وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے ایک نجی ٹیلی ویژن کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اگر آئینی اور قانونی دائرے کے اندر رہ کر اپنا مثبت کردار ادا کرے تو اس کے ساتھ مذاکرات کے آپشن پر غور کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعت کا موجودہ رویہ اور جارحانہ انداز خود اس کی اپنی سیاسی بقا اور جماعت کے مفاد کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔ انہوں نے ماضی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے دورِ حکومت میں اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ کسی قسم کا رابطہ یا مکالمہ نہیں رکھا گیا تھا، جبکہ موجودہ وزیراعظم شہباز شریف پارلیمنٹ کے ایوان میں آمد کے موقع پر خود چل کر اپوزیشن رہنماؤں سے مصافحہ اور بات چیت کرتے ہیں۔
رانا ثناء اللہ نے تحریک انصاف کے بانی کی بہنوں کی حالیہ نظربندی کے معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت کو اس طرح کی انتظامی کارروائیوں پر کوئی خوشی نہیں بلکہ دکھ ہوتا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس اقدام کے پیچھے سنگین نوعیت کے سکیورٹی خدکات اور بیانات شامل تھے کیونکہ سب جانتے ہیں کہ لانگ مارچ اور عوامی اجتماعات کے حوالے سے ان کی جانب سے کس قسم کی گفتگو کی جاتی رہی تھی۔ مشیر سیاسی امور نے مؤقف اختیار کیا کہ گورنر ہاؤسز پر دھاوا بولنے اور چڑھائی کرنے جیسے بیانات دیے جانے کے بعد امن و امان کی صورت حال کو قابو میں رکھنے کے لیے انتظامیہ کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا تھا۔
حکومتی مشیر نے جماعت کے ڈیجیٹل ونگ اور سوشل میڈیا کے کردار پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس پلیٹ فارم سے جو کچھ پھیلایا گیا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن جماعت شروع سے ہی آئینی طریقہ کار کے مطابق چلنے پر رضامند ہو جاتی تو ملک میں کسی بھی قسم کے عبوری یا کشیدہ نظام کی ضرورت ہی پیش نہ آتی، لیکن اب بھی حالات کی بہتری کے لیے دروازے بند نہیں کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز قانون کے دائرے میں رہیں اور پارلیمنٹ کے اندر بیٹھ کر معاملات کو سلجھانے کی کوشش کریں۔
دہشت گردی کے ناسور پر بات کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے خبردار کیا کہ اگر اس چیلنج سے فوری طور پر آہنی ہاتھوں سے نہ نمٹا گیا اور پوری قوم اس پر یکسو ہو کر متحد نہ ہوئی تو ریاست کے وجود کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ وفاقی حکومت اور صوبائی اکائیوں کے درمیان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک مشترکہ، مربوط اور یکساں پالیسی کا ہونا ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے اندر امن و امان کی بحالی اور دہشت گردی کے مکمل قلع قمع کے بغیر ترقی اور خوشحالی کے اہداف کا حصول ممکن نہیں۔
بھارتی عزائم اور خطے کی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ اب روایتی جنگ لڑنے کی صلاحیت یا پوزیشن میں نہیں رہا اور اس نے اپنے مذموم مقاصد کے لیے ہمسایہ ملک افغانستان میں اپنے خفیہ ٹھکانے بنا رکھے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارت مالی وسائل فراہم کر کے پاکستان کے اندر دہشت گردی کی کارروائیوں کی سرپرستی کر رہا ہے، اس کے باوجود پورا خطہ پاکستان کے سکیورٹی اور دفاعی کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستانی سکیورٹی ادارے ملک کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے پوری طرح مستعد اور تیار ہیں۔
سیاسی منظرنامے پر مزید بات کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ جمہوریت میں بات چیت کے دروازے کبھی بند نہیں کیے جاتے بشرطیکہ فریقِ مقابل سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام کا حسن ہی اس بات میں پوشیدہ ہے کہ تمام سیاسی قوتیں قواعد و ضوابط کے اندر رہتے ہوئے اپنے مطالبات پیش کریں اور پارلیمانی فورمز کا بھرپور استعمال کریں۔ ان کے مطابق موجودہ سیاسی ڈیڈلاک کو ختم کرنے کی کنٹرولنگ چابی تحریک انصاف کے پاس ہے اگر وہ انتہا پسندانہ رویے کو ترک کر کے تعمیری سیاست کی طرف واپس آ جائے۔
انہوں نے اپنے انٹرویو میں اس امر پر بھی زور دیا کہ حکومت کی طرف سے مذاکرات کی پیشکش کسی کمزوری کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ ریاست اور جمہوریت کے مفاد میں اٹھایا جانے والا ایک ذمہ دارانہ قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک اس وقت متعدد داخلی اور خارجی چیلنجز سے نبردآزما ہے اور ایسے نازک موڑ پر سیاسی محاذ آرائی جاری رکھنا کسی بھی طرح ملکی مفاد میں نہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تحریک انصاف کی قیادت ہوش کے ناخن لے گی اور ملک کو مزید انحطاط سے بچانے کے لیے مثبت اور اعتدال پسند رویہ اپنائے گی۔
عمران خان کے دور حکومت کے دوران سیاسی ماحول کے تلخ تجربات کا ذکر کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اس وقت اپوزیشن کو دیوار سے لگانے کے لیے تمام ہتھکنڈے استعمال کیے گئے لیکن آج کی سیاسی قیادت نے اس تلخی کو بھلا کر پارلیمنٹ میں مفاہمانہ فضا قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کے طرزِ عمل کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ تمام سیاسی قوتوں کو ساتھ لے کر چلنے پر یقین رکھتے ہیں تاکہ ملک کو معاشی اور سیاسی بحرانوں سے نکالا جا سکے، اور اس کے لیے اپوزیشن کو بھی ذمہ دارانہ رویہ دکھانا ہوگا۔
سوشل میڈیا کے منفی استعمال کے حوالے سے انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو گالی گلوچ، اداروں کے خلاف پراپیگنڈا اور نفرت پھیلانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے جس سے معاشرے میں زہر گھل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو اس بات کی اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے قومی سلامتی اور امن عامہ کو داؤ پر لگا دے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس قسم کی غیر قانونی سرگرمیوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا مکمل حق حاصل ہے تاکہ ریاست کی رِٹ کو چیلنج نہ کیا جا سکے۔
گورنر ہاؤسز کے گھیراؤ اور دھرنے کی کالز کے تناظر میں رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدامات سے ریاست کے اندر انارکی پھیلتی ہے جسے کوئی بھی ذمہ دار حکومت برداشت نہیں کر سکتی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں جب بھی اس قسم کے دباؤ کی سیاست کی گئی، اس سے ملک کو معاشی طور پر بھی شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ قانون کی بالادستی کو بہ ہر قیمت قائم رکھا جائے گا اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی چاہے اس کا تعلق کسی بھی طاقتور سیاسی جماعت سے کیوں نہ ہو۔
ملکی معیشت اور سکیورٹی کے باہمی تعلق پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب تک ملک میں مکمل سیاسی اور سماجی استحکام نہیں آتا، بیرونی سرمایہ کاری کا آنا ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور اس قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ایک ہی پیج پر لا کر دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں کو منطقی انجام تک پہنچانا موجودہ وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے، جس میں کسی قسم کی سستی یا غفلت ناقابلِ برداشت ہوگی۔
بھارت کی طرف سے خطے میں پھیلائی جانے والی دہشت گردی کے حوالے سے انہوں نے عالمی برادری کو بھی متنبہ کیا کہ وہ نئی دہلی کے جارحانہ عزائم کا نوٹس لے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کے شواہد موجود ہیں اور بھارت وہاں پراکسی وار کے ذریعے پاکستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کی گھناؤنی سازشوں میں مصروف ہے۔ اس کے باوجود، انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور خفیہ ادارے دشمن کے ہر ناپاک ارادے کو خاک میں ملانے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں اور ملک کی سرحدیں مکمل طور پر محفوظ ہیں۔
آخر میں رانا ثناء اللہ نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ اس شرط پر کھلا ہے کہ وہ قانون کے دائرے میں واپس آ جائے اور ملک دشمن عناصر یا تخریبی سرگرمیوں سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سب کا ہے اور اس کی ترقی اور سلامتی کی خاطر ہر سیاسی جماعت کو ذاتی اور گروہی مفادات سے بالاتر ہو کر سوچنا ہوگا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آنے والے دنوں میں سیاسی فضا بہتر ہوگی اور تمام فریقین مل بیٹھ کر ملک کو درپیش مسائل کا کوئی پائیدار حل نکالنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔




اپنی رائے دیں