مواد پر جائیں
بدھ، 21 اکتوبر 2026 10 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 6:38
بریکنگ
حج و عمرہ زائرین ویکسین اسکینڈل: بارڈر ہیلتھ سروسز کے سربراہ سمیت 3 افسران گرفتارفیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ ایران: اہم علاقائی امور پر تبادلہ خیالایم ڈی کیٹ نتائج اور سوالنامہ: پی ایم ڈی سی کا ہنگامی اجلاس طلبحکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی اضافہسعودی شہزادی مشاعل بنت سعود بن محمد بن عبدالعزیز انتقال کر گئیںملتان: بچے کی ہلاکت پر یتیم خانے کی رجسٹریشن درخواست مستردبرطانوی اداکار رسل برینڈ کے خلاف ریپ کے مقدمے کی سماعت جاریلاہور: ٹک ٹاکر خاتون پر تشدد کرنے والا ڈرائیور گرفتاربولی وڈ اداکار ٹائیگر شروف پر حملہ: اصل ہدف کوئی اور تھا، کرائم برانچ کا انکشافاسرائیلی قومی سلامتی کا نیا نقشہ: نیتن یاہو کی حکمت عملی پر سوالاتسعودی عرب میں مسجد کے تقدس کی پامالی پر دو غیر ملکیوں کو سزائے موتعرفات منہاس کا انگلینڈ کیخلاف شاندار کارکردگی پر اہم اعزاز اپنے نامآن لائن فراڈ میں اضافہ: نوجوان نسل کو محتاط رہنے کی تنبیہسوشل میڈیا پر وائرل ‘اکتوبر تھیوری’ کیا ہے اور اس کی حقیقت کیا ہے؟امریکا کا نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں: وائٹ ہاؤسپاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی تعاون: خطے میں امن و استحکام کے لیے اہم پیش رفتچین: 12ویں منزل کی کھڑکی سے لٹکتی 3 سالہ بچی کو ریسکیو کر لیا گیاپاکستانی کرکٹ میں بہتری: طویل مدتی اصلاحات کی ضرورتانگلینڈ کے خلاف فتح، حسن نواز کا عرفات منہاس کی شاندار کارکردگی پر اظہارِ خیالنئی آٹو پالیسی: 5 سال میں 6 ارب ڈالر کی گاڑیوں کی برآمد کا ہدف مقرر
پاکستان

پی ٹی آئی دہشت گرد ہے تو مذاکرات کیوں کیے؟ مولانا فضل الرحمان

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ نے کہا ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فوری طور پر پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے۔

پی ٹی آئی دہشت گرد ہے تو مذاکرات کیوں کیے؟ مولانا فضل الرحمان

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ملک کی موجودہ سیاسی، امن و امان اور سکیورٹی کی مجموعی صورتحال پر کھل کر بات کرتے ہوئے حکومت سے کئی اہم اور بنیادی نوعیت کے سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس وقت ملک کو متعدد اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے جن میں امن و امان کی خراب ہوتی ہوئی صورتحال سب سے زیادہ تشویشناک ہے۔

لاہور میں میڈیا سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ملک میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر سنجیدگی سے غور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے اس سنگین مسئلے پر فوری طور پر پارلیمنٹ کا اِن کیمرہ اجلاس طلب کرنے کا باقاعدہ مطالبہ کیا ہے۔

جے یو آئی کے سربراہ کا مؤقف تھا کہ پارلیمنٹ ہی وہ واحد اور اصل آئینی پلیٹ فارم ہے جہاں تمام اہم قومی امور پر کھل کر اور جامع بحث کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے اس پرتشدد ماحول میں ان کے سینکڑوں کارکنوں اور علما کو نشانہ بنایا گیا۔

مولانا فضل الرحمان نے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ دہشت گردی کے مختلف واقعات اور حملوں میں ان کے ڈھائی سو کے قریب جاں نثار علما اور کارکنان جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر ملک میں دہشت گردی بنیادی مسئلہ ہے تو کیا اس کی زد میں بلوچستان جیسے اہم اور حساس علاقے نہیں آ رہے؟

سیاسی جماعتوں کے مابین رابطوں اور باہمی بات چیت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم سے ملاقات کے بعد فریقین کے تمام مطالبات اب عوام اور میڈیا کے سامنے آ چکے ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اس سیاسی عمل کے دوران دونوں جانب سے ایک دوسرے پر وعدہ خلافی کے الزامات عائد کیے گئے۔

سیاست میں جاری لفظی جنگ اور بیان بازی کا ذکر کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ سیاسی میدان میں بلاواسطہ طور پر ان کا نام لیے بغیر مختلف قسم کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس قسم کے رویوں سے ملکی سیاسی بحران میں کمی کی بجائے مزید خطرناک حد تک اضافہ ہوتا ہے۔

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ماضی کے تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے جے یو آئی کے سربراہ نے ایک بہت بڑا اور اہم سیاسی سوال اٹھایا۔ انہوں نے دریافت کیا کہ اگر پاکستان تحریک انصاف کو ایک دہشت گرد جماعت قرار دیا جاتا ہے تو پھر ماضی میں اس کے ساتھ باضابطہ اور اعلیٰ سطحی مذاکرات کیوں کیے گئے؟

انہوں نے مزید کہا کہ اصولوں پر دوغلی اور مبہم پالیسی نہیں چل سکتی اور تمام سیاسی معاملات کو شفاف طریقے سے چلانا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے وسیع تر اور دیرپا مفاد میں تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو ماضی کی تلخ غلطیوں سے سبق سیکھ کر آگے بڑھنا ہوگا۔

بین الاقوامی سطح پر رونما ہونے والے اہم واقعات اور سفارتی امور پر بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے اپنا دوٹوک اور واضح مؤقف اپنایا۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ اگر کوئی بھی طاقت یا فریق برادر اسلامی ملک سعودی عرب پر حملہ کرتا ہے تو وہ اس کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کریں گے۔

خطے میں دیرپا امن اور استحکام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تمام مسلم ممالک کے درمیان باہمی بھائی چارے اور یکجہتی کو نقصان پہنچانے والی کسی بھی سازش کو مکمل طور پر ناکام بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ہمیشہ امن کو بنیادی ترجیح دی جانی چاہیے۔

ملکی معیشت کے زوال اور عوام کو درپیش شدید مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عام آدمی مہنگائی اور بے روزگاری کی چکی میں بری طرح پس رہا ہے۔ ایسے کٹھن حالات میں بلاوجہ کی سیاسی محاذ آرائی کسی صورت بھی ملک و قوم کی خدمت کے مترادف نہیں ہو سکتی۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر صرف اور صرف ملکی سلامتی کے لیے سوچنا ہوگا۔ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی بحالی کا خواب کبھی بھی شر شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

اختتام پر مولانا فضل الرحمان نے ایک بار پھر اس امر کا اعادہ کیا کہ پارلیمنٹ کے ایوان کے اندر تمام قومی امور پر سنجیدہ بحث ہونی چاہیے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلے تاکہ ملک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکے۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں