مواد پر جائیں
ہفتہ، 31 اکتوبر 2026 صبح 8:52 20 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 8:08
تازہ
پاک افغان سرحد پر سیکیورٹی فورسز کا بھرپور جوابی ایکشن، دشمن کی پوسٹیں تباہمیونخ ایئر ڈیزاسٹر یادگار سے قیمتی اشیاء چوری، انتظامیہ کا افسوس کا اظہاراوگرا نے ایل این جی کی نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیااو ڈی آئی ٹرائی سیریز کا فائنل: پاکستان اور سری لنکا کل لاہور میں مدمقابلہالی وڈ اداکار بریڈ پٹ کا بچوں سے دوری کے حوالے سے جذباتی اظہارانگور اڈہ پر بلا اشتعال فائرنگ: پاک فوج کا بھرپور جوابی ایکشنامریکہ ایران مذاکرات کی بحالی کیلئے قطری سفارتی وفد تہران پہنچ گیاسپین میں ہولناک ٹرین حادثے نے قبل از وقت انتخابات کا رخ بدل دیابنانس کو تاریخ کے سب سے بڑے ہیک کا سامنا، 6.3 ارب ڈالر چوریروس کے سمارا ریجن کی آئل ریفائنری پر یوکرین کا ڈرون حملہگرین بے پیکیٹرز نے کیرولینا پینتھرز کو 27-19 سے ہرا دیاجیمز اینڈرسن کا لنکاشائر سے علیحدگی پر صدمے کا اظہار، کیریئر کا مستقبل غیر یقینیفیول ریلیف اسکیم کا دائرہ کار وسیع کرنے پر غور، مستفید افراد کی تعداد دو کروڑ تک بڑھانے کا امکانعظیم موسیقار خواجہ خورشید انور کی برسی پر فنی خدمات کو خراجِ تحسینایک روپے کی بھی کرپشن ثابت ہوئی تو استعفیٰ دے دوں گی، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازدسمبر سے فروری تک بجلی صارفین کیلئے مشکل ترین ہونے کا خدشہخیبر پختونخوا: ٹی ایم ایز کے لیے اضافی گرانٹ، تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی لازمی قرارکراچی: جعلی پولیس مقابلے میں نوجوان کے قتل پر اہلکار کو سزائے موتخواجہ آصف اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان تلخی پارلیمانی نوک جھوک ہے: رانا ثنا اللہبوسنیا: اطالوی فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 4 افراد ہلاک، 11 زخمی
صبح 8:5231 اکتوبر
سائنس و ٹیکنالوجی

سرکاری خریداری میں گٹھ جوڑ پکڑنے کیلئے مصنوعی ذہانت کا نظام تیار

مسابقتی کمیشن آف پاکستان نے بڈ رگنگ کی نشاندہی کے لیے جدید اے آئی سسٹم متعارف کرا دیا ہے۔

سرکاری خریداری میں گٹھ جوڑ پکڑنے کیلئے مصنوعی ذہانت کا نظام تیار

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان میں سرکاری خریداری کے عمل کو شفاف بنانے اور اس میں پائے جانے والے مبینہ گٹھ جوڑ کی روک تھام کے لیے ایک جدید مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام تیار کر لیا گیا ہے۔ مسابقتی کمیشن آف پاکستان کی جانب سے تیار کردہ اس نظام کا بنیادی مقصد سالانہ اربوں ڈالر کی سرکاری خریداری میں ہونے والی بے ضابطگیوں اور مشتبہ بولیوں کا بروقت سدباب کرنا ہے۔

ذرائع کے مطابق ملک میں سالانہ تقریباً ساٹھ ارب ڈالر کی سرکاری خریداری کی جاتی ہے جو کہ مجموعی قومی پیداوار کا پندرہ سے بیس فیصد بنتی ہے۔ اس اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والے مالی لین دین اور خریداری کے عمل کی دستی جانچ اور نگرانی کسی بھی ادارے کے لیے ایک انتہائی مشکل اور پیچیدہ مرحلہ ہوتا ہے۔

مسابقتی کمیشن کے چیئرمین فرید احمد تارڑ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ کھربوں روپے کی خریداری کے اس پورے نظام کی دستی نگرانی کرنا عملی طور پر ممکن نہیں ہے۔ نیا مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام تحقیقاتی وسائل کو بہتر انداز میں استعمال کرتے ہوئے زیادہ خطرے والے معاملات پر توجہ مرکوز کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔

اس جدید ڈیٹیکشن سسٹم کی تیاری کا مقصد بولیوں کے عمل میں کی جانے والی ہیرا پھیری اور بڈ رگنگ کی نشاندہی کرنا ہے۔ یہ سسٹم مشتبہ بولیوں اور متعلقہ افراد یا اداروں کے درمیان ممکنہ گٹھ جوڑ کو خودکار طریقے سے پکڑنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

ادارے کے مطابق اس نئے نظام کی تنصیب اور نفاذ سے ملک بھر میں سرکاری خریداری کے دوران منصفانہ مسابقت کے اصولوں کو فروغ ملے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام کے جمع کردہ قیمتی مالی وسائل کے بہتر اور شفاف استعمال کو بھی یقینی بنایا جا سکے گا۔

تاہم مسابقتی کمیشن نے یہ واضح کیا ہے کہ اس نظام کی طرف سے جاری ہونے والے الرٹس کو کسی بھی قانون کی خلاف ورزی یا کارٹل کا حتمی ثبوت ہرگز نہیں سمجھا جائے گا۔ ہر مشتبہ معاملے کی مکمل آزادانہ تصدیق، دستاویزی شواہد کی فراہمی اور قانونی جانچ پڑتال کا عمل لازمی ہوگا۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس نظام کی تیاری کے بعد اس کے نفاذ کے لیے تمام ضروری انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں وفاقی اور تمام صوبائی پروکیورمنٹ اتھارٹیز کے علاوہ سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے ساتھ بھی ادارہ جاتی مفاہمت طے پا چکی ہے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مسابقتی کمیشن آف پاکستان کا تیار کردہ یہ جدید نظام بین الاقوامی سطح پر بھی پذیرائی حاصل کر چکا ہے۔ اس نظام کو اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی عالمی اینٹی ٹرسٹ رپورٹ میں بھی شامل کیا گیا ہے جس میں دنیا بھر کے تیس بہترین مسابقتی اداروں کے تجربات اور ماڈلز پیش کیے گئے ہیں۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے جدید تکنیکی اقدامات سے سرکاری محکموں میں مالیاتی شفافیت کے کلچر کو پروان چڑھانے میں مدد ملے گی۔ اس سسٹم کے فعال ہونے سے بدعنوانی کے رجحانات میں نمایاں کمی واقع ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔

حکومت اور متعلقہ ادارے ملک میں معاشی استحکام اور شفافیت کے فروغ کے لیے اس طرح کے اقدامات کو بتدریج وسعت دے رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کا یہ جدید پروجیکٹ سرکاری سطح پر خریداری کے عمل میں انقلابی تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں اس قسم کے خودکار نظاموں کی اہمیت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ مسابقتی کمیشن کا یہ اقدام ملکی معیشت کی بہتری اور سرکاری فنڈز کی بہترین حفاظت کی سمت میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

قومی سطح پر اداروں کے مابین تعاون اور مفاہمت سے اس نظام کے نفاذ کو مزید موثر بنایا جا رہا ہے۔ تمام متعلقہ ادارے اس بات پر متفق ہیں کہ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ایسے جدید ڈیجیٹل ٹولز کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے۔

آئندہ آنے والے دنوں میں اس نظام کی مکمل فعالیت کے بعد سرکاری خریداری کے شعبے میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئے گی۔ مسابقتی کمیشن اس تمام عمل کی خود مانیٹرنگ کرے گا تاکہ اس کے بہترین نتائج حاصل کیے جا سکیں۔

سائنس و ٹیکنالوجی کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیلوں کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں