مواد پر جائیں
جمعہ، 16 اکتوبر 2026 5 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 2:57
بریکنگ
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کیخلاف احتجاجی تحریک کا محدود اثر، انٹیلی جنس رپورٹامریکا کا ایران پر ‘مدر آف آل بمز’ کے استعمال کا ممکنہ منصوبہسعودی اتحادی فوج نے مدینہ منورہ کے قریب کروز میزائل فضا میں تباہ کر دیاحکومت کا پیٹرول کی قیمت میں کمی، ہائی اسپیڈ ڈیزل مہنگا کرنے کا اعلانحکومت کا پاسپورٹ کے اجرا میں بڑا فیصلہ، ای پاسپورٹ فیسوں میں اضافہحکومت کا پیٹرول سستا، ڈیزل کی قیمت میں معمولی اضافہپشاور سکول سانحہ: انتظامیہ کی سنگین غفلت کے انکشافات، ابتدائی رپورٹ تیاریمن: صدارتی کمپلیکس پر حوثیوں کے میزائل حملے، 2 سکیورٹی اہلکار جاں بحقیمن: عدن میں صدارتی محل پر حوثیوں کا میزائل حملہ، وزیراعظم محفوظپشاور: اسکول کی چھت گرنے کا واقعہ، شہر کے بڑے اسپتالوں میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذجنوبی وزیرستان: نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سب انسپکٹر شہید، طالب علم زخمیپنجاب میں 10 روزہ بسنت منانے کا حکومتی اعلان لاہور ہائیکورٹ میں چیلنجوفاقی آئینی عدالت نے سہیل آفریدی کی تقرری کیخلاف درخواست نمٹا دیکراچی میں ٹریفک کے دو مختلف حادثات، دو نوجوان جاں بحقبالی وڈ اداکار عمران خان کا بھارت چھوڑنے کا نوٹس عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہآن لائن اشتہارات کے ذریعے صارفین کی جاسوسی کا انکشافیمن کے حوثی باغیوں کو 16 ممالک سے میزائل پرزے ملنے کا انکشافبیماری، مومن کے لیے صبر، شکر اور روحانی اصلاح کا ذریعہمشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی: عالمی امن اور پاکستان کا کردارجرمنی میں 13 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کی تجویز
صحت

بیماری، مومن کے لیے صبر، شکر اور روحانی اصلاح کا ذریعہ

اسلامی تعلیمات کی روشنی میں بیماری کے دوران صبر و استقامت اختیار کرنا اور اللہ تعالیٰ سے رجوع کرنا مومن کے لیے گناہوں کی معافی اور اجر کا باعث بنتا ہے۔

بیماری، مومن کے لیے صبر، شکر اور روحانی اصلاح کا ذریعہ

صحت اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ان عظیم نعمتوں میں سے ایک ہے جس کا اندازہ انسان کو اکثر بیماری کی حالت میں ہوتا ہے۔ جب جسم کسی مرض کی گرفت میں آتا ہے تو روزمرہ کے معمولات بھی دشوار محسوس ہونے لگتے ہیں، تاہم اسلام نے اس کیفیت میں بھی مومن کو صبر اور شکر کا راستہ دکھایا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ انسان کے جسم کا بھی اس پر حق ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ جسم اللہ کی امانت ہے اور اس کی حفاظت، مناسب غذا اور ضرورت پڑنے پر علاج کروانا انسان کی ذمہ داری ہے۔

تمام تر احتیاطی تدابیر کے باوجود جب انسان بیماری میں مبتلا ہوتا ہے تو اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ اس کے لیے صبر اور اللہ کی طرف رجوع کرنے کا ایک نیا مرحلہ ہے۔ مومن اس آزمائش میں اپنے رب سے بدگمان ہونے کے بجائے حمد و ثنا کا دامن تھامے رکھتا ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے مریض کے لیے خوشخبری سنائی ہے جو اپنی علالت پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہے کہ وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہو جاتا ہے جیسے آج ہی پیدا ہوا ہو۔ یہ حقیقت بیماری کو محض ایک مصیبت کے بجائے روحانی پاکیزگی کا ذریعہ بناتی ہے۔

ایک اور حدیث مبارکہ میں ارشاد ہے کہ مسلمان کو بیماری یا کسی بھی تکلیف کے ذریعے اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو اس طرح دور فرما دیتے ہیں جیسے درخت اپنے پتے جھاڑ دیتا ہے۔ یہ مومن کے لیے ایک بہت بڑی خوشخبری ہے کہ اس کی تکلیف رائیگاں نہیں جاتی۔

بیماری کے ایام میں زبان سے شکوہ اور ناشکری کے الفاظ نکالنے کے بجائے ذکر، استغفار اور دعا کا اہتمام کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر سے علاج کروانا صبر کے منافی نہیں، بلکہ یہ شریعت کے مطابق جسم کے حق کو ادا کرنے کا ایک حصہ ہے۔

حقیقی شفا اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے، اس لیے مسلمان کو چاہیے کہ وہ طبی تدابیر اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے رب پر مکمل توکل رکھے۔ دوا جسم کے علاج کا ذریعہ ہے جبکہ دعا روحانی سکون اور شفا کا بہترین وسیلہ ہے۔

بیماری انسان کو اپنی کمزوری کا احساس بھی دلاتی ہے اور اسے یاد دلاتی ہے کہ اصل طاقت اور اختیار صرف اللہ کے پاس ہے۔ صحت کے دور میں انسان اکثر اپنے وسائل پر بھروسہ کرتا ہے، مگر علالت اسے عاجزی اور بندگی کی طرف لے آتی ہے۔

یہی احساس اگر دل میں پیدا ہو جائے تو مرض روحانی اصلاح کا ایک بہترین موقع بن جاتا ہے۔ لہٰذا بیماری کے وقت مومن کا رویہ مایوسی کے بجائے امید، شکوہ کے بجائے صبر اور غفلت کے بجائے اللہ کی طرف رجوع کرنے والا ہونا چاہیے۔

صحت کی حالت میں انسان کو اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہیے اور بیماری کی حالت میں اسے صبر کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ مومن کی زندگی کا ہر مرحلہ اللہ کی رحمت سے خالی نہیں، بشرطیکہ وہ ہر حال میں اپنے رب سے تعلق مضبوط رکھے۔

اسلامی تعلیمات کے مطابق بیماری کو صرف درد کی نظر سے نہیں بلکہ ایمان کی نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ آزمائش انسان کو گناہوں کی معافی، اجر کے حصول اور اصلاحِ نفس کا موقع فراہم کرتی ہے جسے غنیمت جاننا چاہیے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتے ہیں، اسے آزمائش میں مبتلا فرماتے ہیں۔ یہ آزمائش انسان کو غفلت سے جگاتی ہے اور اسے اللہ کی طرف متوجہ کرتی ہے۔

آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں صحت کی نعمت کی قدر کرنے، بیماری میں صبر و شکر اختیار کرنے اور ہر تکلیف کو اپنی اصلاح کا ذریعہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

صحت کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں