مصر نے یمن کے جاری تنازع کے پرامن اور سفارتی حل کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں، جس کا مقصد خطے میں استحکام کو یقینی بنانا ہے۔ اس سلسلے میں مصری قیادت کی جانب سے سعودی عرب کے ساتھ مسلسل رابطے کیے جا رہے ہیں۔
حال ہی میں مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی اور انٹیلی جنس کے سربراہ حسن رشاد نے ریاض کا دورہ کیا ہے۔ اس دورے کے دوران انہوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی اور صدر عبدالفتاح السیسی کا خصوصی پیغام پہنچایا۔
ملاقات میں یمن کی موجودہ صورتحال اور خطے کی سکیورٹی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مصر نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یمن کے بحران کا واحد پائیدار حل صرف بات چیت اور سیاسی مفاہمت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
قاہرہ کا موقف ہے کہ حوثیوں کو باب المندب کے قریب قبضے میں لیے گئے علاقوں سے انخلا کرنا چاہیے تاکہ بین الاقوامی سمندری راستوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ مصر نے تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔
سعودی عرب اور مصر کے درمیان دہائیوں پر محیط گہرے سفارتی اور معاشی تعلقات قائم ہیں۔ سعودی عرب مصر کا ایک اہم معاشی شراکت دار ہے جو توانائی کی فراہمی اور مرکزی بینک میں سرمایہ کاری کے ذریعے قاہرہ کی معیشت کو سہارا دیتا رہا ہے۔
یاد رہے کہ 2015 میں جب یمن میں تنازع شدت اختیار کر گیا تھا تو مصر نے سعودی اتحاد میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اس وقت مصر کا کردار بنیادی طور پر بحری راستوں کی نگرانی اور تحفظ تک محدود رکھا گیا تھا۔
سن 2022 میں امریکی ثالثی کے نتیجے میں یمن میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا، جس کے بعد سے خطے میں عسکری کارروائیوں کی شدت میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ مصر اسی جنگ بندی کو مستقل امن میں بدلنے کا خواہاں ہے۔
مصر کا ماننا ہے کہ یمن میں جاری خانہ جنگی نہ صرف انسانی المیے کا سبب بن رہی ہے بلکہ یہ بحیرہ احمر کی تجارت کے لیے بھی خطرہ ہے۔ اس لیے سیاسی حل کے لیے بین الاقوامی برادری کا متحرک ہونا ضروری ہے۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے مصری قیادت کے پیغام کو سراہا ہے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک نے باہمی مشاورت کا سلسلہ جاری رکھنے کا اعادہ کیا ہے۔
مستقبل میں مصر کی جانب سے یمن کے معاملے پر مزید سفارتی سرگرمیوں کی توقع کی جا رہی ہے۔ قاہرہ کا مقصد تمام متعلقہ فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانا ہے تاکہ یمن کے عوام کو طویل المدتی ریلیف مل سکے۔


اپنی رائے دیں