مواد پر جائیں
اتوار، 18 اکتوبر 2026 7 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 9:58
بریکنگ
راولپنڈی: ون ویلنگ سے روکنے پر فائرنگ، خاتون سمیت 3 افراد زخمیبھارتی اداکار ٹائیگر شروف پر قاتلانہ حملہ، ڈرائیور سمیت تین افراد زخمیامام الحق کو پریذیڈنٹ ٹرافی میں شرکت کی اجازت مل گئیآئی میکس فلم سازی: روایتی سیلولائڈ اور جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا موازنہسہ فریقی ون ڈے سیریز: پاکستان نے سری لنکا کو 37 رنز سے شکست دے دیتین ملکی ون ڈے سیریز: پاکستان نے سری لنکا کو 37 رنز سے شکست دے دیبابر اعظم کا انٹرنیشنل کرکٹ میں 16 ہزار رنز کا سنگ میل عبورجے یو آئی نے خیبر پختونخوا میں ضلعی سطح پر قائم کمیٹیوں کو مسترد کر دیابابر اعظم انٹرنیشنل کرکٹ میں 16 ہزار رنز بنانے والے پانچویں پاکستانی بیٹر بن گئےراولپنڈی: سیکیورٹی ڈیوٹی کے دوران ڈولفن فورس کا اہلکار گولی لگنے سے زخمیعالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 2027 تک 80 ڈالر فی بیرل تک گرنے کا امکانسعد بیگ پاکستان کی جانب سے ون ڈے کرکٹ کھیلنے والے 262 ویں کھلاڑی بن گئےراولپنڈی: سہ ملکی سیریز کی سیکیورٹی پر مامور ڈولفن اہلکار حادثاتی فائر سے زخمیخیبرپختونخوا میں گورنر راج کا مقصد معدنی ذخائر پر قبضہ ہے، کامران مرتضیٰپاکستان کی کاٹن اور ٹیکسٹائل انڈسٹری شدید مالی بحران کی لپیٹ میںرہائش کے لیے دنیا کے بہترین ممالک کی نئی فہرست جاری، موناکو سرفہرستاسلام آباد ٹریفک پولیس کی جانب سے ڈرائیونگ لائسنس کی آن لائن سہولت کا آغازنیند کی کمی جوڑوں کے امراض کا سبب بن سکتی ہے، طبی تحقیق میں انکشافآئی سی سی کی اینٹی ڈوپنگ ٹیم کا دورہ، انگلینڈ کے کھلاڑیوں کے ڈوپ ٹیسٹ کیےمحمد رضوان اور امام الحق کو ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت
پاکستان

خیبرپختونخوا میں گورنر راج کا مقصد معدنی ذخائر پر قبضہ ہے، کامران مرتضیٰ

جمعیت علمائے اسلام کے سینیٹر نے کہا کہ صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے پیچھے آئینی تقاضوں کو پس پشت ڈال کر وسائل پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

خیبرپختونخوا میں گورنر راج کا مقصد معدنی ذخائر پر قبضہ ہے، کامران مرتضیٰ

جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سینیٹر اور ممتاز قانون دان کامران مرتضیٰ نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد صوبے کے قیمتی معدنی ذخائر اور وسائل پر وفاقی کنٹرول حاصل کرنا ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ کئی سنگین آئینی اور قانونی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت کارروائی کے دوران آئینی تقاضوں کو نظرانداز کیا گیا ہے۔

کامران مرتضیٰ نے وضاحت کی کہ صدر مملکت کی جانب سے منظوری دیتے وقت اطمینان کی وجوہات تحریری شکل میں سامنے آنی چاہیے تھیں اور متعلقہ مواد بھی پیش کیا جانا ضروری تھا۔ ان کے مطابق گورنر راج کے لیے گورنر کی رپورٹ بنیادی حیثیت رکھتی ہے جو اس معاملے میں غائب ہے۔

سینیٹر نے مزید کہا کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے لیے درکار متعلقہ دستاویزات پارلیمان میں پیش نہیں کی گئیں۔ اس حوالے سے مولانا فضل الرحمان کی ہدایت پر اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کو باقاعدہ خط لکھ کر دستاویزات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے خط موصول ہونے اور اسے متعلقہ وزارت کو بھجوانے کی تصدیق کی ہے۔ کامران مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ دستاویزات کی عدم موجودگی کے باوجود پارلیمان سے ایمرجنسی اور گورنر راج کی توثیق کرائی گئی جو کہ ایک غیر معمولی عمل ہے۔

سینیٹر کامران مرتضیٰ نے خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے حوالے سے وفاقی حکومت کے دوہرے معیار پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ وفاق کی جانب سے صوبوں کے حوالے کیا گیا مائنز اینڈ منرلز ایکٹ آئین کے آرٹیکل 172 کی روح کے منافی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جمعیت علمائے اسلام کی ہدایت پر بلوچستان میں مائنز اینڈ منرلز قانون کو عدالت میں چیلنج کیا گیا ہے۔ جبکہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں مائنز اینڈ منرلز بل تاحال منظور نہیں کیا جا سکا ہے، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔

کامران مرتضیٰ نے دعویٰ کیا کہ سابقہ فاٹا کے معدنی ذخائر کو صوبے سے الگ کر کے وفاق کے زیر انتظام لانے کا منصوبہ زیر غور ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ معدنی وسائل پر قبضہ کرنا ہی اس تمام معاملے کی اصل وجہ ہے جس کے علاوہ کوئی اور مقصد نظر نہیں آتا۔

انہوں نے واضح کیا کہ جمعیت علمائے اسلام آئین اور صوبائی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔ پارٹی کا موقف ہے کہ صوبائی وسائل پر مقامی آبادی کا حق ہے اور وفاق کو اس میں مداخلت سے گریز کرنا چاہیے۔

سینیٹر نے زور دیا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ آئینی تقاضوں کو پورا کرے اور شفافیت کو یقینی بنائے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک متعلقہ دستاویزات اور قانونی جواز سامنے نہیں لائے جاتے، تب تک ان اقدامات پر شکوک و شبہات برقرار رہیں گے۔

پارٹی قیادت کے مطابق خیبرپختونخوا کے عوام اپنے وسائل پر وفاقی قبضے کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ جمعیت علمائے اسلام اس معاملے پر پارلیمانی اور قانونی فورمز پر اپنی جدوجہد جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔

آخر میں کامران مرتضیٰ نے کہا کہ ملک کے استحکام کے لیے ضروری ہے کہ صوبائی خودمختاری کا احترام کیا جائے۔ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ صوبوں کے ساتھ معاملات طے کرتے وقت آئین کی پاسداری کو مقدم رکھے تاکہ کسی قسم کے تنازعات پیدا نہ ہوں۔

خیبرپختونخوا کے معدنی ذخائر صوبے کی معاشی ترقی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان وسائل کے انتظام کے حوالے سے وفاق اور صوبے کے مابین ماضی میں بھی اختلافات سامنے آتے رہے ہیں جنہیں حل کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں