نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے پولینڈ کے شہر کراکوف میں پیش آنے والے فائرنگ کے ایک افسوسناک واقعے کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
یہ تعزیت کا اظہار ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر سے مختلف رہنما اس نوعیت کے پُرتشدد واقعات پر اپنے ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں۔
موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ پولینڈ کے تاریخی اور اہم شہر کراکوف میں پیش آیا جہاں فائرنگ کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا۔
اس واقعے کی خبر سامنے آتے ہی بین الاقوامی سطح پر اس پر افسوس کا اظہار کیا جانے لگا اور مختلف ممالک کے رہنماؤں نے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی ظاہر کی۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق پاکستانی حکومت کی جانب سے بھی اس واقعے پر فوری طور پر اپنے جذبات کا اظہار کیا گیا۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اس سلسلے میں اپنے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ کا استعمال کیا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری کردہ اپنے تعزیتی پیغام میں نائب وزیراعظم نے اس پورے واقعے کو انتہائی لرزہ خیز اور دکھ دینے والا قرار دیا۔
انہوں نے اپنے پیغام میں واضح کیا کہ وہ اس المناک واقعے میں جاں بحق ہونے والے تمام افراد کے اہلِ خانہ کے ساتھ دلی تعزیت اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔
سینیٹر محمد اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اس مشکل گھڑی میں لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ متوفی افراد کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے۔
اس کے ساتھ ہی نائب وزیراعظم نے فائرنگ کے اس واقعے میں زخمی ہونے والے افراد کا بھی خصوصی ذکر کیا۔
انہوں نے زخمی ہونے والے تمام افراد کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے دعا کی تاکہ وہ جلد از جلد اپنے گھروں اور روزمرہ زندگی کی طرف واپس لوٹ سکیں۔
اپنے بیان کو آگے بڑھاتے ہوئے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے دو ٹوک الفاظ میں اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان اس مشکل وقت میں پولینڈ کی حکومت اور وہاں کے عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردی اور پُرتشدد کارروائیاں کسی بھی معاشرے کے لیے نقصان دہ ہیں اور ایسے وقت میں تمام عالمی برادری کو باہمی یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
پولینڈ کا شمار یورپ کے اہم ممالک میں ہوتا ہے اور کراکوف وہاں کا ایک بڑا ثقافتی و اقتصادی مرکز مانا جاتا ہے جہاں اس قسم کے واقعات پر مقامی اور بین الاقوامی سطح پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
پاکستان کے وزارتِ خارجہ کے حکام کے مطابق پاکستان اور پولینڈ کے درمیان سفارتی سطح پر دوستانہ تعلقات قائم ہیں اور دونوں ممالک کے مابین مختلف شعبوں میں تعاون جاری ہے۔
ترجمان دفترِ خارجہ یا متعلقہ حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستانی قیادت ہمیشہ ایسے سانحات میں متاثرہ ممالک کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے اور دوستی کے رشتوں کو نبھاتی ہے۔
یہ بیان پاکستان کے اس عزم کا بھی غماز ہے کہ وہ دنیا بھر میں امن و امان کی بحالی اور انسانی جانوں کے احترام کے لیے آواز اٹھاتا رہتا ہے۔
اس طرح کے بیانات بین الاقوامی تعلقات میں باہمی اعتماد کو فروغ دینے اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے کی روایت کا حصہ ہوتے ہیں۔
اس واقعے کے بعد مقامی حکام نے بھی تحقیقات کا آغاز کر رکھا ہے تاکہ فائرنگ کے اس واقعے کے اصل محرکات کو سامنے لایا جا سکے اور حقائق تک رسائی حاصل کی جا سکے۔
پاکستان کے اس سفارتی قدم کو بین الاقوامی سفارت کاری میں مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے جہاں ایک اہم ملک کے ذمہ دار رہنما نے فوری طور پر افسوس اور یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔




اپنی رائے دیں