مواد پر جائیں
جمعہ، 16 اکتوبر 2026 5 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 6:37
بریکنگ
پشاور: نجی سکول کی چھت گرنے سے 34 افراد جاں بحق، پرنسپل گرفتارسعودی فوجی اتحاد کا حوثی ملیشیا کے حملے ناکام بنانے کا دعویٰخیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ، وفاقی حکومت کا اہم اقدامخیبر پختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ، پارلیمنٹ سے توثیق مکملیوکرین کا روسی آئل ریفائنری پر ڈرون حملہ، توانائی تنصیبات پر حملے روکنے سے انکارالبانیہ میں تعلیمی نظام کیخلاف طلبہ کا شدید احتجاج، درجنوں گرفتارپشاور میں نجی اسکول کی عمارت منہدم، انکوائری کمیٹی قائمخیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کیخلاف احتجاجی تحریک کا محدود اثر، انٹیلی جنس رپورٹامریکا کا ایران پر ‘مدر آف آل بمز’ کے استعمال کا ممکنہ منصوبہسعودی اتحادی فوج نے مدینہ منورہ کے قریب کروز میزائل فضا میں تباہ کر دیاحکومت کا پیٹرول کی قیمت میں کمی، ہائی اسپیڈ ڈیزل مہنگا کرنے کا اعلانحکومت کا پاسپورٹ کے اجرا میں بڑا فیصلہ، ای پاسپورٹ فیسوں میں اضافہحکومت کا پیٹرول سستا، ڈیزل کی قیمت میں معمولی اضافہپشاور سکول سانحہ: انتظامیہ کی سنگین غفلت کے انکشافات، ابتدائی رپورٹ تیاریمن: صدارتی کمپلیکس پر حوثیوں کے میزائل حملے، 2 سکیورٹی اہلکار جاں بحقیمن: عدن میں صدارتی محل پر حوثیوں کا میزائل حملہ، وزیراعظم محفوظپشاور: اسکول کی چھت گرنے کا واقعہ، شہر کے بڑے اسپتالوں میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذجنوبی وزیرستان: نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سب انسپکٹر شہید، طالب علم زخمیگلگت بلتستان کی وادی اشکومن: سیاحت اور قدیم روایات کا حسین امتزاجفلاحِ انسانیت کے نبوی اصول: صدقہ، صبر اور توکل کی اہمیت
پاکستان بریکنگ نیوز

پشاور: نجی سکول کی چھت گرنے سے 34 افراد جاں بحق، پرنسپل گرفتار

دیر کالونی میں واقع نجی سکول کی خستہ حال عمارت کا ملبہ گرنے سے 33 طلبا اور ایک ٹیچر زندگی کی بازی ہار گئے، ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا۔

پشاور: نجی سکول کی چھت گرنے سے 34 افراد جاں بحق، پرنسپل گرفتار

پشاور کے علاقے دیر کالونی میں ایک نجی سکول کی چھت گرنے سے 34 افراد جاں بحق ہو گئے، جن میں زیادہ تر کم عمر طلبا شامل ہیں۔ حادثے کے بعد علاقے میں کہرام مچ گیا اور امدادی ٹیموں نے فوری طور پر کارروائی شروع کر دی۔

ریسکیو 1122 کے حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 6 سے 14 سال کی عمر کے 33 بچے اور 25 سالہ ٹیچر ثمرین بی بی شامل ہیں۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب سکول میں تدریسی عمل جاری تھا اور بچے کلاس رومز میں موجود تھے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سکول کی عمارت انتہائی خستہ حال تھی اور اچانک چھت گرنے سے تین کلاس رومز ملبے کا ڈھیر بن گئے۔ مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ملبے تلے دبے بچوں کو نکالنے کی کوشش کی، جس کے بعد ریسکیو حکام پہنچ گئے۔

سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید نے واقعے کو سنگین غفلت قرار دیتے ہوئے بتایا کہ سکول کی عمارت پر ضرورت سے زیادہ بوجھ تھا اور تعمیراتی معیار انتہائی ناقص تھا۔ پولیس نے سکول کے پرنسپل کو گرفتار کر کے قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔

ایس ایس پی آپریشنز فرحان احمد کے مطابق سکول ایک تنگ گلی میں واقع تھا جس کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ریسکیو ٹیموں نے چار سے پانچ گھنٹے طویل آپریشن کے بعد تمام ملبہ ہٹا کر کارروائی مکمل کی۔

ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ سکول کی عمارت میں پکا لینٹر ڈالنے کے بجائے پہلے سے تیار شدہ چھتیں نصب کی گئی تھیں جو بچوں کا وزن برداشت نہ کر سکیں۔ ملبے کے نیچے دبنے والے بچوں کی تعداد تقریباً 110 بتائی جا رہی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف اور گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے اس المناک واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ گورنر نے متعلقہ حکام سے سکول کی چھت گرنے کے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

محکمہ ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن نے واقعے کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ کمیٹی اس بات کا جائزہ لے گی کہ کیا سکول کی عمارت کا کبھی معائنہ کیا گیا تھا اور تعمیراتی ضوابط کی خلاف ورزی کیوں کی گئی۔

مقامی افراد نے بتایا کہ سکول کی عمارت انتہائی تنگ گلی میں واقع ہونے کے باعث ایمبولینسوں کا داخلہ مشکل تھا۔ حادثے کے وقت ملبے کے بڑے بڑے حصے بچوں پر گرے، جس سے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔

ایک عینی شاہد نے بتایا کہ ان کی بھانجی پینسل خریدنے کے لیے سکول سے باہر نکلی تھی جس کی وجہ سے وہ معجزانہ طور پر محفوظ رہی۔ اس نے بتایا کہ جیسے ہی وہ واپس سیڑھیوں پر پہنچی، چھت گر گئی اور ہر طرف چیخ و پکار مچ گئی۔

ریسکیو 1122 کے ریجنل ڈائریکٹر عارف خٹک نے بتایا کہ آپریشن میں 100 اہلکاروں، 18 ایمبولینسوں اور تین ہیوی ڈیوٹی گاڑیوں نے حصہ لیا۔ زخمیوں کو فوری طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سکول کا پرنسپل ایجوکیشن ٹرسٹ کے تحت ادارہ چلا رہا تھا۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق عمارت کی تعمیر میں سنگین غفلت برتی گئی تھی، جس کے باعث یہ افسوسناک حادثہ پیش آیا۔

حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ حادثے والی جگہ کے قریب جانے سے گریز کریں کیونکہ عمارت کا ڈھانچہ مزید کمزور ہو چکا ہے اور مزید نقصان کا خدشہ موجود ہے۔ علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں