شہر قائد کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں ایک المناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں چار سالہ کمسن بچہ کھلے نالے میں گر کر اپنی جان کی بازی ہار گیا۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی علاقہ مکینوں اور امدادی اداروں میں کھلبلی مچ گئی۔
مقامی ذرائع کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ بلدیہ اتحاد ٹاؤن کی قائمخانی کالونی میں پیش آیا۔ بچہ گھر کے قریب کھیلتے ہوئے اچانک توازن برقرار نہ رکھ سکا اور گہرے نالے میں جا گرا، جس کے بعد وہ پانی کی گہرائی میں ڈوب گیا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی اہل خانہ اور علاقہ مکین فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور امدادی کارروائیوں کا آغاز کیا۔ ایدھی فاؤنڈیشن کے رضا کاروں کو بھی فوری طور پر طلب کر لیا گیا تاکہ بچے کی تلاش ممکن بنائی جا سکے۔
ریسکیو حکام کے مطابق ایدھی کے غوطہ خوروں نے نالے میں سخت جدوجہد اور آپریشن کے بعد بچے کی لاش کو تلاش کر لیا۔ جاں بحق ہونے والے بچے کی شناخت چار سالہ بیمان ولد رحمت شاہ کے نام سے ہوئی ہے۔
امدادی کارروائی مکمل ہونے کے بعد بچے کی لاش کو ایدھی ایمبولینس کے ذریعے اس کے ورثا کے حوالے کر دیا گیا۔ سوگوار خاندان نے بچے کی میت کو آبائی گھر منتقل کر دیا ہے، جبکہ علاقے میں اس واقعے کے بعد سوگ کی فضا قائم ہے۔
شہر میں کھلے نالوں اور نکاسی آب کے نظام کی خستہ حالی کے باعث اس طرح کے واقعات ماضی میں بھی پیش آتے رہے ہیں۔ شہریوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ رہائشی علاقوں میں موجود نالوں کو ڈھانپا جائے تاکہ قیمتی انسانی جانوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔
انتظامیہ کی جانب سے اس واقعے کے بعد تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم اہل علاقہ نے مطالبہ کیا ہے کہ حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
کراچی جیسے بڑے شہر میں نکاسی آب کے نالوں کا کھلا رہنا ایک دیرینہ مسئلہ ہے، جس کی وجہ سے اکثر حادثات رونما ہوتے ہیں۔ مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ نالوں کی صفائی اور ان پر حفاظتی ڈھکن لگانا انتہائی ضروری ہو چکا ہے۔
ایدھی فاؤنڈیشن کے رضا کاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بچے کی تلاش میں اہم کردار ادا کیا۔ غوطہ خوروں کی ٹیم نے نالے کے گدلے پانی میں کافی دیر تک تلاش جاری رکھی تب جا کر بچے کی لاش مل سکی۔
بیمان کے والدین اور اہل خانہ پر اس حادثے کے بعد قیامت ٹوٹ پڑی ہے۔ گھر میں صف ماتم بچھ گئی ہے اور اہل محلہ تعزیت کے لیے بڑی تعداد میں ان کے گھر پہنچ رہے ہیں، جبکہ علاقے میں غم و غصے کی لہر بھی پائی جاتی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ بلدیہ ٹاؤن کے گنجان آباد علاقوں میں نالوں کی حفاظت کے لیے کوئی مستقل بندوبست نہیں ہے۔ نالے کھلے ہونے کی وجہ سے خاص طور پر بچوں کے لیے ہر وقت خطرہ موجود رہتا ہے جو کسی بھی وقت حادثے کا شکار ہو سکتے ہیں۔
واقعے کے بعد مقامی پولیس اور ریسکیو حکام نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور صورتحال کا جائزہ لیا۔ پولیس کی جانب سے بھی اس معاملے پر قانونی کارروائی کے تقاضے پورے کیے جا رہے ہیں تاکہ حقائق کو سامنے لایا جا سکے۔
اس المناک واقعے نے ایک بار پھر شہری انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ شہر بھر کے نالوں کی کوریج کو یقینی بنایا جائے تاکہ کسی اور خاندان کو اس طرح کے صدمے سے نہ گزرنا پڑے۔





اپنی رائے دیں