مواد پر جائیں
بدھ، 14 اکتوبر 2026 3 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 9:37
بریکنگ
سعودی عرب: ریاض اور جنوبی علاقوں میں حوثیوں کے 3 میزائل اور 2 ڈرون تباہڈیرہ اسماعیل خان میں دفعہ 144 کا نفاذ، ڈبل سواری اور اسلحہ کی نمائش پر پابندیملتان کے قریب رحمان بابا ایکسپریس حادثہ: ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جاریبحیرہ اسود میں ڈرون حملہ، مال بردار جہاز ڈوبنے سے 11 افراد لاپتاسوات: سیدو شریف ہسپتال میں 6 افغان ڈاکٹرز کی ہاؤس جاب معطل، پاکستان چھوڑنے کا حکمسعودی عرب: حوثی ملیشیا کے میزائل حملے ناکام، ریاض اور ظہران میں نقصاناتاسلام آباد میں خودکشی کیس کا ملزم مانسہرہ میں بھی فراڈ کا اشتہاری نکلاپنجاب: آئی جی جیل خانہ جات کو رشوت دینے کی کوشش کرنے والا سپرنٹنڈنٹ گرفتارکیتھولک مسیحیوں کے مذہبی پیشوا پوپ لیو پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلاپاک فوج کا ہائپرسونک بیلسٹک میزائل ‘فتح ٹو (ای آر)’ کا کامیاب تجربہپاکستان کو اکتوبر کا پہلا ایل این جی کارگو موصول، سردیوں میں گیس کی طلب میں اضافے کا خدشہآسٹریلیا: چمگادڑوں کے حملوں میں تشویشناک اضافہ، جان لیوا وائرس کا خدشہلاہور میں فضائی آلودگی کی شرح میں اضافہ، بارش کا امکانترکی اور آذربائیجان کے دیرینہ تعلقات میں سفارتی و سیاسی اختلافات کی نئی بحثعالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہکراچی میں پولیس کے ایکشن، مختلف مقابلوں کے دوران 3 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتارپاکستان کا دوٹوک مؤقف: افغان سرزمین کا استعمال ناقابل قبول ہےدہشت گردی کے خاتمے کیلئے وفاق اور صوبوں میں ہم آہنگی ناگزیر ہےبلاول بھٹو کا فیصل کریم کنڈی کو پارلیمانی پارٹی اجلاس سے باہر جانے کا حکمتماشہ 5 کی رنر اپ اسرا عائشہ کا اپنے ساتھی امیدواروں کے رویے پر ردعمل
دنیا

آسٹریلیا: چمگادڑوں کے حملوں میں تشویشناک اضافہ، جان لیوا وائرس کا خدشہ

نیو ساؤتھ ویلز میں چمگادڑوں کے کاٹنے کے واقعات میں تیزی، محکمہ صحت نے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی۔

آسٹریلیا: چمگادڑوں کے حملوں میں تشویشناک اضافہ، جان لیوا وائرس کا خدشہ

آسٹریلیا میں چمگادڑوں کے کاٹنے اور پنجے مارنے کے واقعات میں اچانک اضافے نے حکام کی تشویش بڑھا دی ہے۔ نیو ساؤتھ ویلز کے محکمہ صحت نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ان جانوروں کو چھونے یا پکڑنے کی کوشش سے مکمل گریز کریں۔

رپورٹس کے مطابق ریاست کے شمالی علاقوں میں 28 ستمبر سے 10 اکتوبر کے مختصر عرصے کے دوران چمگادڑوں کے حملوں کے 43 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ یہ تعداد گزشتہ سال اسی عرصے کے دوران پیش آنے والے 10 واقعات کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔

صحت کے حکام نے نشاندہی کی ہے کہ یہ واقعات خاص طور پر ہنٹر ریجن، مڈ نارتھ کوسٹ، شمالی نیو ساؤتھ ویلز اور سینٹرل کوسٹ کے علاقوں میں پیش آئے ہیں۔ مقامی انتظامیہ صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ چمگادڑوں میں 'آسٹریلین بیٹ لِسا وائرس' پایا جاتا ہے جو ریبیز سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ یہ وائرس انسانوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے اور ایک بار علامات ظاہر ہونے کے بعد اس کا کوئی مؤثر علاج موجود نہیں ہے۔

نیو ساؤتھ ویلز کے محکمہ صحت میں ڈائریکٹر ہیلتھ پروٹیکشن کیرا گلاسگو نے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہر شہری کو یہ فرض کر لینا چاہیے کہ کوئی بھی چمگادڑ اس مہلک وائرس کی حامل ہو سکتی ہے، لہذا ان سے دوری ہی بہترین بچاؤ ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص چمگادڑ کے کاٹنے یا پنجے مارنے سے زخمی ہو جائے تو اسے فوری طور پر متاثرہ جگہ کو صابن اور پانی سے اچھی طرح دھونا چاہیے۔ بروقت طبی امداد اور ویکسینیشن ہی اس بیماری سے بچاؤ کا واحد مؤثر ذریعہ ہے۔

محکمہ صحت نے واضح کیا ہے کہ چمگادڑوں کو سنبھالنے یا انہیں پکڑنے کی کوشش صرف تربیت یافتہ افراد ہی کر سکتے ہیں۔ عام شہریوں کے لیے ان جانوروں کے قریب جانا ان کی اپنی صحت کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔

آسٹریلوی حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وائرس سے متاثر ہونے کے بعد بروقت طبی اقدامات بیماری کو جان لیوا بننے سے روک سکتے ہیں۔ عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ کسی بھی مشکوک واقعے کے بعد فوری طور پر قریبی ہسپتال سے رابطہ کریں۔

یہ وائرس اپنی نوعیت کے اعتبار سے انتہائی پیچیدہ ہے اور اس کی علامات ظاہر ہونے کے بعد مریض کی حالت تیزی سے بگڑ سکتی ہے۔ اسی لیے محکمہ صحت نے عوامی آگاہی مہم کو مزید تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ شہریوں کو خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔

آسٹریلیا میں جنگلی حیات اور انسانی آبادی کے درمیان بڑھتے ہوئے رابطوں کے پیش نظر ماہرین نے ماحولیاتی تبدیلیوں اور رہائشی علاقوں میں چمگادڑوں کی نقل و حرکت پر بھی تحقیق شروع کر دی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

حکومت کی جانب سے جاری کردہ ہدایات میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی علاقے میں چمگادڑوں کی تعداد غیر معمولی طور پر بڑھ جائے تو مقامی وائلڈ لائف حکام کو مطلع کیا جائے۔ شہریوں کو خود سے کوئی بھی کارروائی کرنے سے منع کیا گیا ہے۔

صحت عامہ کے ماہرین کا ماننا ہے کہ بروقت ویکسینیشن اور احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد سے اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے۔ حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ عوامی تعاون سے ان واقعات میں کمی لائی جا سکے گی۔

مستقبل میں اس طرح کے خطرات سے نمٹنے کے لیے آسٹریلوی محکمہ صحت مقامی ہسپتالوں میں ویکسین کی فراہمی کو بھی یقینی بنا رہا ہے۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی غفلت نہ برتیں اور فوری طبی امداد کو ترجیح دیں۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیلوں کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں