ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے مغربی ممالک میں جاری احتجاجی تحریکوں کے حوالے سے اپنے اہم بیان میں مظاہرین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے بنیادی مطالبات اور احتساب کے عمل سے کسی صورت پیچھے نہ ہٹیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو اپنے اصل اہداف پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ایک پیغام میں باقر قالیباف نے کہا کہ مغرب میں عوامی غصے کا رخ موڑنے کے لیے ایک مخصوص اور سوچے سمجھے طریقہ کار کا استعمال کیا جاتا ہے تاکہ طاقتور حلقوں کو احتساب سے بچایا جا سکے اور عوام کو آپس میں تقسیم کیا جائے۔
ایرانی سپیکر نے دعویٰ کیا کہ جیفری ایپسٹین سکینڈل، غزہ کی موجودہ صورتحال، ایران کے خلاف جاری جارحانہ اقدامات اور عالمی سطح پر بدعنوانی جیسے معاملات دراصل ایک ہی بااثر گروہ کے مفادات سے جڑے ہوئے ہیں جو دنیا بھر کے سیاسی اور سماجی نظاموں پر اثر انداز ہو رہا ہے۔
انہوں نے مظاہرین کو خبردار کیا کہ وہ شناخت کی بنیاد پر پیدا کی جانے والی تقسیم کی کوششوں کا مقابلہ کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کی تحریک کا رخ اصل مسائل سے نہ ہٹے۔ ان کے مطابق عوامی بیداری ہی ان طاقتور حلقوں کے احتساب کا واحد راستہ ہے۔
باقر قالیباف کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فرانس سمیت یورپ کے متعدد ممالک میں عوامی سطح پر شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ ان ممالک میں مہنگائی کی بلند شرح، عوامی خدمات کے معیار میں گراوٹ اور رہائش کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے عوام کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا ہے۔
یورپی ممالک میں جاری ان مظاہروں میں تعلیمی مسائل اور معاشی عدم مساوات بھی کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ حکومتیں ان کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائیں اور معاشی پالیسیوں میں اصلاحات لائیں تاکہ عام آدمی کی زندگی میں بہتری آ سکے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایرانی سپیکر کا یہ بیان مغربی ممالک میں جاری سماجی و معاشی بحران پر ایران کے نقطہ نظر کی عکاسی کرتا ہے۔ وہ مسلسل اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ مغربی جمہوریتوں میں طاقتور اشرافیہ عوامی مفادات کو پس پشت ڈال کر اپنے ایجنڈے کو ترجیح دیتی ہے۔
واضح رہے کہ ایران اور مغربی ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں اس طرح کے بیانات کو عالمی سیاست میں اہمیت دی جاتی ہے۔ تہران کی جانب سے اکثر مغربی دنیا کے داخلی مسائل پر تنقید کی جاتی ہے اور وہاں کی حکومتی پالیسیوں کو ہدف بنایا جاتا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ باقر قالیباف کا یہ پیغام دراصل ان مظاہرین کے لیے ایک اخلاقی حمایت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو یورپ میں مہنگائی اور دیگر مسائل کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ یہ تحریکیں کسی بھی بیرونی دباؤ یا تقسیم کے بغیر اپنے منطقی انجام تک پہنچیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر نے اپنے پیغام میں کسی مخصوص ملک کا نام لیے بغیر عالمی سطح پر موجود سیاسی ڈھانچے پر تنقید کی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ عالمی سطح پر انصاف کا نظام کمزور پڑ چکا ہے اور اس کی بحالی کے لیے عوامی دباؤ ناگزیر ہے۔
مغربی حکومتیں فی الحال اپنے ہاں جاری ان احتجاجی مظاہروں سے نمٹنے کے لیے مختلف حکمت عملی اپنا رہی ہیں۔ تاہم عوام کی جانب سے مسلسل مطالبات نے حکومتی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے اور معاشی اصلاحات کے لیے دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا یورپی حکومتیں ان مظاہرین کے مطالبات پر کس حد تک عمل درآمد کرتی ہیں۔ باقر قالیباف کا یہ بیان اس بحث کو مزید ہوا دے سکتا ہے کہ آیا مغربی جمہوریتیں اپنے عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ میں ناکام ہو رہی ہیں۔
مجموعی طور پر ایرانی سپیکر کا یہ بیان عالمی سیاست میں جاری کشمکش کا ایک حصہ ہے جس میں مختلف ممالک ایک دوسرے کے داخلی معاملات پر تبصرہ کرتے رہتے ہیں۔ اس صورتحال پر عالمی برادری کی نظریں جمی ہوئی ہیں کہ یہ احتجاجی تحریکیں کیا رخ اختیار کرتی ہیں۔





اپنی رائے دیں