مواد پر جائیں
اتوار، 18 اکتوبر 2026 7 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 11:57
بریکنگ
کراچی میں غیر ملکیوں کو لوٹنے والا بڑا سائبر فراڈ نیٹ ورک بے نقاببولان: مزدا اور کار میں تصادم، خواتین اور بچوں سمیت 4 افراد جاں بحقممبئی میں بالی ووڈ اداکار ٹائیگر شیروف کی گاڑی پر فائرنگ، اداکار محفوظراولپنڈی: ون ویلنگ سے روکنے پر فائرنگ، خاتون سمیت 3 افراد زخمیبھارتی اداکار ٹائیگر شروف پر قاتلانہ حملہ، ڈرائیور سمیت تین افراد زخمیجاپان کا امریکا میں سیمی کنڈکٹر چپس کی تیاری کیلئے 21 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلانسعودی عرب: عمرہ زائرین کے لیے ڈیجیٹل سہولیات کا آغازواٹس ایپ کا نیا فیچر، اسٹیکرز میں اپنی آواز شامل کرنا ممکن ہوگاٹائپ 3 ذیابیطس کیا ہے؟ طبی ماہرین کی نئی تحقیق میں اہم انکشافکراچی: نجی کمپنی کے فنڈز میں خردبرد کرنے والے دو ملزمان ایف آئی اے کے ہتھے چڑھ گئےالٹرا پراسیسڈ غذاؤں کا زیادہ استعمال دماغی صحت اور فالج کے لیے خطرہ قرارپشاور: گیس کنکشن کے تنازع پر ہمسایوں کی فائرنگ سے ایک شخص جاں بحقلاہور ایئرپورٹ پر جعلی دستاویزات پر ملائیشیا جانے کی کوشش ناکامپشاور: گیس پائپ لائن کی منتقلی کے باعث مختلف علاقوں میں فراہمی معطل رہے گیامریکہ بھر میں ‘نو کنگز’ مہم کے تحت صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کیخلاف مظاہرےسانحہ کار ساز: ملکی تاریخ کا ایک المناک باب جس نے سیاست کو بدل کر رکھ دیاکراچی: گڈز ٹرانسپورٹرز اور کے پی ٹی کے درمیان اہم معاملات پر اتفاقپی ٹی آئی کور کمیٹی اجلاس: لانگ مارچ کی ناکامی پر اہم رہنماؤں کے تحفظاتیوٹیوب سرچ میں مصنوعی ذہانت کا نیا تجربہ، صارفین کو ویڈیوز کے خلاصے ملیں گےلندن میں اسلاموفوبیا کے خلاف لبنانی فنکار کا منفرد اقدام، ‘کوسمک بریتھ’ پیش
دنیا

امریکہ بھر میں ‘نو کنگز’ مہم کے تحت صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کیخلاف مظاہرے

امریکی سینیٹر برنی سینڈرز کی حمایت یافتہ مہم کا مقصد شہریوں کو جلد ووٹ ڈالنے کی ترغیب دینا اور حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنا ہے۔

امریکہ بھر میں ‘نو کنگز’ مہم کے تحت صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کیخلاف مظاہرے

امریکہ کے مختلف شہروں میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی پالیسیوں کے خلاف 'نو کنگز' نامی تنظیم کی جانب سے بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ ان مظاہروں کا سلسلہ ہفتے اور اتوار کے روز ملک بھر میں دیکھا گیا جس میں بڑی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی۔

احتجاجی مظاہروں کی کال امریکی سینیٹر برنی سینڈرز کی جانب سے دی گئی تھی، جس کا بنیادی مقصد نہ صرف ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کرنا ہے بلکہ شہریوں کو آئندہ انتخابات میں جلد ووٹ ڈالنے کے لیے بھی متحرک کرنا ہے۔

لاس اینجلس اور ڈیلاس سمیت امریکہ کے کئی بڑے شہروں میں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اور صدر ٹرمپ کے خلاف نعرے بازی کی۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ ان پروگراموں کا مقصد غیر جماعتی بنیادوں پر عوامی شعور بیدار کرنا ہے تاکہ انتخابی عمل میں شرکت کو یقینی بنایا جا سکے۔

مینی سوٹا میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر برنی سینڈرز نے ایران کے ساتھ کشیدگی اور جنگی پالیسیوں پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے حوالے سے عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے اور یہ اقدامات آئین کے منافی ہیں۔

سینڈرز نے مزید کہا کہ انتخابی مہم کے دوران صدر ٹرمپ نے جنگوں میں وسائل ضائع نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا، تاہم موجودہ صورتحال اس دعوے کے برعکس ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کانگریس کی اجازت کے بغیر جنگی کارروائیوں کا کوئی جواز نہیں ہے۔

ریاست کینٹکی کے شہر لوئس ول میں بھی مظاہروں کا ایک سلسلہ دیکھا گیا جہاں فرینکفورٹ ایونیو پر مختلف گروپوں نے اکٹھے ہو کر اپنے مطالبات پیش کیے۔ مظاہرین نے گیتوں اور نعروں کے ذریعے حکومتی فیصلوں پر اپنی ناراضی کا اظہار کیا۔

ان مظاہروں کے دوران کچھ مقامات پر دلچسپ مناظر بھی دیکھنے میں آئے، جہاں صدر ٹرمپ کے حامیوں اور مخالفین کا آمنا سامنا ہوا۔ ایک موقع پر ٹرمپ کا ایک حامی جھنڈا اٹھائے مظاہرین کے درمیان سے گزرتا رہا۔

’نو کنگز‘ مہم کے منتظمین کا منصوبہ ہے کہ ملک بھر میں تین ہزار سے زائد ایسے پروگرام منعقد کیے جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو انتخابی عمل کا حصہ بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ ووٹ ڈالنا ہی تبدیلی لانے کا واحد جمہوری راستہ ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مظاہرے امریکی معاشرے میں موجود سیاسی تقسیم کی عکاسی کرتے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں پر عوامی ردعمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آئندہ انتخابات کے حوالے سے ووٹرز میں کافی جوش و خروش پایا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ یہ احتجاج ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب امریکی سیاست میں انتخابی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ 'ووٹ ارلی' یعنی جلد ووٹ ڈالنے کی مہم کو سیاسی حلقوں میں کافی اہمیت دی جا رہی ہے تاکہ پولنگ کے دن رش سے بچا جا سکے۔

مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ حکومت اپنی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کرے اور عوامی مفادات کو ترجیح دے۔ سینیٹر برنی سینڈرز کی جانب سے اٹھائے گئے نکات نے ان مظاہروں کو ایک نئی سیاسی جہت فراہم کر دی ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ان مظاہروں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔ منتظمین نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پرامن طریقے سے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں اور جمہوری عمل کو مضبوط بنائیں۔

صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے ان مظاہروں پر تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، تاہم وائٹ ہاؤس کے ترجمان کی تبدیلی کے بعد سیاسی منظرنامے میں مزید تبدیلیاں متوقع ہیں۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں