مواد پر جائیں
جمعہ، 16 اکتوبر 2026 5 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 2:17
بریکنگ
امریکا کا ایران پر ‘مدر آف آل بمز’ کے استعمال کا ممکنہ منصوبہسعودی اتحادی فوج نے مدینہ منورہ کے قریب کروز میزائل فضا میں تباہ کر دیاحکومت کا پیٹرول کی قیمت میں کمی، ہائی اسپیڈ ڈیزل مہنگا کرنے کا اعلانحکومت کا پاسپورٹ کے اجرا میں بڑا فیصلہ، ای پاسپورٹ فیسوں میں اضافہحکومت کا پیٹرول سستا، ڈیزل کی قیمت میں معمولی اضافہپشاور سکول سانحہ: انتظامیہ کی سنگین غفلت کے انکشافات، ابتدائی رپورٹ تیاریمن: صدارتی کمپلیکس پر حوثیوں کے میزائل حملے، 2 سکیورٹی اہلکار جاں بحقیمن: عدن میں صدارتی محل پر حوثیوں کا میزائل حملہ، وزیراعظم محفوظپشاور: اسکول کی چھت گرنے کا واقعہ، شہر کے بڑے اسپتالوں میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذجنوبی وزیرستان: نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سب انسپکٹر شہید، طالب علم زخمیآن لائن اشتہارات کے ذریعے صارفین کی جاسوسی کا انکشافیمن کے حوثی باغیوں کو 16 ممالک سے میزائل پرزے ملنے کا انکشافبیماری، مومن کے لیے صبر، شکر اور روحانی اصلاح کا ذریعہمشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی: عالمی امن اور پاکستان کا کردارجرمنی میں 13 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کی تجویزچین میں انوکھا واقعہ: میاں بیوی کا نام ایک ہی نکل آیا، سوشل میڈیا پر چرچےکراچی: بلدیہ ٹاؤن میں 4 سالہ بچہ نالے میں گر کر جاں بحقوزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی چینی ہم منصب سے ملاقات، معاشی تعاون پر اتفاقحنا جاوید قتل کیس: تفتیشی ٹیم کا شوہر کو بے گناہ قرار، اہلخانہ کا عدم اعتمادلندن: ایون فیلڈ کے باہر نقاب پوش افراد کا نواز شریف کی گاڑی پر حملہ
سائنس و ٹیکنالوجی

جرمنی میں 13 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کی تجویز

جرمن کابینہ نے بچوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے سوشل نیٹ ورکس پر نئی پابندیوں اور پالیسی رہنما خطوط کی منظوری دے دی۔

جرمنی میں 13 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کی تجویز

یورپ کے اہم ملک جرمنی میں بچوں اور نوجوانوں کو ڈیجیٹل دنیا کے ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ جرمن کابینہ نے 13 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کے حوالے سے غور شروع کر دیا ہے۔

اس اقدام کا مقصد یورپی قوانین کے نفاذ تک بچوں کو آن لائن ماحول میں تحفظ فراہم کرنا ہے۔ حکومتی سطح پر یہ فیصلہ ایک آزاد ماہر کمیشن کی جانب سے پیش کردہ 56 سفارشات کی روشنی میں کیا گیا ہے، جس کا مقصد ڈیجیٹل ٹولز کے محفوظ استعمال کو یقینی بنانا ہے۔

نئے مجوزہ قوانین کے تحت 13 سال سے کم عمر بچوں کو ٹک ٹاک، اسنیپ چیٹ اور انسٹاگرام جیسے مقبول سوشل نیٹ ورکس تک رسائی سے روکا جائے گا۔ تاہم، وہ پلیٹ فارمز جو خصوصی طور پر بچوں کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں، ان پر پابندی کا اطلاق نہیں ہوگا۔

جرمن وزیر تعلیم اور خاندانی امور کیرن پرین نے اس پالیسی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اب تجزیے کا مرحلہ ختم ہو چکا ہے اور حکومت عملی اقدامات کی جانب بڑھ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقصد بچوں کو ڈیجیٹل دنیا سے دور کرنا نہیں بلکہ انہیں محفوظ بنانا ہے۔

حکومت کا یہ مؤقف ہے کہ انٹرنیٹ آج کے دور میں نوجوانوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ انہیں ڈیجیٹل دنیا میں خود ارادیت کے ساتھ پروان چڑھنے کے لیے ایک مضبوط اور محفوظ فریم ورک فراہم کیا جائے۔

مجوزہ پالیسی کے تحت 13 سے 18 سال کے نوعمروں کے لیے بھی عمر کے لحاظ سے الگ حدود مقرر کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر زور دیا گیا ہے کہ وہ بطور ڈیفالٹ نشہ آور یا نقصان دہ مواد کی ترسیل کو بند کریں۔

جرمن حکومت 2027 تک یورپی یونین کے ڈیجیٹل آئیڈینٹیٹی والیٹ کے ذریعے عمر کی تصدیق کا ایک قابل اعتماد نظام متعارف کروانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس نظام کو 'ڈی-یو' (d-you) کا نام دیا گیا ہے، جس سے آن لائن سیکیورٹی کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ اقدامات بچوں کی ڈیجیٹل مہارتوں کو فروغ دینے اور انہیں آن لائن دنیا میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیار کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ جرمنی کی جانب سے یہ اقدام یورپی سطح پر ڈیجیٹل تحفظ کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے۔

حکومت کی جانب سے منظور کردہ رہنما خطوط بچوں کے حقوق اور ان کی ڈیجیٹل شرکت کو یقینی بنانے پر مرکوز ہیں۔ اس پالیسی کا مقصد بچوں کو ایک ایسے ماحول میں لانا ہے جہاں وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا استعمال محفوظ طریقے سے کر سکیں۔

جرمن حکام کا مزید کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کے دور میں بچوں کی حفاظت ریاست کی اولین ترجیح ہے۔ اس لیے سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی پابند کیا جا رہا ہے کہ وہ بچوں کے لیے محفوظ ڈیجیٹل ماحول کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔

اس پیش رفت کو جرمنی میں بچوں کے ڈیجیٹل حقوق کے تحفظ کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ توقع ہے کہ ان قوانین کے نفاذ سے والدین کو بھی اپنے بچوں کی آن لائن سرگرمیوں کے حوالے سے اطمینان حاصل ہوگا۔

جرمن کابینہ کے اس فیصلے کے بعد اب متعلقہ ادارے ان قوانین کو حتمی شکل دینے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ یورپی قوانین کے نفاذ تک یہ قومی سطح پر نافذ العمل رہیں گے تاکہ بچوں کو کسی بھی قسم کے نقصان سے بچایا جا سکے۔

مستقبل میں ڈیجیٹل دنیا کے بدلتے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ان پالیسیوں میں مزید بہتری لانے کا بھی امکان ہے۔ جرمنی کا یہ اقدام عالمی سطح پر بچوں کے آن لائن تحفظ کے حوالے سے جاری بحث میں ایک اہم اضافہ ثابت ہوگا۔

سائنس و ٹیکنالوجی کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں