سندھ کے تاریخی شہر ٹھٹھہ کے قریب واقع مکلی نیکروپولس دنیا کے سب سے بڑے اور منفرد تاریخی قبرستانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ مقام صدیوں پر محیط سندھ کی تہذیب، فنِ تعمیر اور اسلامی ثقافت کے انمول آثار کو اپنے دامن میں سموئے ہوئے ہے۔
تقریباً دس مربع کلومیٹر کے وسیع رقبے پر پھیلے اس تاریخی قبرستان میں پانچ لاکھ سے زائد قبریں اور مقبرے موجود ہیں۔ یہاں بادشاہوں، ملکہوں، حکمرانوں، گورنروں، صوفیا، علما اور دانشوروں کی آخری آرام گاہیں موجود ہیں جو ماضی کی یاد دلاتی ہیں۔
مکلی کے مقبروں میں جام نظام الدین ثانی اور عیسیٰ خان ترخان کے مقبرے اپنی منفرد تعمیر، دیدہ زیب سنگ تراشی اور کاشی کاری کے باعث خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ فن پارے مقامی، گجراتی، مغلیہ اور فارسی اثرات کا حسین امتزاج پیش کرتے ہیں۔
اس تاریخی مقام کی اہمیت کے پیشِ نظر یونیسکو نے 1981 میں مکلی کے تاریخی آثار کو عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ یہ قبرستان 14ویں سے 18ویں صدی تک سندھ کی سماجی، سیاسی اور مذہبی تاریخ کی عکاسی کرتا ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ موسمی اثرات، بارشوں، نمی اور نمکیاتی ہواؤں کے باعث اس تاریخی ورثے کو نقصان پہنچا ہے۔ قدرتی کٹاؤ اور دیگر عوامل نے بھی ان قدیم ڈھانچوں کی خوبصورتی کو متاثر کیا ہے، جس پر ماہرین تحفظِ آثارِ قدیمہ تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔
سن 2022 کی شدید مون سون بارشوں کے بعد کئی تاریخی مقبروں کو نقصان پہنچا تھا، جس کے بعد محکمہ آثارِ قدیمہ سندھ اور یونیسکو نے مشترکہ طور پر بحالی کے اقدامات شروع کیے۔ ان کوششوں کا مقصد اس تاریخی ورثے کو محفوظ بنانا ہے۔
رواں سال 2026 میں عالمی ورثہ کمیٹی نے مکلی کے تحفظ کے لیے جاری اقدامات کو سراہا ہے۔ کمیٹی نے شیخ جیئو کے مقبرے اور سمہ دور کے دیگر اہم آثار کی بحالی کے کام کو مزید تیز کرنے اور اسے مستقل بنیادوں پر جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔
مکلی صرف قبروں کا ایک مجموعہ نہیں بلکہ یہ سندھ کی صدیوں پرانی تہذیب اور فنونِ لطیفہ کی ایک زندہ دستاویز ہے۔ اس کا تحفظ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک اہم ذمہ داری ہے تاکہ آنے والی نسلیں اس سے استفادہ کر سکیں۔
تاریخی ماہرین کا کہنا ہے کہ مکلی کے فنِ تعمیر کا مطالعہ کرنے سے اس خطے کے ماضی کے سماجی ڈھانچے کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ یہاں موجود کتبے اور نقش و نگار اس دور کے ماہر کاریگروں کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
حکومتِ سندھ اور متعلقہ اداروں کی جانب سے مکلی کے تحفظ کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں مقامی سطح پر بھی آگاہی مہمات چلائی جا رہی ہیں تاکہ تجاوزات اور دیگر نقصانات سے اس جگہ کو محفوظ رکھا جا سکے۔
سیاحوں اور محققین کی بڑی تعداد ہر سال اس تاریخی مقام کا دورہ کرتی ہے۔ مکلی کا دورہ کرنے والے افراد یہاں کے سکون اور قدیم فنِ تعمیر کی باریکیوں کو دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں جو اسے دنیا بھر میں منفرد بناتا ہے۔
مستقبل میں مکلی کے تحفظ کے لیے مزید فنڈز مختص کرنے اور بین الاقوامی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ یہ اقدام اس تاریخی ورثے کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچانے کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔
آخر میں، مکلی نیکروپولس کا تحفظ قومی فخر کا باعث ہے۔ یہ مقام ہماری تاریخ کا وہ روشن باب ہے جسے محفوظ رکھنا ہم سب کا فرض ہے، تاکہ یہ عظیم ورثہ اپنی اصل حالت میں آنے والی نسلوں تک منتقل ہو سکے۔





اپنی رائے دیں