ریاض میں سعودی کابینہ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک کو درپیش سلامتی کے امور اور خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس کے دوران قومی دفاع اور سکیورٹی سے متعلق امور کو زیر بحث لایا گیا اور اہم فیصلے کیے گئے۔
کابینہ کے اجلاس میں سعودی عرب پر مسلسل ہونے والے حملوں کا انتہائی سخت نوٹس لیا گیا اور حوثیوں کو واضح الفاظ میں سنگین نتائج کی وارننگ دی گئی۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مملکت کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
ترجمان کے مطابق اجلاس کے دوران دارالحکومت ریاض سمیت ملک کے مختلف ہوائی اڈوں، اور مقدس مقامات مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر ہونے والے حوثی حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔ ان حملوں کو خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔
اجلاس کے دوران اس بات پر بھی گہرے اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ سعودی عرب کی مشرقی سے مغربی ساحل تک تیل کی ترسیل کے راستے اب مکمل طور پر بحال ہو چکے ہیں۔ توانائی کی ترسیل کے ان راستوں کی بحالی ملکی اور عالمی معیشت کے لیے اہم ہے۔
یمن کے تنازعے اور خطے کی سکیورٹی کے تناظر میں سعودی قیادت نے ہمیشہ سے اس بات پر زور دیا ہے کہ حوثی ملیشیا کی طرف سے سرحد پار حملے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔ سعودی عرب اپنی خود مختاری کے دفاع کا پورا حق رکھتا ہے۔
یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں کام کرنے والا اتحادی اتحاد حوثی باغیوں کی طرف سے لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے قانونی بنیادوں پر کارروائیاں کر رہا ہے تاکہ یمنی عوام کو مصائب سے نجات دلائی جا سکے۔
عالمی تجارت کے لیے بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب کی تجارتی گزرگاہیں کلیدی حیثیت رکھتی ہیں اور یہاں جہاز رانی کا محفوظ رہنا عالمی معاشی استحکام کے لیے انتہائی ضروری امر ہے۔
مملکت میں تیل کی ترسیل کے نظام کی بحالی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی حکومت تمام داخلی اور خارجی معاشی چیلنجز سے احسن طریقے سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔
سعودی کابینہ کا یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہوا جب خطے میں کشیدگی کا خاتمہ اور امن کی بحالی سعودی عرب کی ترجیحات میں شامل ہے، اور حکومت ہر ممکن قدم اٹھا رہی ہے۔




اپنی رائے دیں