مواد پر جائیں
جمعرات، 29 اکتوبر 2026 18 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 9:15
بریکنگ
پنجاب میں جعلی ہارمونل دوا کی فروخت پر الرٹ جاریکار سرکار میں مداخلت کیس: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو 10، 10 سال قید کی سزاایران کو امریکی نائب صدر کا خط موصول، تہران کا جواب دینے سے گریزکے ایم سی کے 10 ہزار ملازمین کی ڈگریاں تصدیق کروانے کا حکمبلوچستان کی باہمت خاتون کرکٹر زمر شفیع کینسر کے باوجود میدان میں ڈٹ گئیںمولانا فضل الرحمان کے بیان پر محسن نقوی کا سخت ردعمل، احترام کی گنجائش ختم ہونے کا اعلانپاکستان میں سونے کی قیمت مستحکم، چاندی کے نرخوں میں کمیپاسبان ریمیٹنس ریوارڈز اسکیم: 16 ارب روپے کے انعامات جیتنے کا طریقہ کار واضحلاہور ہائیکورٹ: نیورو سرجری اسسٹنٹ پروفیسرز کی بھرتیاں پی ایم ڈی سی ضوابط کے تابع قرارلکی مروت: دو سالہ بچہ اغوا کے بعد قتل، بوری بند لاش برآمدکراچی: بنارس موبائل مارکیٹ میں ڈکیتی کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پرکراچی کے علاقے ڈیفنس میں شہریوں کو ہراساں کرنے کی ویڈیوز، پولیس کی تحقیقات جاریکراچی: شاہ فیصل کالونی میں بھائی نے فائرنگ کر کے دو بہنوں کو قتل کر دیاخیبر پختونخوا میں تجاوزات کیخلاف گرینڈ آپریشن کا آغاز، غیر قانونی تعمیرات مسماردرآمدی گندم کی آمد، آٹے اور گندم کی قیمتوں میں کمی کا امکانبھارت: مائیکروسافٹ ملازم کو نوکری چھوڑنے پر 11 لاکھ کی پیشکش، انٹرنیٹ پر بحثثانوی تعلیمی بورڈ کراچی نے نہم جماعت سائنس گروپ کے نتائج کا اعلان کر دیابلوچستان: سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں 9 دہشت گرد ہلاکآئی سی سی رینکنگ میں بڑی تبدیلی، مارکو جینسن اور ابھیشیک شرما نمبر ون بن گئےامریکا کی ایران پر ممکنہ بڑے حملے کی تیاری، خلیجی ممالک کو آگاہ کر دیا
دنیا

ایران کو امریکی نائب صدر کا خط موصول، تہران کا جواب دینے سے گریز

تہران نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا خط ملنے کی تصدیق کردی ہے مگر تاحال کوئی ردعمل نہیں دیا گیا۔

ایران کو امریکی نائب صدر کا خط موصول، تہران کا جواب دینے سے گریز

تہران نے اس بات کی باضابطہ تصدیق کی ہے کہ اسے امریکی انتظامیہ کی جانب سے ایک اہم سفارتی خط موصول ہو چکا ہے۔ ایرانی ذرائع کے مطابق یہ مراسلہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی طرف سے تہران کو بھیجا گیا ہے۔

تسنیم نیوز ایجنسی کی رپورٹس میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ ایرانی حکام نے خط ملنے کی تصدیق تو کر دی ہے لیکن اس خط پر تاحال کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ ایران کا مؤقف ہے کہ اس حوالے سے انتہائی محتاط انداز میں غور و خوض کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق اس خط کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعطل کا شکار ہونے والے امن مذاکرات کو دوبارہ بحال کرنا ہے۔ واشنگٹن اور تہران کے تعلقات میں گزشتہ کچھ عرصے سے شدید کشیدگی پائی جارہی ہے۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ رابطہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خصوصی ہدایت پر کیا گیا۔ اس رابطے کا مقصد مبینہ طور پر ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائیوں کو روکنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ محسن رضائی سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی۔ اس خط کے ذریعے دونوں فریقین کے مابین براہ راست بات چیت کے دروازے کھولنے کی کوشش کی گئی ہے۔

ایرانی حکومتی حلقوں کی جانب سے بارہا اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ مذاکرات کی بحالی کے لیے تہران کی کچھ بنیادی اور سخت شرائط ہیں۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ امریکا کو ان سات شرائط پر من و عن عمل کرنا ہوگا۔

تہران کا یہ بھی مؤقف ہے کہ کسی بھی قسم کا ایسا مؤقف یا دباؤ جو ایران کے دفاعی اور سفارتی لائحہ عمل کو کمزور کرنے کا سبب بنے، وہ سراسر ناقابلِ قبول ہوگا۔ ایرانی حکام اپنے اصولی مؤقف پر بدستور قائم ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ماضی میں بھی ایران کے خلاف سخت بیانات اور دھمکیوں کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ اس کے باوجود امریکی انتظامیہ کے بعض اعلیٰ حکام سفارتی سطح پر رابطے بحال کرنے کے لیے سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔

دوسری جانب امریکی میڈیا رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ واشنگٹن نے خلیجی خطے میں اپنے اتحادی عرب ملکوں کو مبینہ طور پر تیار رہنے کی ہدایات دی ہیں۔ ان ہدایات کا تعلق نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد کی صورتحال سے جوڑا جا رہا ہے۔

امریکی اخبار کا دعویٰ ہے کہ اگر سفارتی کوششیں بارآور نہ ثابت ہوئیں تو خلیجی خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ تاہم، ان رپورٹس کے باوجود صدر ٹرمپ کی طرف سے کسی بھی حتمی فوجی کارروائی کا باضابطہ فیصلہ تاحال سامنے نہیں آیا۔

عالمی امور کے ماہرین اس پیشرفت کو خطے کی سیاست میں ایک اہم موڑ قرار دے رہے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان جاری اس سفارتی رسہ کشی پر دنیا بھر کی نظریں مرکوز ہیں۔

پاکستان کے سیاسی اور سفارتی مبصرین بھی اس صورتحال کا گہرائی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ خلیجی خطے میں امن و استحکام جنوبی ایشیا اور بالخصوص پاکستان کے لیے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

تہران اور واشنگٹن کے درمیان رابطوں کے اس تازہ باب کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال میں مزید اہم تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ اور متعلقہ ریاستی ادارے اس پورے معاملے پر انتہائی نپی تلی حکمت عملی کے تحت آگے بڑھ رہے ہیں۔ تہران اپنی قومی سلامتی اور مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کو تیار نظر نہیں آتا۔

عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی سطح پر بھی اس کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مختلف سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ آیا یہ خط دونوں ممالک کے درمیان برف پگھلانے میں کامیاب ہوتا ہے یا نہیں۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں