چیچنیا کے سربراہ رمضان قادروف نے یمن کے حوثی گروہ کو ایک اہم بیان میں مشورہ دیا ہے کہ انہیں سعودی عرب میں شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے بجائے مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈوں کا رخ کرنا چاہیے۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں متعدد جانی و مالی نقصان کی اطلاعات سامنے آئیں اور خطے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
ریاض ایئرپورٹ پر ہونے والے ان حملوں کے دوران متعدد شہری جاں بحق اور تین سو سے زائد افراد زخمی ہوئے جن میں مقدس مقامات کی زیارت کے لیے جانے والے مسافر اور زائرین بھی شامل تھے۔
رمضان قادروف نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر جاری کردہ پیغام میں ان حملوں پر تفصیلی تبصرہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ معصوم شہریوں کی تنصیبات پر حملے کسی بھی طور قابل قبول نہیں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ شہری بنیادی ڈھانچے کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کا نہ تو کوئی سیاسی جواز پیش کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی مذہبی یا اخلاقی دلیل کی بنیاد پر اس کی تائید کی جا سکتی ہے۔
چیچن رہنما کے مطابق یہ حملے بظاہر یمن کے اندر سعودی عرب کی قیادت میں جاری عسکری کارروائیوں اور فوجی آپریشن کے ردعمل کے طور پر انجام دیے گئے ہیں تاہم اہداف کا چناؤ درست نہیں تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر حوثی فورسز نے اپنی کارروائیوں کا رخ موڑنا ہی تھا تو انہیں ایسے اہداف کا انتخاب کرنا چاہیے تھا جو براہ راست تنازعے سے جڑے ہوں اور کسی فریق کے عام شہریوں کو نقصان نہ پہنچے۔
رمضان قادروف کی جانب سے یہ تجویز بھی دی گئی کہ پورے خطے میں مختلف مقامات پر امریکی فوجی اڈے موجود ہیں جنہیں نشانہ بنانا زیادہ منطقی عمل ہوتا بجائے اس کے کہ شہریوں کو زد میں لایا جائے۔
دوسری جانب روس کی وزارت خارجہ نے بھی ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والے میزائل حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے تشویشناک قرار دیا ہے۔
روسی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں جزیرہ نما عرب کے تنازع میں ملوث تمام فریقین سے پرزور مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ شہری بنیادی ڈھانچے کو حملوں سے محفوظ رکھیں۔
بیان میں ریاض ایئرپورٹ پر حملے کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا گیا جبکہ جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کے ساتھ تعزیت بھی کی گئی۔
روسی وزارت نے حملوں میں زخمی ہونے والے افراد کی جلد از جلد صحت یابی کے لیے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا تاکہ خطے میں انسانی بنیادوں پر کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔
مشرق وسطیٰ کے امور پر نظر رکھنے والے حلقوں کا کہنا ہے کہ اس قسم کے حملے خطے کے امن کو خراب کرنے کا باعث بنتے ہیں جن پر بین الاقوامی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
حوثیوں کی جانب سے اس طرح کی کارروائیوں پر مختلف عالمی رہنماؤں کی طرف سے ردعمل سامنے آ رہا ہے جس میں شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔





اپنی رائے دیں