اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی عمارت کے اندر کچھ روز قبل ایک آوارہ بندر دیکھا گیا جو ایئرپورٹ کی سیلنگ اور ٹرمینل پر آزادانہ گھوم رہا تھا۔ ایئرپورٹ انتظامیہ نے اس غیر معمولی صورتحال کو دیکھتے ہوئے فوری طور پر متعلقہ محکمے سے رابطہ کیا۔
ذرائع کے مطابق یہ واقعہ دو روز قبل پیش آیا جب ایک بندر اچانک ایئرپورٹ کے اندر داخل ہو گیا اور وہاں موجود مسافروں کی توجہ کا مرکز بن گیا۔
ایئرپورٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ بندر ٹرمینل لاؤنج میں ادھر ادھر دندناتا پھر رہا تھا اور مختلف مقامات پر چھلانگیں لگا رہا تھا۔
اس دوران ایئرپورٹ پر موجود مسافروں کو کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں پہنچایا گیا اور لوگ اس انوکھے مہمان کی موجودگی سے محظوظ ہوتے رہے۔
انتظامیہ کی جانب سے اطلاع ملنے کے بعد وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کا عملہ اس جانور کو قابو کرنے کے لیے ایئرپورٹ کے احاطے میں پہنچا۔
وائلڈ لائف حکام نے موقع پر پہنچ کر بندر کو پکڑنے کے لیے مختلف اقدامات شروع کیے لیکن وہ اس مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے۔
ذرائع کے مطابق وائلڈ لائف عملے نے بندر کو پکڑنے کے لیے روایتی جال یا کسی قسم کا کوئی ٹریپ استعمال نہیں کیا۔
کئی گھنٹوں کی مسلسل کوششوں کے باوجود جب عملہ اس آوارہ جانور کو زندہ پکڑنے میں ناکام رہا تو انہوں نے انتہائی قدم اٹھایا۔
مختلف اطلاعات کے مطابق وائلڈ لائف حکام نے آخرکار اس بندر کو فائرنگ کر کے موقع پر ہی مار ڈالا۔
اس واقعے کی ویڈیو فوٹیج بھی منظر عام پر آ چکی ہے جس کے بعد عوامی حلقوں میں مختلف تبصرے کیے جا رہے ہیں۔
واقعے کی فوٹیج سامنے آنے کے بعد وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کے عملے کی کارکردگی اور ان کے طریقۂ کار پر شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
شہریوں اور مبصرین کی جانب سے یہ نکتہ اٹھایا جا رہا ہے کہ ایک بے ضرر جانور کو زندہ پکڑنے کے بجائے ہلاک کرنا مناسب عمل نہیں تھا۔
دوسری جانب اس معاملے پر ایئرپورٹ اتھارٹی کے حکام نے اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے تمام تر ذمہ داری سے لاتعلقی ظاہر کی ہے۔
ایئرپورٹ حکام کا کہنا ہے کہ ان کی قانونی اور انتظامی ذمہ داری صرف اتنی تھی کہ وہ وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ کو فوری طور پر اس معاملے کی اطلاع دیں۔
حکام کا مزید کہنا ہے کہ اس بندر کی ہلاکت کے واقعے میں ایئرپورٹ کا اپنا کوئی بھی عملہ یا سیکیورٹی اہلکار شامل نہیں ہے۔





اپنی رائے دیں