پاکستان کے ثقافتی اور ادبی منظرنامے پر ایک اہم سنگِ میل کے طور پر شاعرِ مشرق حضرت علامہ محمد اقبال کی 150ویں پیدائشی سالگرہ کی قومی و بین الاقوامی تقاریب کا باضابطہ آغاز مزارِ اقبال، لاہور میں ہوا۔
یہ افتتاحی تقریب 8 نومبر 2026 کو منقعد ہوئی جس میں وفاقی وزیر قومی ورثہ و ثقافت اور اقبال اکادمی پاکستان کے صدر او رنگ زیب خان کھچی نے فیتہ کاٹ کر پروگرام کی شروعات کی۔
تقریب کے دوران او رنگ زیب خان کھچی نے کہا کہ اقبال کے آفاقی پیغام کو نئی نسل تک پہنچانا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں جامع اقدامات کیے جائیں گے۔
وزیر نے مزید واضح کیا کہ 9 نومبر 2026 سے 9 نومبر 2027 تک ملک بھر اور بیرون ملک مختلف علمی، ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کا انعقاد ہوگا۔
تقریب میں سابق سینیٹر ولید اقبال، ادارۂ فروغِ قومی زبان کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد سلیم مظہر، بلوچستان کی تعمیر نو یونیورسٹی کے پرو چانسلر حافظ محمد طاہر اور خیبرپختونخوا کے پروفیسر نورالامین یوسفزئی سمیت کئی معزز مہمانانِ اعزاز موجود تھے۔
سابق سینیٹر ولید اقبال نے خطاب کرتے ہوئے اقبال کے فکرِ خودی اور خوداعتمادی کی عصری معنویت پر زور دیا اور کہا کہ ان کے نظریات آج بھی افراد اور معاشروں کی رہنمائی کرتے ہیں۔
ڈاکٹر محمد سلیم مظہر نے اقبال کی اردو اور فار سی شاعری کی فکری بلندی کی تعریف کی اور اقبالیاتی تحقیق، تراجم اور نئی نسل میں مطالعہ کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔
ڈاکٹر عبدالرؤف رفیقی نے اقبال اکادمی پاکستان کی اقبال کی فکری و ادبی میراث کے تحفظ اور عالمی سطح پر اس کے فروغ کے لیے جاری کاوشوں کا شکریہ ادا کیا۔
اکادمی کے تحت 8 اور 9 نومبر کو حضوری باغ اور اقبال ہال، لاہور میں بین الاقوامی اقبال کانفرنس، کلام اقبال پر مبنی مقابلے، مشاعرہ اور محفل موسیقی کا اہتمام کیا گیا ہے۔
یہ پروگرامز ملکی اور غیر ملکی اسکالرز، شاعروں اور موسیقاروں کو ایک پلیٹ فارم فراہم کریں گے تاکہ اقبال کے پیغام کی گونج ہر زبان اور ثقافت تک پہنچ سکے۔
وزارتِ قومی ورثہ و ثقافت نے اس تقریب کے لیے لاجسٹک اور مالی معاونت فراہم کی ہے اور تمام سرکاری و غیر سرکاری اداروں کو شرکت کی دعوت دی ہے۔
تقاریب کا مقصد نوجوانوں میں اقبال کے فلسفے کی آگاہی بڑھانا، قومی شناخت کو مستحکم کرنا اور ثقافتی ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔
علامہ اقبال 1877 میں سکھن، برصغیر کے موجودہ شہر ساہیوال میں پیدا ہوئے اور اپنی شاعری کے ذریعے برصغیر کے مسلمانوں کے سیاسی و فکری بیداری کا پیش خیمہ بنے۔
آئندہ ہفتوں میں اقبال کے ادبی ورثے پر مبنی سیمینار، کتابی نمائش اور طلباء کے لیے خصوصی ورکشاپیں بھی منعقد ہوں گی۔



اپنی رائے دیں