مواد پر جائیں
پیر، 19 اکتوبر 2026 8 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 11:57
بریکنگ
کراچی میں غیر ملکیوں کو لوٹنے والا بڑا سائبر فراڈ نیٹ ورک بے نقاببولان: مزدا اور کار میں تصادم، خواتین اور بچوں سمیت 4 افراد جاں بحقممبئی میں بالی ووڈ اداکار ٹائیگر شیروف کی گاڑی پر فائرنگ، اداکار محفوظراولپنڈی: ون ویلنگ سے روکنے پر فائرنگ، خاتون سمیت 3 افراد زخمیبھارتی اداکار ٹائیگر شروف پر قاتلانہ حملہ، ڈرائیور سمیت تین افراد زخمیجاپان کا امریکا میں سیمی کنڈکٹر چپس کی تیاری کیلئے 21 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلانسعودی عرب: عمرہ زائرین کے لیے ڈیجیٹل سہولیات کا آغازواٹس ایپ کا نیا فیچر، اسٹیکرز میں اپنی آواز شامل کرنا ممکن ہوگاٹائپ 3 ذیابیطس کیا ہے؟ طبی ماہرین کی نئی تحقیق میں اہم انکشافکراچی: نجی کمپنی کے فنڈز میں خردبرد کرنے والے دو ملزمان ایف آئی اے کے ہتھے چڑھ گئےالٹرا پراسیسڈ غذاؤں کا زیادہ استعمال دماغی صحت اور فالج کے لیے خطرہ قرارپشاور: گیس کنکشن کے تنازع پر ہمسایوں کی فائرنگ سے ایک شخص جاں بحقلاہور ایئرپورٹ پر جعلی دستاویزات پر ملائیشیا جانے کی کوشش ناکامپشاور: گیس پائپ لائن کی منتقلی کے باعث مختلف علاقوں میں فراہمی معطل رہے گیامریکہ بھر میں ‘نو کنگز’ مہم کے تحت صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کیخلاف مظاہرےسانحہ کار ساز: ملکی تاریخ کا ایک المناک باب جس نے سیاست کو بدل کر رکھ دیاکراچی: گڈز ٹرانسپورٹرز اور کے پی ٹی کے درمیان اہم معاملات پر اتفاقپی ٹی آئی کور کمیٹی اجلاس: لانگ مارچ کی ناکامی پر اہم رہنماؤں کے تحفظاتیوٹیوب سرچ میں مصنوعی ذہانت کا نیا تجربہ، صارفین کو ویڈیوز کے خلاصے ملیں گےلندن میں اسلاموفوبیا کے خلاف لبنانی فنکار کا منفرد اقدام، ‘کوسمک بریتھ’ پیش
پاکستان

سانحہ کار ساز: ملکی تاریخ کا ایک المناک باب جس نے سیاست کو بدل کر رکھ دیا

اٹھارہ اکتوبر 2007 کو کراچی میں پیش آنے والے سانحہ کار ساز کو انیس برس بیت گئے، مگر اس واقعے کے زخم آج بھی تازہ ہیں۔

سانحہ کار ساز: ملکی تاریخ کا ایک المناک باب جس نے سیاست کو بدل کر رکھ دیا

اٹھارہ اکتوبر 2007 کی رات کراچی کی شارع فیصل پر پیش آنے والا سانحہ کار ساز ملکی سیاسی تاریخ کا ایک ایسا تاریک باب ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی وطن واپسی کے موقع پر ان کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا، جس نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا۔

اس روز بے نظیر بھٹو کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے لاکھوں کارکنان اور عام شہری سڑکوں پر موجود تھے۔ قافلہ جیسے ہی کار ساز فلائی اوور کے قریب پہنچا تو یکے بعد دیگرے دو زور دار دھماکوں نے پرامن فضا کو چیخ و پکار اور دھوئیں کے بادلوں میں تبدیل کر دیا۔

دھماکوں کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ موقع پر موجود سینکڑوں افراد جاں بحق اور زخمی ہو گئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں پیپلز پارٹی کے جیالے کارکنان، سیکیورٹی پر مامور اہلکار اور وہ عام شہری شامل تھے جو اپنی لیڈر کا استقبال کرنے آئے تھے۔

اس المناک واقعے میں 180 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 500 سے زائد زخمی ہوئے۔ کئی زخمیوں کو طبی امداد کے لیے فوری طور پر شہر کے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ان کی جان بچانے کی سرتوڑ کوشش کی۔

سانحہ کار ساز کی ہولناکی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دھماکوں کے بعد 20 افراد کی لاشیں ناقابلِ شناخت رہ گئیں۔ ان لاشوں کو ڈی این اے ٹیسٹ کے باوجود شناخت نہ کیا جا سکا، جنہیں بعد ازاں ایدھی فاؤنڈیشن کے تعاون سے کراچی کے مواچھ گوٹھ قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔

اس واقعے نے صحافتی برادری کو بھی شدید متاثر کیا۔ کوریج میں مصروف کئی رپورٹرز، کیمرہ مین اور فوٹو گرافرز بھی دھماکوں کی زد میں آئے۔ اس سانحے میں اے آر وائی سے وابستہ کیمرہ مین محمد عارف سمیت دیگر میڈیا ورکرز بھی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

عینی شاہدین اور اس وقت کوریج کرنے والے صحافیوں کے مطابق، پہلا دھماکہ ایک چھوٹا گرنیڈ حملہ تھا جس کا مقصد افراتفری پھیلا کر سیکیورٹی حصار کو توڑنا تھا۔ اس کے فوراً بعد ہونے والا خود کش دھماکہ انتہائی تباہ کن ثابت ہوا جس نے ہر طرف تباہی مچا دی۔

تحقیقاتی اداروں کی رپورٹس کے مطابق، اس حملے میں آر ڈی ایکس کے ساتھ اسٹیل بال بیئرنگ، پیچ اور کیلوں کا استعمال کیا گیا تھا تاکہ زیادہ سے زیادہ جانی نقصان ہو سکے۔ اس وقت شارع فیصل پر اسٹریٹ لائٹس کا بند ہونا بھی شواہد اکٹھا کرنے میں رکاوٹ بنا۔

سانحے کے بعد پرویز مشرف حکومت کی جانب سے جسٹس (ر) منیر اے شیخ کی سربراہی میں ایک عدالتی کمیشن قائم کیا گیا تھا، تاہم پیپلز پارٹی نے اس کمیشن کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا تھا۔

بعد ازاں سندھ پولیس اور جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) نے بھی اس کیس کی تحقیقات کیں اور کالعدم تنظیموں پر شبہ ظاہر کیا گیا۔ تاہم، ٹھوس شواہد کی عدم دستیابی کے باعث اصل منصوبہ سازوں تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا رہا۔

انیس برس گزرنے کے باوجود اس سانحے کے ماسٹر مائنڈ اور منصوبہ سازوں کا تعین نہ ہو سکا۔ یہ سوال آج بھی سیاسی حلقوں اور عوام کے ذہنوں میں موجود ہے کہ آخر اس بڑے منصوبے کے پیچھے کون سے عناصر کارفرما تھے جو انصاف کی گرفت سے باہر رہے۔

تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ اس حملے کا بنیادی مقصد بے نظیر بھٹو کو ملکی سیاست میں سرگرم ہونے سے روکنا اور ان کی انتخابی مہم کو سبوتاژ کرنا تھا۔ تاہم، اس دھمکی کے باوجود بے نظیر بھٹو نے اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھی۔

سانحہ کار ساز کے بعد ملک میں سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوا اور حالات نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا۔ یہ واقعہ ملکی سیاست میں ایک ایسا موڑ ثابت ہوا جس نے آنے والے وقتوں میں کئی اہم سیاسی تبدیلیوں کی بنیاد رکھی۔

آج بھی اٹھارہ اکتوبر کو پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی حلقوں کی جانب سے سانحہ کار ساز کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔ ان شہداء کی قربانیوں کو یاد رکھنا ملکی تاریخ کے اس اہم باب کا حصہ بن چکا ہے۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں