مواد پر جائیں
جمعرات، 5 نومبر 2026 25 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ:
تازہ
امریکہ میں مڈٹرم انتخابات: ڈیموکریٹس کی کانگریس پر شاندار کامیابیایران جنگ امریکی مڈ ٹرم انتخابات میں شکست کی بنیادی وجہ بنی: نائب صدر جے ڈی وینسامریکی مڈٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹس نے کانگریس کا کنٹرول حاصل کر لیاسعودی عرب کے ساتھ تین ارب ڈالر کا قرض رول اوور ہو چکا ہے: وزیر خزانہسری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز: پاکستان کی جانب سے تیز پچز تیار کرنے کا فیصلہوفاقی کابینہ نے 10 روپے کا سکہ جاری کرنے اور نئے کرنسی ڈیزائن کی منظوری دیدیکوٹ لکھپت جیل میں شاہ محمود قریشی کی طبیعت ناساز، گر کر زخمینیب اور ایف آئی اے کا اسعد محمود کو غیر قانونی بھرتیوں کے معاملے پر طلبدبئی میں باکسنگ مقابلے سے قبل فیس آف کے دوران بھارتی فائیٹر نے پاکستانی حریف کو تھپڑ جڑ دیااقبال ڈے پر عام تعطیل: ملک بھر کے بینک مسلسل تین روز بند رہیں گےایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر اختلافات برقرار ہیںامریکی ریاست ٹیکساس میں ڈیموکریٹک پارٹی نے تاریخی کامیابی حاصل کر لیوزیراعظم شہباز شریف کا پیٹرول پر ریلیف نہ دینے والے پمپس کے خلاف کارروائی کا حکمسوی سدرن گیس کمپنی نے موسم سرما کے لیے گیس فراہمی کا شیڈول جاری کر دیابابا وانگا کی پیشگوئی اور خلا سے موصول سگنل، حقیقت کیا ہے؟امریکی وسط مدتی انتخابات 2026: ڈیموکریٹس کی اہم ریاستوں میں کامیابیآبنائے ہرمز پر کشیدگی: ایران کا امریکی جواب مسترد، امریکی صدر کی فضائی کارروائی کی تصدیقفل فوڈن اپنی بہترین فارم کی بحالی کے لیے پرعزمعبدال السید امریکی ریاست مشی گن سے سینیٹر منتخب ہونے والے پہلے مسلمان بن گئےغزہ میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹر آدم حموی امریکی کانگریس کے رکن منتخب
کھیل

عثمان خواجہ کا اپنے نام سے منسوب جعلی سوشل میڈیا پوسٹ پر سخت ردعمل

آسٹریلوی کرکٹر نے وضاحت کی ہے کہ ان کی پرانی ٹویٹ کو غلط سیاق و سباق کے ساتھ فرانس کے حالیہ احتجاج سے جوڑا جا رہا ہے۔

عثمان خواجہ کا اپنے نام سے منسوب جعلی سوشل میڈیا پوسٹ پر سخت ردعمل

سابق آسٹریلوی کرکٹر عثمان خواجہ نے سوشل میڈیا پر اپنے نام سے منسوب ایک وائرل پوسٹ کی سختی سے تردید کی ہے۔ انٹرنیٹ پر گردش کرنے والی اس پوسٹ میں ان کی ایک پرانی ٹویٹ کو فرانس میں جاری احتجاجی مظاہروں کی ایک تصویر کے ساتھ جوڑ کر پیش کیا جا رہا تھا۔

وائرل ہونے والی اس متنازع پوسٹ میں فرانس میں ہونے والے ایک مظاہرے کے دوران فلسطینی پرچم اٹھائے ہوئے ایک شخص کی تصویر دکھائی گئی تھی۔ اس تصویر کے ساتھ عثمان خواجہ کی دو سال پرانی ٹویٹ کا اسکرین شاٹ شامل کیا گیا تھا جس میں انہوں نے کسی خاص موقع پر اظہارِ رائے کیا تھا۔

سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اس پوسٹ کو فرانس میں جاری عوامی خدمات اور تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔ اس غلط تشریح کے بعد عثمان خواجہ نے فوری طور پر میدان میں آ کر حقائق واضح کرنے کا فیصلہ کیا اور اسے پروپیگنڈا قرار دیا۔

عثمان خواجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر اپنے پیغام میں واضح کیا کہ ان کی وہ ٹویٹ دراصل دو سال قبل ایک فٹ بال میچ کے تناظر میں کی گئی تھی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کے الفاظ کا موجودہ حالات یا فرانس کے احتجاج سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

کرکٹر نے اپنے پیغام میں جھوٹ پھیلانے والے عناصر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی گمراہ کن مہمات بند کی جائیں۔ انہوں نے اپنی ٹویٹ کا اصل مقصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ پرانی باتوں کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا غیر اخلاقی اور غیر ذمہ دارانہ عمل ہے۔

واضح رہے کہ فرانس میں گزشتہ کئی ہفتوں سے مختلف عوامی مسائل اور تعلیمی نظام میں تبدیلیوں کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ ان مظاہروں کے دوران بعض مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں جو سوشل میڈیا پر موضوع بحث ہیں۔

عثمان خواجہ ماضی میں بھی اپنے سماجی اور انسانی حقوق سے متعلق بیانات کی وجہ سے خبروں میں رہتے ہیں۔ تاہم اس بار انہوں نے اپنے نام کے غلط استعمال پر فوری ردعمل دے کر کسی بھی قسم کی غلط فہمی کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔

عثمان خواجہ کی جانب سے اس وضاحت کے بعد ان کے مداحوں نے ان کے موقف کی حمایت کی ہے۔ کرکٹ شائقین کا ماننا ہے کہ کسی بھی کھلاڑی کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرنا افسوسناک ہے۔

آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے سابق کھلاڑی نے اپنی وضاحت میں کسی بھی قسم کے ابہام کی گنجائش نہیں چھوڑی۔ انہوں نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنی ٹویٹس کے حوالے سے ذمہ دار ہیں لیکن انہیں غلط مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

ڈیجیٹل میڈیا کے دور میں معلومات کی تصدیق کرنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ عثمان خواجہ کا یہ اقدام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مشہور شخصیات اب اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے غلط فہمیوں کا جواب دینے میں زیادہ فعال ہو چکی ہیں۔

فرانس میں جاری حالیہ احتجاج کے حوالے سے عالمی میڈیا پر مختلف آراء موجود ہیں۔ تاہم عثمان خواجہ کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہ ہونے کے باوجود ان کا نام استعمال کرنا سوشل میڈیا کے غیر ذمہ دارانہ استعمال کی ایک بڑی مثال ہے۔

امید کی جا رہی ہے کہ اس واضح تردید کے بعد عثمان خواجہ کے نام سے منسوب یہ جعلی پوسٹ اور اس سے جڑی غلط فہمیاں ختم ہو جائیں گی۔ کھلاڑی نے اپنے پیغام کے ذریعے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ حقائق پر مبنی بات کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔

اس موضوع پر مزید خبریں

کھیل کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
چیف ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر صحافی جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی ادارتی پالیسی، خبروں کی تصدیق اور معیار ان کی نگرانی میں ہے۔

  • نیوز ڈیسک — قومی، بین الاقوامی، عدالت اور جرم و سزا کی خبریں

ہمیں فالو کریں