سعودی عرب کے مقدس مقامات کے سکیورٹی حکام نے مسجد الحرام میں خودکش بمبار کی موجودگی اور اس کی گرفتاری سے متعلق گردش کرنے والی تمام اطلاعات کی سختی سے تردید کر دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی یہ خبریں حقائق کے منافی اور بے بنیاد ہیں۔
ترجمان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے مسجد الحرام کے احاطے سے ایک ایسے شخص کو حراست میں لیا ہے جو وہاں موجود زائرین کے لیے مشکلات پیدا کر رہا تھا۔ یہ شخص مسجد کے تقدس کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں میں خوف و ہراس پھیلانے کا سبب بن رہا تھا۔
حکام نے وضاحت کی ہے کہ مذکورہ شخص کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی گئی تاکہ زائرین کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس واقعے کو خودکش بمبار کی گرفتاری کا رنگ دینا سراسر غلط بیانی اور گمراہ کن پروپیگنڈا ہے۔
گرفتار کیے گئے شخص کو حراست میں لینے کے بعد ضروری قانونی تقاضے پورے کیے گئے ہیں۔ ابتدائی تفتیش اور کارروائی مکمل ہونے پر اسے مزید قانونی کارروائی کے لیے پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کر دیا گیا ہے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔
سعودی سکیورٹی ادارے حرمین شریفین کی حفاظت اور زائرین کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت چوکس رہتے ہیں۔ حکام نے عوام اور زائرین سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسی غیر مصدقہ اور افواہوں پر مبنی خبروں پر کان نہ دھریں اور صرف سرکاری ذرائع سے ملنے والی معلومات پر یقین رکھیں۔
مسجد الحرام دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے عقیدت کا مرکز ہے اور یہاں کی سکیورٹی انتہائی سخت ہے۔ سعودی حکومت زائرین کو ہر ممکن سہولت اور تحفظ فراہم کرنے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی اور تربیت یافتہ سکیورٹی اہلکاروں کو تعینات رکھتی ہے۔
ماضی میں بھی مختلف مواقع پر حرمین شریفین کی سکیورٹی کے حوالے سے غلط معلومات پھیلانے کی کوشش کی گئی ہے، جنہیں سعودی حکام نے فوری طور پر مسترد کیا ہے۔ حکام اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مقدس مقامات کے تقدس کو مجروح کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔
سوشل میڈیا کے دور میں کسی بھی خبر کی تصدیق کے بغیر اسے آگے بڑھانا معاشرتی انتشار کا باعث بن سکتا ہے۔ حکام نے زور دیا ہے کہ ایسی حساس نوعیت کی خبروں کو پھیلانے سے گریز کیا جائے جو زائرین اور عوام میں بے جا خوف و ہراس پیدا کریں۔
سعودی عرب کی پبلک پراسیکیوشن اب اس معاملے کی مزید تحقیقات کر رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اس شخص کا اصل مقصد کیا تھا اور وہ کن حالات میں مسجد الحرام میں اس طرح کی حرکت کا مرتکب ہوا۔ قانون کے مطابق اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
حرمین شریفین کے حکام کی جانب سے جاری کردہ اس بیان کے بعد اب تمام قیاس آرائیاں دم توڑ گئی ہیں۔ زائرین کی بڑی تعداد بدستور مسجد الحرام میں عبادت اور مناسک کی ادائیگی میں مصروف ہے اور وہاں کا ماحول مکمل طور پر پرسکون اور محفوظ ہے۔
پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں نے سعودی حکام کی جانب سے اس وضاحت کا خیرمقدم کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں کے برعکس، سعودی عرب کی جانب سے بروقت تردید نے زائرین کے خدشات کو دور کر دیا ہے اور صورتحال بالکل معمول پر ہے۔
سکیورٹی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی شرپسندی یا امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے کی کوششوں سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ مسجد الحرام میں سکیورٹی کا نظام انتہائی مستحکم ہے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی گنجائش موجود نہیں ہے۔
آخر میں، حکام نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ زائرین کا تحفظ ان کی اولین ترجیح ہے۔ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی یا سکیورٹی کے لیے خطرہ بننے والے عناصر کے خلاف سعودی قوانین کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

اپنی رائے دیں