تہران سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کے شعبہ سیاسی امور کے اعلیٰ عہدیداروں نے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ ایران کی دفاعی صلاحیتیں کسی بھی بیرونی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اگر دشمن نے ایران کی سرزمین پر زمینی کارروائی کرنے کی حماقت کی تو یہ ملک حملہ آوروں کے لیے قبرستان ثابت ہوگا۔ ایران اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ہر حد تک جانے کے لیے پرعزم ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ زمینی حملے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے ایرانی مسلح افواج نے حکمت عملی ترتیب دے رکھی ہے۔ جارحیت کرنے والوں کو اس مہم جوئی کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی اور انہیں تباہی کا سامنا کرنا ہوگا۔
ایرانی حکام نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے ضروری ہے کہ کوئی بھی ملک ایران کے خلاف اشتعال انگیز اقدامات سے گریز کرے۔ ایران کسی بھی قسم کے دباؤ میں آئے بغیر اپنے دفاعی حقوق کا تحفظ جاری رکھے گا۔
پاسداران انقلاب کے مطابق ایران کی دفاعی پالیسی کا بنیادی مقصد ملکی سرحدوں کی حفاظت ہے۔ کسی بھی بیرونی طاقت کی جانب سے جارحیت کی صورت میں ایرانی قوم اور مسلح افواج متحد ہو کر دشمن کے عزائم کو خاک میں ملا دیں گی۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایران کا یہ بیان انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ تہران کی جانب سے اپنی دفاعی تیاریوں کے بارے میں بارہا یہ پیغام دیا گیا ہے کہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں مگر دفاع کے لیے تیار ہے۔
ایران کے عسکری حلقوں کا ماننا ہے کہ زمینی جنگ کی صورت میں ایرانی جغرافیائی حالات اور مقامی دفاعی نیٹ ورک حملہ آوروں کے لیے شدید مشکلات پیدا کریں گے۔ پاسداران انقلاب نے اپنی آپریشنل صلاحیتوں کو جدید خطوط پر استوار کر رکھا ہے۔
عالمی سطح پر ایران کے اس موقف کو ایک سخت انتباہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تہران کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں سیاسی اور عسکری کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
ایرانی قیادت کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران کی دفاعی طاقت صرف اپنے ملک تک محدود نہیں بلکہ یہ خطے کے امن کے لیے بھی ایک اہم عنصر ہے۔ کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے ایران کے پاس وسیع عسکری وسائل موجود ہیں۔
پاسداران انقلاب کے ترجمان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران کی مسلح افواج کسی بھی قسم کے بیرونی خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمہ وقت چوکس ہیں۔ ملکی دفاع کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔
ایران کی جانب سے جاری کردہ اس بیان کے بعد خطے میں جاری کشیدگی کے حوالے سے مختلف عالمی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ سفارتی سطح پر بھی کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں تاکہ خطے کو کسی بڑی جنگ سے بچایا جا سکے۔
واضح رہے کہ ایران ماضی میں بھی اپنی دفاعی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر چکا ہے اور اس کے میزائل پروگرام سمیت دیگر عسکری شعبوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ تہران کا موقف ہے کہ یہ سب کچھ صرف دفاعی مقاصد کے لیے ہے۔
آخر میں، ایرانی حکام نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ایران کسی بھی ملک کے خلاف جارحیت کا ارادہ نہیں رکھتا، تاہم اپنی سرزمین کے ایک انچ کی حفاظت کے لیے کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کرے گا۔





اپنی رائے دیں