مواد پر جائیں
پیر، 19 اکتوبر 2026 8 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 3:37
بریکنگ
یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف آپریشن ڈان آف یمن جاری، 1326 حملےبالی ووڈ اداکار ٹائیگر شیروف پر حملہ، گاڑی پر فائرنگ سے مداح تشویش میں مبتلاآزاد کشمیر میں بدامنی کیلئے بھارتی سازش اور کالعدم تنظیم کا گٹھ جوڑ بے نقابخیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ: قومی سلامتی اور سیاسی استحکام کا تقاضادانش اسکول کا دائرہ کار پورے پاکستان تک وسیع کرنے کا اعلانایران کی امریکا کو سات روزہ تجویز، شرائط ماننے پر آبنائے ہرمز کھولنے کا عندیہبالی وڈ اداکار ٹائیگر شروف فائرنگ کے واقعے میں محفوظ رہےکراچی میں غیر ملکیوں کو لوٹنے والا بڑا سائبر فراڈ نیٹ ورک بے نقاببولان: مزدا اور کار میں تصادم، خواتین اور بچوں سمیت 4 افراد جاں بحقممبئی میں بالی ووڈ اداکار ٹائیگر شیروف کی گاڑی پر فائرنگ، اداکار محفوظراولپنڈی: ون ویلنگ سے روکنے پر فائرنگ، خاتون سمیت 3 افراد زخمیبھارتی اداکار ٹائیگر شروف پر قاتلانہ حملہ، ڈرائیور سمیت تین افراد زخمیکراچی: کورنگی میں 20 سالہ نوجوان کی پھندا لگی لاش برآمدپاکستان میں غربت کی شرح کورونا وبا سے قبل کی سطح سے زیادہ، عالمی بینک کی رپورٹاوکاڑہ: پولیس مقابلے میں 51 مقدمات میں مطلوب خطرناک ڈاکو ہلاکایران کی آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کیلئے 7 روزہ منصوبے کی پیشکشروس کا ایران اور امریکہ کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر واپس آنے کا مطالبہکینیڈا کے شہر ایڈمنٹن میں خالصتان ریفرنڈم کے لیے ووٹنگ کا انعقادخیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا مقصد دہشت گردی کا خاتمہ ہے: طارق فضل چودھریاسحاق ڈار کی ایرانی اور مصری ہم منصبوں سے ٹیلی فونک گفتگو، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال
دنیا

مکہ دفاعی معاہدہ: ترکی کی جانب سے سعودی عرب کو عسکری معاونت کی تیاری

ترکی کی وزارتِ دفاع نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی مدد کے لیے قانونی اور عسکری روڈ میپ پر کام شروع کر دیا ہے۔

مکہ دفاعی معاہدہ: ترکی کی جانب سے سعودی عرب کو عسکری معاونت کی تیاری

ترکی کی وزارتِ قومی دفاع نے سعودی عرب پر حوثیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے تناظر میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت عسکری تعاون فراہم کرنے کے لیے باقاعدہ حکمت عملی وضع کرنا شروع کر دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانا اور اتحادی ملک کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرنا ہے۔

ترک وزارتِ دفاع کے مطابق، اس عسکری حمایت کا حتمی خاکہ ترکیہ کی گرینڈ قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد طے پائے گا۔ آئینی تقاضوں کے تحت، بیرونِ ملک فوج بھیجنے یا کسی بھی دفاعی معاہدے پر عمل درآمد کے لیے پارلیمان کی توثیق لازمی ہے، جس کے لیے حکومت جلد قرارداد پیش کرے گی۔

ترکی کا مؤقف ہے کہ مکہ معاہدہ ایک خالصتاً دفاعی نوعیت کا اتحاد ہے۔ ترک وزیر خارجہ حقان فیدان نے واضح کیا ہے کہ اس معاہدے کا مقصد کسی دوسرے ملک پر حملہ کرنا نہیں بلکہ جب معاہدے کا کوئی فریق حملے کا شکار ہوتا ہے تو اس کے دفاع کے لیے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔

ممکنہ عسکری تعاون کے دائرہ کار میں فضائی دفاعی نظام، لاجسٹک سپورٹ اور انٹیلیجنس معاونت شامل ہو سکتی ہے۔ انقرہ کا کہنا ہے کہ تعاون کی نوعیت کا تعین سعودی عرب کی ضروریات، زمینی پیش رفت اور فریقین کے مابین باہمی اتفاقِ رائے سے کیا جائے گا۔

سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان حالیہ کشیدگی کے تناظر میں ترکی نے خطے میں بڑھتے ہوئے تناؤ پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ صدر رجب طیب اردوغان نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک گفتگو میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ ترکی سعودی عرب کے ساتھ کھڑا رہے گا۔

ترکی اس پورے عمل کے دوران ایک توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ صدر اردوغان نے واضح کیا ہے کہ ترکی کسی بھی تنازع کو نسلی یا فرقہ وارانہ زاویے سے نہیں دیکھتا بلکہ اس کی ترجیح خطے میں قیامِ امن ہے۔

اس سلسلے میں ترک حکام کی جانب سے ایران سمیت دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ بھی رابطے جاری ہیں۔ وزیر خارجہ حقان فیدان نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے درکار سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

مکہ اتحاد کی سٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی نے پانچ اکتوبر کو ہونے والے اجلاس میں سعودی عرب کو فوری عسکری مدد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم، اتحاد کے ادارہ جاتی عمل کے ابھی مکمل نہ ہونے کے سبب عسکری حمایت سے متعلق اقدامات میں وقت لگنے کی بات کہی جا رہی ہے۔

ترکی کے آئین کا آرٹیکل 92 پارلیمان کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ بیرونِ ملک ترک مسلح افواج کی تعیناتی کے حوالے سے فیصلہ کرے۔ حکومت کو توقع ہے کہ پارلیمان سے سادہ اکثریت کے ساتھ اس قرارداد کی منظوری حاصل کر لی جائے گی، جس کے بعد عملی اقدامات شروع ہوں گے۔

سعودی عرب کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور ہوائی اڈوں پر حالیہ حملوں کے بعد سے ریاض کی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے پر بات چیت ہو رہی ہے۔ ترکی کی جانب سے ملنے والی ممکنہ مدد کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

ترکی کا یہ فیصلہ مکہ اتحاد کے اس اصول پر مبنی ہے کہ کسی ایک رکن پر حملہ تمام اتحادیوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ مکہ معاہدے کے تحت تمام فریقین ایک دوسرے کے دفاع کے لیے پرعزم ہیں تاکہ خطے میں کسی بھی قسم کی جارحیت کو روکا جا سکے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی سعودی عرب کو عسکری حمایت فراہم کرنے کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ دونوں ممالک کا سعودی عرب کی مدد کرنا ایک اچھا اقدام ہے اور یہ خطے کے لیے مثبت ثابت ہوگا۔

آنے والے دنوں میں سٹریٹجک کمیٹی کے مزید اجلاس متوقع ہیں جن میں عسکری معاونت کے طریقہ کار کو مزید پختہ کیا جائے گا۔ ترکی کی جانب سے فراہم کی جانے والی یہ معاونت سعودی عرب کی دفاعی استعداد میں اضافے کا باعث بنے گی اور خطے میں سکیورٹی صورتحال کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں