صدر مملکت آصف علی زرداری نے پولینڈ کے شہر کراکوف میں پیش آنے والے فائرنگ کے دلخراش واقعے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و دکھ کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے اس افسوسناک حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کیا اور اس مشکل گھڑی میں ان کے غم میں برابر کے شریک ہونے کا یقین دلایا۔
ایوانِ صدر کے پریس ونگ کے مطابق صدرِ مملکت نے فائرنگ کے اس واقعے میں جان کی بازی ہارنے والے افراد کے اہل خانہ کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔
صدرِ مملکت نے اپنے تعزیتی بیان میں اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان اس کٹھن وقت میں پولینڈ کی حکومت اور وہاں کے عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
انہوں نے زخمی ہونے والے افراد کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا تاکہ وہ جلد از جلد اپنے پیاروں کے پاس واپس لوٹ سکیں۔
عالمی سطح پر اس قسم کے پرتشدد واقعات کے تناظر میں رہنماؤں کی جانب سے امن اور استحکام کی ضرورت پر زور دیا جاتا رہا ہے تاکہ انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
پولینڈ کے تاریخی شہر کراکوف میں پیش آنے والے اس فائرنگ کے واقعے کی خبر سامنے آتے ہی دنیا بھر کے رہنماؤں کی جانب سے ردعمل اور افسوس کا اظہار کیا گیا۔
صدر آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی اور پرتشدد کارروائیوں کا خاتمہ عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے جس کے لیے اجتماعی کاوشیں ناگزیر ہیں۔
متاثرہ خاندانوں کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معصوم جانوں کا ضیاع پورے معاشرے کے لیے ایک بڑا صدمہ ہے جس کا ازالہ ممکن نہیں۔
پاکستان کی طرف سے اس سفارتی سطح کے تعزیتی پیغام کا مقصد دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنا اور مشکل وقت میں باہمی تعاون کا اعادہ کرنا ہے۔
اس سانحے کے بعد پولینڈ کے مقامی حکام کی جانب سے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ اس پرتشدد واقعے کے محرکات کو سامنے لایا جا سکے۔
صدرِ پاکستان کا یہ تعزیتی بیان دونوں ممالک کے درمیان سفارتی ہم آہنگی اور باہمی احترام کے جذبے کی عکاسی کرتا ہے جو ایسے المناک مواقع پر سامنے آتا ہے۔



اپنی رائے دیں