اسلام آباد کے سیاسیحلقوں میں اس وقت وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان تناؤ کا ماحول پایا جاتا ہے جس کی بڑی وجہ خیبر پختونخوا کے حوالے سے کیے جانے والے بعض اہم اور غیرمعمولی حکومتی فیصلے ہیں۔ ان فیصلوں کے نتیجے میں ملک بھر کے سیاسی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے تند و تیز بیانات کا سلسلہ بھی تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے ان تمام حالات کے تناظر میں ایک اہم بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے صوبے میں لگائی جانے والی ایمرجنسی کو کلی طور پر مسترد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ موجودہ صورتحال میں بھی اس تنازع کو سلجھانے کی گنجائش موجود ہے اور حکومت چاہے تو چند روز کے اندر اپنے اس فیصلے کو واپس لے سکتی ہے۔
اپنے بیان میں بیرسٹر گوہر نے وفاقی حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی انا کو پس پشت ڈال دے اور ملک کے اندر موجود زمینی حقائق کا درست ادراک کرے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا جیسے حساس صوبے میں اس طرح کے اقدامات اٹھانا ایک غیرضروری اور غیرمناسب عمل ہے جس سے گریز کیا جانا چاہیے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ صوبے کے اندر ایمرجنسی کا نفاذ ایک انتہائی تشویشناک امر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بڑی سیاسی غلطی بھی شمار ہوتی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوام اپنے بنیادی جمہوری حقوق کے خلاف اٹھائے جانے والے ایسے کسی بھی اقدام کو ہرگز قبول نہیں کریں گے۔
انہوں نے واضح طور پر اس بات کا اعادہ کیا کہ ان کی جماعت خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور کسی بھی قسم کی ایمرجنسی کی بھرپور مخالفت کرتی ہے کیونکہ اس نوعیت کے اقدامات مسائل کا حل پیش کرنے کی بجائے مزید پیچیدگیاں پیدا کرتے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ بیانات آنے والے دنوں میں حکومت مخالف تحریک کو مزید تیز کر سکتے ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے اس نکتہ پر بھی زور دیا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کا مینڈیٹ ان کا ایک مسلّم آئینی اور قانونی حق ہے جس پر کسی بھی صورت میں سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کی رائے اور مینڈیٹ کو نظر انداز کر کے صوبے میں پائیدار امن قائم کرنے کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
صوبائی خود مختاری کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاق کی طرف سے اس نوعیت کے فیصلوں سے صوبائی خود مختاری کمزور ہوتی ہے جو کہ ملکی وفاقیت کے لیے بھی نیک شگون نہیں۔ ان کا ماننا تھا کہ آئینی دائرہ کار میں رہ کر ہی تمام امور کو چلانا ملک اور قوم کے وسیع تر مفاد میں ہے۔
حکومتی اور اپوزیشن حلقوں کے مابین جاری کشمکش کا ذکر کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان محاذ آرائی کی فضا پیدا کرنے سے ملک میں کسی قسم کا سیاسی استحکام نہیں لایا جا سکتا۔ استحکام کے لیے ضروری ہے کہ دونوں فریقین باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھیں۔
دشت گردی کے خاتمے کے قومی ایجنڈے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ دہشت گردی کا ناسور ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے اور اس کے خاتمے پر پوری قوم میں کوئی اختلاف رائے پایا نہیں جاتا۔ تاہم ان کا موقف تھا کہ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے قومی یکجہتی ناگزیر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کسی ایک جماعت یا ادارے کی تنہا حکمت عملی کامیاب نہیں ہو سکتی بلکہ اس کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر ایک مشترکہ اور جامع حکمت عملی وضع کرنا ہو گی۔ طاقت کا استعمال ہمیشہ موثر نہیں ہوتا۔
صوبوں اور مرکز کے تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی بھی صورت میں صوبوں کو کمزور کر کے ایک مضبوط اور مستحکم وفاق کی بنیاد نہیں رکھی جا سکتی۔ وفاق کی اصل طاقت اس کے تمام اکائیوں کے باہمی اتحاد اور مضبوط روابط میں ہی پوشیدہ ہوتی ہے۔
موجودہ بحران کے حل کے لیے انہوں نے ایک بار پھر مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے پر زور دیا اور کہا کہ تمام تر مسائل کا حل کسی بھی قسم کے طاقت کے استعمال یا تصادم میں ہرگز پوشیدہ نہیں ہے۔ حقیقی حل صرف سیاسی بصیرت اور بامعنی مذاکرات سے ہی نکل سکتا ہے۔
یاد رہے کہ اس پورے تناظر میں وفاقی حکومت کی جانب سے یہ قدم اٹھایا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں صوبائی حکومت کے روزمرہ امور کو چلانے کے لیے گورنر کو خصوصی اختیارات سونپ دیے گئے ہیں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے گیارہ رکنی مشاورتی کونسل بھی تشکیل دی گئی ہے۔


اپنی رائے دیں