٹ کے قریب ایک پرسکون مقام پر نصب کیا گیا ہے، جہاں آنے والے افراد مختلف جغرافیائی خطوں کی تاریخی اور عصری اذانوں کو ایک ساتھ سن سکتے ہیں۔ اس انسٹالیشن کا مقصد آواز کی روحانیت اور اس کے انسانی نفسیات پر اثرات کو اجاگر کرنا ہے۔

جونامی کے مطابق، یہ پروجیکٹ اس خیال سے متاثر ہے کہ زمین پر ہر لمحہ کہیں نہ کہیں اذان کی آواز گونج رہی ہوتی ہے، جو ایک انتہائی طاقتور اور خوبصورت عمل ہے۔ انہوں نے اس کام کو روحانی سکون کے حصول کے لیے ایک پناہ گاہ قرار دیا ہے۔

اس نمائش میں مکہ مکرمہ کی مسجد الحرام، یروشلم کی مسجد اقصیٰ، سنگاپور کی سلطان مسجد، سوڈان، فلپائن، جاپان اور جارجیا سمیت دنیا بھر سے جمع کی گئی اذانیں شامل ہیں۔ ان میں 19 ویں صدی کے آخر کی قدیم ترین ریکارڈنگز سے لے کر جدید دور کی آوازیں تک شامل ہیں۔

اس پروجیکٹ کا ایک اہم حصہ لندن کے والتھمسٹو میں کووڈ-19 کے دوران ریکارڈ کی گئی اذان بھی ہے، جو برطانیہ میں عوامی سطح پر دی جانے والی پہلی اذانوں میں سے ایک تھی۔ یہ ریکارڈنگ مقامی مسلم کمیونٹی کی تاریخ کا ایک اہم حصہ سمجھی جاتی ہے۔

جونامی نے بتایا کہ اس کام کا ابتدائی محرک 2020 میں جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن میں پیش آنے والا ایک واقعہ تھا۔ اس وقت کووڈ لاک ڈاؤن کے دوران اذان پر پابندی کے خلاف ایک ہندو شہری نے مسلم کمیونٹی کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کاروں کے ذریعے اذان نشر کرنے کا اہتمام کیا تھا۔

فنکار کا کہنا ہے کہ لندن میں موجودہ سیاسی ماحول اور بڑھتے ہوئے زینوفوبیا کے پیش نظر، یہ صوتی انسٹالیشن نفرت کے خلاف ایک تریاق کا کام کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ آواز کی سیاست اور اس سے جڑی روحانیت کو سمجھنے کے لیے کوشاں ہیں۔

یہ انسٹالیشن پہلی بار 2023 میں جدہ میں ہونے والے اسلامی آرٹس بینالے کے لیے تیار کی گئی تھی، جس کی آرٹسٹک ڈائریکٹر سمیہ ویلی تھیں۔ سمیہ ویلی نے اس پروجیکٹ کی مقامی منظر کشی اور ڈیزائن میں جونامی کے ساتھ قریبی تعاون کیا ہے۔

جونامی نے اس بات پر زور دیا کہ جدہ اور لندن کے ثقافتی ماحول میں فرق کے باوجود، اذان کی آواز ہر جگہ یکساں روحانی اثر رکھتی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ پروجیکٹ لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے اور تعصبات کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

آرٹسٹ نے مزید کہا کہ ان کا کام کمیونٹی اور روحانیت کے وسیع تر تصورات کی تلاش ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جدید ٹیکنالوجی اور ایمپلیفیکیشن نے اذان جیسی قدیم روایت کو ایک نئی جہت دی ہے، جسے عوامی سطح پر سمجھنا ضروری ہے۔

لندن میں موجود یہ نمائش نہ صرف ایک فن پارہ ہے بلکہ یہ مختلف ثقافتوں اور عقائد کے درمیان پل کا کردار بھی ادا کر رہی ہے۔ یہاں آنے والے شائقین کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ خاموشی سے ان آوازوں کو سنیں اور ان کے گہرے مفہوم پر غور کریں۔

اس اقدام کو لندن کے ادبی اور فنی حلقوں میں سراہا جا رہا ہے، جہاں اسے اسلاموفوبیا کے خلاف ایک مثبت اور تخلیقی جواب قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ نمائش آنے والے دنوں میں بھی زائرین کے لیے کھلی رہے گی۔

جونامی کا کہنا ہے کہ آواز کی سیاست اور روحانیت کا امتزاج انہیں ہمیشہ سے متوجہ کرتا رہا ہے۔ ان کے مطابق، یہ صوتی تجربات انسانی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں اور معاشرتی ہم آہنگی کے لیے ایک بہترین ذریعہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں