مواد پر جائیں
پیر، 19 اکتوبر 2026 8 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 5:56
بریکنگ
روس یوکرین جنگ کے خاتمے کیلئے مذاکرات کر رہا ہوں، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰبلوچستان: سیکیورٹی فورسز کے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز میں 8 دہشت گرد ہلاکیمن میں حوثی باغیوں کے خلاف آپریشن ڈان آف یمن جاری، 1326 حملےبالی ووڈ اداکار ٹائیگر شیروف پر حملہ، گاڑی پر فائرنگ سے مداح تشویش میں مبتلاآزاد کشمیر میں بدامنی کیلئے بھارتی سازش اور کالعدم تنظیم کا گٹھ جوڑ بے نقابخیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ: قومی سلامتی اور سیاسی استحکام کا تقاضادانش اسکول کا دائرہ کار پورے پاکستان تک وسیع کرنے کا اعلانایران کی امریکا کو سات روزہ تجویز، شرائط ماننے پر آبنائے ہرمز کھولنے کا عندیہبالی وڈ اداکار ٹائیگر شروف فائرنگ کے واقعے میں محفوظ رہےکراچی میں غیر ملکیوں کو لوٹنے والا بڑا سائبر فراڈ نیٹ ورک بے نقاببولان: مزدا اور کار میں تصادم، خواتین اور بچوں سمیت 4 افراد جاں بحقممبئی میں بالی ووڈ اداکار ٹائیگر شیروف کی گاڑی پر فائرنگ، اداکار محفوظراولپنڈی: ون ویلنگ سے روکنے پر فائرنگ، خاتون سمیت 3 افراد زخمیبھارتی اداکار ٹائیگر شروف پر قاتلانہ حملہ، ڈرائیور سمیت تین افراد زخمیخیبر پختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ: بلاول بھٹو کا مشترکہ لائحہ عمل پر زوریوکرین اور روس کے درمیان جنگ کا خاتمہ چاہتا ہوں، ڈونلڈ ٹرمپوائرل سرائیکی گیت ‘چھلڑے چھلڑے وال’ نے زبان کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دیعالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمیملک کی معاشی بحالی کے ثمرات عوام تک پہنچانے کا چیلنجنئی نسل کی تربیت کے لیے سیرت النبی ﷺ کی روشنی میں اقدامات کا آغاز
دنیا

امریکا کی جانب سے یوکرین کو انٹیلی جنس معلومات کی فراہمی دوبارہ شروع

یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے امریکی تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے روس پر پابندیوں میں نرمی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

امریکا کی جانب سے یوکرین کو انٹیلی جنس معلومات کی فراہمی دوبارہ شروع

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے تصدیق کی ہے کہ امریکا کی جانب سے انٹیلی جنس معلومات کی فراہمی کا سلسلہ ایک بار پھر بحال کر دیا گیا ہے۔ یہ اہم پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں جاری کشیدگی کے باعث یوکرین کو دفاعی اور انٹیلی جنس معاونت کی اشد ضرورت ہے۔

صدر زیلنسکی نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ انٹیلی جنس شیئرنگ کا عمل کچھ عرصے کے لیے عارضی طور پر معطل ہوا تھا، تاہم اب اسے دوبارہ فعال کر دیا گیا ہے۔ یوکرینی صدر نے اس تعاون پر امریکی انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے اپنے ملک کے لیے اہم قرار دیا ہے۔

خیال رہے کہ یوکرین اور روس کے مابین جاری تنازع کے دوران امریکا اور مغربی ممالک کی جانب سے یوکرین کو مسلسل عسکری اور انٹیلی جنس مدد فراہم کی جاتی رہی ہے۔ اس تعاون کا مقصد یوکرینی افواج کی صلاحیتوں کو بہتر بنانا اور زمینی حقائق سے آگاہ رکھنا ہے۔

دوسری جانب یوکرینی صدر نے روس کے خلاف عائد پابندیوں کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ روسی ڈیزل کی درآمد سے متعلق امریکی اقدامات اور روس پر مجوزہ پابندیوں میں کسی بھی قسم کی نرمی یوکرین کے مفادات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

صدر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ پابندیوں میں نرمی سے روس کی معاشی طاقت میں اضافہ ہو سکتا ہے جو کہ براہ راست یوکرین کی سکیورٹی پر اثر انداز ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی برادری کو روس پر دباؤ برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔

یوکرینی صدر نے امید ظاہر کی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے حالیہ فیصلوں پر نظرثانی کریں گے اور یوکرین کے ساتھ اپنی اتحادی حیثیت کو برقرار رکھیں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ یوکرین اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھے گا۔

واضح رہے کہ امریکا کی جانب سے یوکرین کو فراہم کی جانے والی انٹیلی جنس معلومات میں روس کی نقل و حرکت اور عسکری حکمت عملی سے متعلق تفصیلات شامل ہوتی ہیں۔ یہ معلومات یوکرینی قیادت کو جنگی میدان میں بروقت فیصلے کرنے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔

بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق، امریکا کا یہ فیصلہ یوکرین کے لیے ایک بڑی سفارتی اور عسکری کامیابی ہے۔ اس سے قبل انٹیلی جنس شیئرنگ کی معطلی کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں جن کا اب خاتمہ ہو گیا ہے۔

یوکرین کی حکومت نے بارہا عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ روس کے خلاف سخت موقف اپنائے اور یوکرین کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ صدر زیلنسکی کی جانب سے تازہ بیان اسی سلسلے کی ایک کڑی سمجھا جا رہا ہے۔

روس کی جانب سے ان اقدامات پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ماسکو ماضی میں بھی مغربی ممالک کی جانب سے یوکرین کو دی جانے والی مدد پر شدید تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے۔ روس کا موقف ہے کہ یہ اقدامات خطے میں کشیدگی بڑھانے کا باعث بنتے ہیں۔

مستقبل میں یوکرین اور امریکا کے تعلقات کس سمت جائیں گے، اس کا انحصار واشنگٹن کی پالیسیوں پر ہوگا۔ صدر زیلنسکی کی جانب سے امریکی قیادت پر اعتماد کا اظہار اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ یوکرین اب بھی مغرب کو اپنا سب سے بڑا حلیف سمجھتا ہے۔

عالمی سطح پر اس پیش رفت کو یوکرین کے لیے ایک حوصلہ افزا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ انٹیلی جنس معلومات کی بحالی سے یوکرینی افواج کی کارکردگی میں بہتری آئے گی اور وہ اپنی دفاعی حکمت عملی کو مزید بہتر بنا سکیں گے۔

یوکرین میں جاری جنگ کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کی معیشت پر مرتب ہو رہے ہیں۔ توانائی کے بحران اور سپلائی چین کی رکاوٹوں کے باعث عالمی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے جس پر قابو پانے کے لیے عالمی کوششیں جاری ہیں۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں