ڈیجیٹل سکیورٹی اور آن لائن حقوق کے شعبے میں ایک انتہائی تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے جس کے مطابق دنیا بھر میں مختلف حکومتیں آن لائن اشتہارات کے ذریعے عام صارفین کی ڈیجیٹل ڈیوائسز کو خاموشی سے نشانہ بنا رہی ہیں۔ اس نئی اور خطرناک تکنیک کا بنیادی مقصد صارفین کی جاسوسی کرنا، ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا اور ان کے تمام نجی ڈیٹا تک غیر قانونی رسائی حاصل کرنا ہے۔
یونیورسٹی آف ٹورنٹو سے وابستہ آن لائن حقوق کے معروف تحقیقی ادارے سٹیزن لیب کی جانب سے جاری کردہ ایک مفصل رپورٹ میں یہ سنگین انتباہ سامنے آیا ہے۔ رپورٹ میں دنیا کو بتایا گیا ہے کہ انٹرنیٹ ویب پیجز پر نظر آنے والے عام دکھائی دینے والے اشتہارات کو اس طرح بدلا گیا ہے کہ وہ صارفین کی ڈیوائسز میں نقصان دہ سافٹ ویئر انسٹال کرنے کے قابل ہو سکیں۔
تحقیقی ادارے کا کہنا ہے کہ یہ اسپائی ویئر یا جاسوسی کرنے والے سافٹ ویئر اس نوعیت کے ہیں کہ وہ صارف کی معمولی سی بھی لاپرواہی کے بغیر چپکے سے ڈیوائس میں داخل ہو جاتے ہیں۔ یہ اپنی نوعیت کا ایک بالکل نیا اور انتہائی پوشیدہ طریقہ کار ہے جس کے ذریعے ڈیجیٹل ہیکنگ کی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ حیران کن اور پریشان کن بات یہ ہے کہ ان نقصان دہ اشتہارات کے ذریعے صارفین کو کسی بھی قسم کے اشتہار پر کلک کرنے کی کوئی ضرورت پیش نہیں آتی۔ صرف متعلقہ ویب پیج کو وزٹ کرنے سے ہی یہ خطرناک سافٹ ویئر پس پردہ کارروائی کرتے ہوئے موبائل فون یا کمپیوٹر میں انسٹال ہو جاتا ہے۔
سائبر سکیورٹی کے ماہرین نے اس نئے اور پیچیدہ طریقہ کار کو ایڈفیکشن کا نام دیا ہے جو کہ تحقیق کے مطابق اپنی نوعیت کی پہلی معلوم مثال ہے۔ اس سے قبل اس انداز میں آن لائن اشتہارات کے ذریعے جاسوسی کرنے کا کوئی باقاعدہ اور مصدقہ معاملہ سامنے نہیں آیا تھا جو اب سکیورٹی ماہرین کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔
تحقیق کاروں نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ ان ہدف شدہ اشتہارات کو اس مہارت اور تکنیکی معاونت سے ڈیزائن کیا جاتا ہے کہ وہ صرف مخصوص اور مطلوبہ افراد کو ہی دکھائی دیں۔ عام صارفین کو ان اشتہارات پر کسی قسم کا شک بھی نہیں گزرتا جبکہ وہ باآسانی اس خاموش سائبر حملے کا شکار بن جاتے ہیں۔
انٹرنیٹ پر اشتہارات کی خرید و فروخت کا نظام عام طور پر ریئل ٹائم آکشن کے انتہائی پیچیدہ نظام کے ذریعے چلتا ہے۔ اس خودکار نظام کے تحت ویب سائٹس اپنے خالی اشتہاری مقامات سب سے زیادہ بولی لگانے والے کو فروخت کرتی ہیں جو لمحوں میں طے پاتا ہے۔
یہ اشتہاری بولی کا خودکار عمل روزانہ کی بنیاد پر اربوں مرتبہ انجام پاتا ہے اور اس میں ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت لگتا ہے۔ جب بھی کوئی عام صارف ایسی کسی ویب سائٹ کو کھولتا ہے تو یہ تمام عمل پس منظر میں فوراً اور بغیر کسی تاخیر کے مکمل ہو جاتا ہے۔
ڈیجیٹل سکیورٹی کے ماہرین نے گہرے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ اس نوعیت کے خطرناک حملے بظاہر جتنے محدود بتائے جا رہے ہیں، حقیقت میں اس سے کہیں زیادہ وسیع پیمانے پر جاری ہو سکتے ہیں۔ اس صورتحال سے دنیا بھر کے کروڑوں صارفین کی نجی زندگی اور معلومات کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔
موجودہ دور میں ڈیجیٹل سکیورٹی کے حوالے سے یہ ایک بہت بڑا اور اہم موڑ ہے جہاں دنیا بھر کے اشتہاری نیٹ ورکس کو جاسوسی اور نگرانی کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی اداروں اور بڑی ٹیک کمپنیوں کو فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔
صارفین کو بھی اس حوالے سے انتہائی محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ روزمرہ کی عام براؤزنگ کے دوران بھی وہ اس خاموش حملے کی زد میں آ سکتے ہیں۔ ماہرین نے تمام ٹیکنالوجی کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ وہ اشتہاری نیٹ ورکس کی کڑی نگرانی کریں تاکہ اس عمل کو روکا جا سکے۔
رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد بین الاقوامی سطح پر آن لائن پرائیویسی اور سکیورٹی کے حوالے سے بحث ایک بار پھر شدت سے چھڑ گئی ہے۔ دنیا بھر کی حکومتوں اور ریگولیٹرز کے لیے یہ ایک لمحہ فکریہ ہے کہ وہ اس نئی اور جدید ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے ضابطہ کار بنائیں۔
اس پورے واقعے کے بعد سے ڈیجیٹل حقوق کے علمبردار ادارے مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ عام صارفین کو اشتہارات کے اس نئے خطرے سے آگاہ کیا جائے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک اشتہاری پلیٹ فارمز کو محفوظ نہیں بنایا جاتا، اس قسم کے حملے جاری رہنے کا شدید خطرہ موجود رہے گا۔




اپنی رائے دیں