پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے قومی ٹیسٹ اسکواڈ میں چھ نئے کھلاڑیوں کی شمولیت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان نوجوان کھلاڑیوں کو ٹیم کا حصہ بنانے کا بنیادی مقصد مستقبل کے لیے بینچ کو مضبوط بنانا ہے۔
نئے کھلاڑیوں کی شمولیت آئندہ ایک سال کے دوران قومی ٹیم کے لیے زیادہ سے زیادہ آپشنز پیدا کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے۔ ٹیم کی کارکردگی میں تسلسل برقرار رکھنے کے لیے کھلاڑیوں کی گہرائی کو بڑھانا ناگزیر ہو چکا ہے۔
مائیک ہیسن نے مزید کہا کہ اس حکمت عملی سے سلیکٹرز کے پاس آئندہ آنے والی سیریز کے لیے وسیع تر انتخابی عمل موجود رہے گا۔ نوجوان کھلاڑیوں کو موقع ملنے سے پاکستان کی ریڈ بال کرکٹ کا اسٹرکچر مزید بہتر ہو جائے گا۔
ہیڈ کوچ کے مطابق طویل formatos کی کرکٹ میں کامیابی کے لیے کھلاڑیوں کی ایک بڑی کھیپ تیار رکھنا ضروری ہے۔ قومی ٹیم کا انتظامی ڈھانچہ اس وقت اسی ہدف پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
نئے کھلاڑیوں کی شمولیت کا فیصلہ ڈومیسٹک کرکٹ میں ان کی حالیہ کارکردگی کو سامنے رکھ کر کیا گیا ہے۔ ان کھلاڑیوں کو بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتیں منوانے کا بہترین موقع ملے گا۔
مائیک ہیسن نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ٹیسٹ اسکواڈ میں گہرائی پیدا کرنے سے ٹیم کسی بھی انجری بحران سے بہتر انداز میں نمٹ سکے گی۔ سلیکشن کمیٹی اور کوچنگ اسٹاف نے باہمی مشاورت سے یہ لائحہ عمل تیار کیا ہے۔
آئندہ آنے والے مہینوں میں پاکستان کو اہم ٹیسٹ سیریز کھیلنی ہیں جن کے لیے تیاریوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ نئے کھلاڑیوں کے کیمپ میں آنے سے روایتی حریفوں کے خلاف میچوں میں حکمت عملی بنانے میں مدد ملے گی۔
ہیڈ کوچ کا ماننا ہے کہ نوجوان کرکٹرز کو سینئر کھلاڑیوں کے ساتھ وقت گزارنے سے سیکھنے کا موقع ملے گا۔ اس اقدام سے ڈریسنگ روم کا ماحول مزید مسابقتی اور مثبت بنے گا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے بھی طویل المدتی بنیادوں پر نوجوانوں کو ترجیح دینے کی پالیسی اپنائی گئی ہے۔ ڈومیسٹک کرکٹ کے بہترین پرفارمرز پر ہی بھروسہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
مائیک ہیسن نے واضح کیا کہ اسکواڈ میں شامل کیے گئے تمام نئے کھلاڑیوں کی فٹنس اور فارم کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا ہے۔ ان تمام کھلاڑیوں سے کوچنگ اسٹاف کو بڑی توقعات وابستہ ہیں۔
ٹیسٹ ٹیم کے کوچ کا کہنا تھا کہ جدید کرکٹ کے تقاضوں کے مطابق ٹیم میں مستقل مزاجی لانا انتہائی ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے نئے ٹیلنٹ کو نکھارنے کا عمل مسلسل جاری رکھا جائے گا۔
مدافعتی اور جارحانہ دونوں شعبوں میں توازن قائم کرنے کے لیے نئے چہروں کو موقع دینا ناگزیر تھا۔ آنے والے وقت میں ان کھلاڑیوں کو ٹیم کی ضرورت کے مطابق مختلف پوزیشنز پر آزمایا جائے گا۔





اپنی رائے دیں