مواد پر جائیں
ہفتہ 26، جمادی الاول 1448ھ 7، نومبر 2026ء آخری اپ ڈیٹ:
تازہ
اپ ڈیٹ: پاکستان اور سوڈان کا سکیورٹی، سائبر کرائم اور پولیس ٹریننگ میں تعاون بڑھانے پر اتفاقوزیراعظم شہباز شریف کی ملک میں مکمل کیش لیس معیشت کے قیام کی ہدایتافغانستان میں پولیو کیسز بڑھنے سے پاکستان میں وائرس منتقلی کا خطرہایورٹن نے کوونٹری سٹی کو شکست دے کر پریمیئر لیگ میں پانچویں پوزیشن سنبھال لیآسٹریلیا کے سابق اوپنر عثمان خواجہ کا سینڈ پیپر گیٹ اسکینڈل پر بڑا انکشافپیراگوئے کے صدر بینک اسکینڈل پر مواخذے کے بعد عہدے سے برطرف اور نظر بندامریکی سینیٹر عبدالسید کی کامیابی پر کرنا ٹک میں ان کے رشتہ داروں کا جشنپشاور اور لاہور کے درمیان براہِ راست فضائی سروس کا آغاز 9 نومبر سے ہوگاکراچی: طارق روڈ پر جیولری رائیڈر سے کروڑوں روپے کا سونا اور چاندی لوٹ لی گئیایران کے جوہری پروگرام کی خفیہ معلومات پر امریکا کا 2 کروڑ ڈالر انعام کا اعلانیورو ویژن ایشیا 2026 کا پہلا ایڈیشن بنکاک میں ہوگاامریکی صدر نے ایران کے جزیرہ قشم پر فضائی حملوں کی تصدیق کر دیایمسٹرڈیم: مائیکروسافٹ کے مجوزہ ڈیٹا سینٹر کی سائٹ پر مظاہرین کا دھاوا2018 بال ٹیمپرنگ اسکینڈل: عثمان خواجہ کا پوری آسٹریلوی ٹیم کے ملوث ہونے کا دعویٰآسٹریلوی ٹیم بال ٹیمپرنگ سے آگاہ تھی، عثمان خواجہ کا دعویٰوزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے ٹی ڈی اے پی کی جدید کاری کی منظوریانگلش پریمیئر لیگ: ایورٹن کی کوونٹری سٹی کے خلاف 1-3 سے شاندار فتحترکیہ کی پارلیمنٹ نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کی توثیق کر دیڈبلیو ٹی اے چیئر کی جیسی کا پیگولا سے نجی گفتگو نشر ہونے پر معافیکرسٹپس پورزنگس نے صحت کی بہتری کے لیے گولڈن اسٹیٹ واریرز سے عارضی کنارہ کشی اختیار کر لی
صحت

افغانستان میں پولیو کیسز بڑھنے سے پاکستان میں وائرس منتقلی کا خطرہ

حکام کے مطابق گزشتہ دو ماہ کے دوران پاکستان میں پولیو کے نصف کیسز کا تعلق افغانستان سے نکلا ہے۔

افغانستان میں پولیو کے پچاس کیسز رپورٹ ہونے کے بعد پولیو وائرس کی پاکستان منتقلی میں اضافے کا شدید خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ اس صورتحال نے پاکستان میں انسداد پولیو کے حوالے سے حکام کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔

رواں برس کے دوران پاکستان میں پولیو کے نو جبکہ ہمسایہ ملک افغانستان میں پچاس کیسز سامنے آ چکے ہیں۔ حکام نے بتایا ہے کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران پاکستان میں سامنے آنے والے پولیو کے چالیس سے پچاس فیصد کیسز کا تعلق براہ راست افغانستان سے نکلا ہے۔

حکام کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان سے بے دخل ہونے والے شہریوں کی غیر قانونی راستوں کے ذریعے ملک میں واپسی پولیو کے پھیلاؤ کا ایک بہت بڑا خطرہ بنی ہوئی ہے۔ غیر قانونی راستوں سے آمد کے باعث وائرس کی روک تھام کے اقدامات کو مشکلات کا سامنا ہے۔

ضلع خیبر میں رواں سیزن کے دوران رپورٹ ہونے والے تمام تینوں پولیو کیسز کا جینیاتی تعلق افغانستان سے ثابت ہو چکا ہے۔ جینیاتی جانچ کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ وائرس سرحد پار سے منتقل ہوا۔

صحت حکام کے مطابق پاکستان کے مختلف شہروں میں سیوریج کے انتیس نمونوں میں افغانستان سے آنے والے پولیو وائرس کی تصدیق کی گئی ہے۔ سیوریج کے پانی میں اس وائرس کی موجودگی نے حکام کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ افغانستان سے منتقل ہونے والا یہ پولیو وائرس اب ملک کے دوسرے حصوں تک بھی پہنچ چکا ہے۔ یہ وائرس کراچی، جامشورو، راولپنڈی اور ملتان کے علاقوں تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے ترجمان کے مطابق افغانستان میں گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے پر پابندی عائد ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ اس پابندی کی وجہ سے دونوں ممالک میں انسداد پولیو کی مشترکہ کوششوں کو سخت خطرات لاحق ہیں۔

پولیو کے اس پھیلاؤ کو روکنے کے لیے طبی عملہ اور حکام مختلف علاقوں میں متحرک ہیں۔ انسداد پولیو مہم کے دوران بچوں کو حفاظتی قطرے پلانے کے عمل کو مزید موثر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

طبی ماہرین اور حکام کی جانب سے بارہا اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ سرحد پار نقل و حرکت پر سخت نظر رکھی جائے۔ غیر قانونی راستوں سے آمد و رفت کی روک تھام کے بغیر اس وائرس کے پھیلاؤ کو مکمل طور پر قابو کرنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔

پاکستان میں اس سال سامنے آنے والے نو کیسز کے بعد ملک بھر میں حفاظتی تدابیر سخت کر دی گئی ہیں۔ سیوریج لائنوں کی باقاعدگی سے ٹیسٹنگ کا عمل جاری ہے تاکہ بروقت وائرس کی موجودگی کا پتہ لگایا جا سکے۔

دوسری جانب عالمی ادارہ صحت نے بھی اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ادارے کے مطابق افغان حکومت کی جانب سے گھر گھر مہم پر پابندی کے منفی اثرات دونوں ممالک کے بچوں پر پڑ رہے ہیں۔

اس موضوع پر مزید خبریں

صحت کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
چیف ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر صحافی جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی ادارتی پالیسی، خبروں کی تصدیق اور معیار ان کی نگرانی میں ہے۔

  • نیوز ڈیسک — قومی، بین الاقوامی، عدالت اور جرم و سزا کی خبریں

ہمیں فالو کریں