اسلام آباد میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کی گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ اعجاز کے ساتھ پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم نعمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ ڈی آئی جی آپریشنز نے ملزم کی گرفتاری کی تصدیق کر دی ہے اور اس سے مزید تفتیش کا عمل جاری ہے۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے اس کیس میں ملزم نعمان کے ساتھ فاطمہ سرور کو بھی نامزد کیا ہے۔ دونوں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جس میں ان پر طالبہ کو امریکا کا ویزا اور اسکالرشپ دلوانے کا جھانسہ دے کر بھاری رقم بٹورنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق ملزمان نے جعلی اسکالرشپ اور یونیورسٹی کے داخلے کے فرضی لیٹرز تیار کر کے متاثرہ خاندان کو دھوکا دیا۔ اس فراڈ کے ذریعے طالبہ سے مجموعی طور پر 93 لاکھ روپے کی خطیر رقم وصول کی گئی، جس میں سے 29 لاکھ روپے بینک کے ذریعے اور باقی رقم نقد لی گئی۔
متاثرہ طالبہ کے اہل خانہ نے بتایا کہ لائبہ کے والد اپنی بیٹی کو اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک بھیجنے کے خواب کو پورا کرنے کے لیے سخت محنت کر رہے تھے۔ والد نے اپنی بیٹی کی تعلیم کے اخراجات پورے کرنے کے لیے اپنا پلاٹ تک فروخت کر دیا تھا۔
خاندان کے مطابق لائبہ کے والد موٹر سائیکل پر دودھ فروخت کر کے گزر بسر کرتے ہیں۔ بیٹی کو بیرون ملک بھیجنے کے لیے انہوں نے نہ صرف پلاٹ بیچا بلکہ والدہ کے زیورات بھی بینک میں گروی رکھوا دیے تھے تاکہ تعلیم کا سفر جاری رہ سکے۔
اس المناک واقعے سے قبل لائبہ اعجاز نے اپنے والد کے نام ایک آخری پیغام اپنے ماموں کے موبائل فون پر بھیجا تھا۔ اس پیغام میں اس نے درخواست کی تھی کہ اس کے ساتھ ہونے والے فراڈ کے بارے میں والد کو کچھ نہ بتایا جائے کیونکہ وہ یہ صدمہ برداشت نہیں کر سکیں گے۔
لائبہ اعجاز انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کی ایک ذہین طالبہ تھیں جنہوں نے اپنی تعلیمی کارکردگی کی بدولت گولڈ میڈل حاصل کیا تھا۔ بیرون ملک تعلیم کے حصول کی خواہش اور اس کے نتیجے میں ہونے والے مالی فراڈ نے انہیں شدید ذہنی صدمے میں مبتلا کر دیا تھا۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد کے تھانہ رمنا کی حدود میں ایک درخت سے لائبہ نامی نوجوان لڑکی کی لاش برآمد ہوئی تھی۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق طالبہ نے مبینہ طور پر ذہنی اذیت اور مالی دھوکا دہی کے باعث خودکشی کی، جس پر علاقے میں غم و غصے کی لہر پائی جاتی ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کے تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایف آئی اے کی جانب سے درج مقدمے میں نامزد دوسری ملزمہ فاطمہ سرور کی گرفتاری کے لیے بھی چھاپے مارے جا رہے ہیں تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔
اس واقعہ نے بیرون ملک تعلیم کے خواہشمند طلبہ کو نشانہ بنانے والے گروہوں کی سرگرمیوں کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے ایجنٹس سے ہوشیار رہنا ضروری ہے جو اسکالرشپ اور ویزا کے نام پر جعلی دستاویزات کا سہارا لیتے ہیں۔
وفاقی دارالحکومت میں اس قسم کے فراڈ کے واقعات کی روک تھام کے لیے انتظامیہ نے بھی سخت اقدامات کا عندیہ دیا ہے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی غیر تصدیق شدہ ایجنٹ یا ادارے کے ساتھ مالی لین دین سے گریز کریں اور سرکاری ذرائع سے تصدیق کریں۔
لائبہ اعجاز کی وفات پر تعلیمی حلقوں اور سماجی حلقوں میں گہرے دکھ کا اظہار کیا گیا ہے۔ یونیورسٹی کے ساتھیوں اور اساتذہ نے لائبہ کو ایک ہونہار اور باصلاحیت طالبہ قرار دیتے ہوئے ملزمان کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
پولیس اور ایف آئی اے کی مشترکہ تحقیقات سے امید کی جا رہی ہے کہ اس کیس میں ملوث تمام کرداروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ متاثرہ خاندان اس وقت شدید صدمے میں ہے اور انصاف کے منتظر ہے۔

اپنی رائے دیں