اٹھارہ اکتوبر 2007 کی رات کراچی کی شارع فیصل پر پیش آنے والا سانحہ کار ساز ملکی سیاسی تاریخ کا ایک ایسا تاریک باب ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی وطن واپسی کے موقع پر ان کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا، جس نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا۔
اس روز بے نظیر بھٹو کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے لاکھوں کارکنان اور عام شہری سڑکوں پر موجود تھے۔ قافلہ جیسے ہی کار ساز فلائی اوور کے قریب پہنچا تو یکے بعد دیگرے دو زور دار دھماکوں نے پرامن فضا کو چیخ و پکار اور دھوئیں کے بادلوں میں تبدیل کر دیا۔
دھماکوں کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ موقع پر موجود سینکڑوں افراد جاں بحق اور زخمی ہو گئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں پیپلز پارٹی کے جیالے کارکنان، سیکیورٹی پر مامور اہلکار اور وہ عام شہری شامل تھے جو اپنی لیڈر کا استقبال کرنے آئے تھے۔
اس المناک واقعے میں 180 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 500 سے زائد زخمی ہوئے۔ کئی زخمیوں کو طبی امداد کے لیے فوری طور پر شہر کے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ان کی جان بچانے کی سرتوڑ کوشش کی۔
سانحہ کار ساز کی ہولناکی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دھماکوں کے بعد 20 افراد کی لاشیں ناقابلِ شناخت رہ گئیں۔ ان لاشوں کو ڈی این اے ٹیسٹ کے باوجود شناخت نہ کیا جا سکا، جنہیں بعد ازاں ایدھی فاؤنڈیشن کے تعاون سے کراچی کے مواچھ گوٹھ قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔
اس واقعے نے صحافتی برادری کو بھی شدید متاثر کیا۔ کوریج میں مصروف کئی رپورٹرز، کیمرہ مین اور فوٹو گرافرز بھی دھماکوں کی زد میں آئے۔ اس سانحے میں اے آر وائی سے وابستہ کیمرہ مین محمد عارف سمیت دیگر میڈیا ورکرز بھی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
عینی شاہدین اور اس وقت کوریج کرنے والے صحافیوں کے مطابق، پہلا دھماکہ ایک چھوٹا گرنیڈ حملہ تھا جس کا مقصد افراتفری پھیلا کر سیکیورٹی حصار کو توڑنا تھا۔ اس کے فوراً بعد ہونے والا خود کش دھماکہ انتہائی تباہ کن ثابت ہوا جس نے ہر طرف تباہی مچا دی۔
تحقیقاتی اداروں کی رپورٹس کے مطابق، اس حملے میں آر ڈی ایکس کے ساتھ اسٹیل بال بیئرنگ، پیچ اور کیلوں کا استعمال کیا گیا تھا تاکہ زیادہ سے زیادہ جانی نقصان ہو سکے۔ اس وقت شارع فیصل پر اسٹریٹ لائٹس کا بند ہونا بھی شواہد اکٹھا کرنے میں رکاوٹ بنا۔
سانحے کے بعد پرویز مشرف حکومت کی جانب سے جسٹس (ر) منیر اے شیخ کی سربراہی میں ایک عدالتی کمیشن قائم کیا گیا تھا، تاہم پیپلز پارٹی نے اس کمیشن کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا تھا۔
بعد ازاں سندھ پولیس اور جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) نے بھی اس کیس کی تحقیقات کیں اور کالعدم تنظیموں پر شبہ ظاہر کیا گیا۔ تاہم، ٹھوس شواہد کی عدم دستیابی کے باعث اصل منصوبہ سازوں تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا رہا۔
انیس برس گزرنے کے باوجود اس سانحے کے ماسٹر مائنڈ اور منصوبہ سازوں کا تعین نہ ہو سکا۔ یہ سوال آج بھی سیاسی حلقوں اور عوام کے ذہنوں میں موجود ہے کہ آخر اس بڑے منصوبے کے پیچھے کون سے عناصر کارفرما تھے جو انصاف کی گرفت سے باہر رہے۔
تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ اس حملے کا بنیادی مقصد بے نظیر بھٹو کو ملکی سیاست میں سرگرم ہونے سے روکنا اور ان کی انتخابی مہم کو سبوتاژ کرنا تھا۔ تاہم، اس دھمکی کے باوجود بے نظیر بھٹو نے اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھی۔
سانحہ کار ساز کے بعد ملک میں سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوا اور حالات نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا۔ یہ واقعہ ملکی سیاست میں ایک ایسا موڑ ثابت ہوا جس نے آنے والے وقتوں میں کئی اہم سیاسی تبدیلیوں کی بنیاد رکھی۔
آج بھی اٹھارہ اکتوبر کو پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی حلقوں کی جانب سے سانحہ کار ساز کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔ ان شہداء کی قربانیوں کو یاد رکھنا ملکی تاریخ کے اس اہم باب کا حصہ بن چکا ہے۔





اپنی رائے دیں