سعودی عرب کی زیر قیادت اتحادی افواج نے یمن میں حوثی ملیشیا کے خلاف ایک بڑے گرینڈ آپریشن کا اعلان کیا ہے۔ اس کارروائی کا بنیادی مقصد حوثیوں کی عسکری صلاحیتوں کو ختم کرنا اور خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانا ہے۔
اتحادی افواج کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں اب تک 136 فوجی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان کارروائیوں میں حوثیوں کا بیلسٹک میزائل نیٹ ورک خاص طور پر ہدف بنایا گیا ہے۔
سعودی اتحادی افواج یمنی مسلح افواج کے دستوں کو 24 گھنٹے فضائی معاونت فراہم کر رہی ہیں۔ اس فضائی تحفظ کی بدولت زمینی کارروائیوں میں پیش رفت ہوئی ہے اور اہم پہاڑی سلسلوں پر کنٹرول حاصل کر لیا گیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق، آپریشن 'فجر الیمن' کے دوران یمنی اور سعودی اتحادی افواج نے باب المندب کے قریب اسٹریٹجک اہمیت کے حامل پہاڑی سلسلے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ یمنی فورسز اب آبنائے باب المندب کے پورے علاقے پر کنٹرول کے قریب ہیں۔
اتحادی افواج نے حوثی ملیشیا کے تین راکٹ لانچنگ پلیٹ فارمز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ یہ پلیٹ فارمز علاقائی سلامتی کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے تھے، جنہیں بروقت کارروائی کر کے ناکارہ بنایا گیا ہے۔
اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مندوب عبدالعزیز محمد الواصل نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اپنی سرزمین اور شہریوں کے دفاع کا حق رکھتا ہے اور اس کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
سعودی مندوب نے واضح کیا کہ کسی بھی دہشت گرد ملیشیا کی جانب سے خطے پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوشش کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے آزادانہ بحری آمدورفت یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔
اجلاس کے دوران یمنی مندوب نے بھی حوثیوں کے خطرے کو عالمی امن کے لیے چیلنج قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حوثیوں کو اسلحہ اور مالی وسائل کی فراہمی روکنا ضروری ہے تاکہ خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہو سکے۔
دوسری جانب، سعودی ایئر لائن 'سعودیہ' نے کنگ خالد ایئرپورٹ پر حملے کے دوران اپنے ایک پائلٹ کی شہادت کی تصدیق کی ہے۔ اس حملے میں تین شہری جاں بحق اور متعدد غیر ملکی زخمی ہوئے جنہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
سعودی حکام کے مطابق ایئرپورٹ پر آپریشنل سرگرمیاں بحال کر دی گئی ہیں، تاہم حوثی ملیشیا کے حملے میں سعودی عرب کا ایک طیارہ بھی تباہ ہوا ہے۔
یاد رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں خطے کی صورتحال پیچیدہ ہے۔ پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان سات نکات پر مذاکرات جاری رہنے کا انکشاف کیا ہے اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت ثالثی کی کوششیں جاری ہیں۔
دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست تعاون اور کشیدگی میں کمی کا خواہاں ہے۔ پاکستان ضرورت پڑنے پر دوبارہ ثالثی کے لیے بھی تیار ہے۔
روسی صدارتی دفتر کریملن نے بھی ایران کے مسئلے کے حل میں روس کی شمولیت کا خیرمقدم کیا ہے۔ صدر پوتن اور امریکی صدر ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو میں یوکرین تنازع اور ایران کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

اپنی رائے دیں