انسانی زندگی نشیب و فراز اور مختلف آزمائشوں سے عبارت ہے، جہاں انسان کبھی رزق کی تنگی تو کبھی مشکلات کا سامنا کرتا ہے۔ ایسے حالات میں ایک مومن کے لیے بہترین راہنمائی رسول اللہ ﷺ کی وہ تعلیمات ہیں جو نہ صرف ایمان کو مضبوط کرتی ہیں بلکہ دنیا و آخرت میں کامیابی کی ضمانت دیتی ہیں۔
حضرت ابوکبشہ انماریؓ سے مروی ایک جامع حدیث میں نبی کریم ﷺ نے تین اہم باتوں پر قسم کھا کر امت کو نصیحت فرمائی ہے۔ ان میں صدقہ دینا، ظلم پر صبر کرنا اور اللہ کے سوا کسی کے سامنے دستِ سوال دراز نہ کرنا شامل ہے، جو زندگی کو باوقار بنانے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔
پہلی ہدایت صدقہ کے بارے میں ہے کہ اس سے مال میں کمی نہیں آتی۔ شیطان انسان کے دل میں وسوسہ ڈالتا ہے کہ خرچ کرنے سے مال کم ہو جائے گا، لیکن نبی کریم ﷺ نے یقین دلایا کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے مال میں برکت ہوتی ہے اور اللہ اس کا بہترین نعم البدل عطا فرماتے ہیں۔
قرآنِ کریم میں بھی اس حقیقت کو واضح کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ صدقات کے مال میں اضافہ فرماتے ہیں۔ ایک عبرت آموز واقعہ میں ذکر ہے کہ ایک شخص اپنی آمدنی کا ایک تہائی حصہ مسکینوں اور مسافروں پر خرچ کرتا تھا، جس کی برکت سے اس کے باغ کی پیداوار میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔
یہ واقعہ صحیح مسلم میں مذکور ہے جہاں ایک شخص نے بادلوں سے آنے والی آواز سنی کہ فلاں کے باغ کو سیراب کیا جائے۔ جب اس نے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ وہ شخص اپنی آمدنی کا بڑا حصہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتا تھا، جو اس کے مال میں برکت کا سبب بنا۔
دوسری اہم بات ظلم پر صبر کرنے سے متعلق ہے۔ جب کسی پر زیادتی ہو تو انتقام لینے کے بجائے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا اللہ کے نزدیک عزت کا باعث ہے۔ انتقام سے نفرتوں کی آگ بھڑکتی ہے جبکہ عفو و درگزر معاشرے میں محبت اور امن کو فروغ دیتا ہے۔
انتقام لینے سے انسان کی عزت میں اضافہ نہیں ہوتا بلکہ عفو و درگزر سے انسان کی قدر و منزلت بڑھتی ہے۔ دنیاوی تجربہ بھی یہی بتاتا ہے کہ انتقام کا سلسلہ نسل در نسل نفرتوں کو جنم دیتا ہے، جبکہ معاف کر دینے سے بڑے بڑے فسادات دم توڑ جاتے ہیں۔
فتحِ مکہ کے موقع پر نبی کریم ﷺ کا کردار ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ آپ ﷺ نے اپنے جانی دشمنوں کو معاف کر کے امن کا اعلان کیا، جس کے نتیجے میں دشمن بھی جگری دوست بن گئے اور معاشرے میں ایک مثالی بھائی چارے کی فضا قائم ہوئی۔
آپ ﷺ نے فتحِ مکہ کے روز اعلان فرمایا کہ جو حرم میں آ جائے، جو ابوسفیانؓ کے گھر پناہ لے، یا جو اپنے گھر کا دروازہ بند کر کے لڑائی سے کنارہ کش ہو جائے، وہ سب امن میں ہیں۔ اس رحمت بھرے طرزِ عمل نے لوگوں کے دلوں کو بدل کر رکھ دیا۔
تیسری ہدایت یہ ہے کہ اپنی ضروریات کے لیے صرف اللہ کے سامنے ہاتھ پھیلایا جائے۔ جو شخص اپنی امیدیں مخلوق سے وابستہ کر لیتا ہے، اس پر فقر و فاقہ کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ اللہ پر توکل کرنے والا بندہ مخلوق سے مستغنی ہو جاتا ہے اور اللہ اس کی ضروریات کو پورا فرماتے ہیں۔
نبی کریم ﷺ اپنی دعا میں کثرت سے اللہ کی وحدانیت اور اس کی قدرت کا اقرار کرتے تھے۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ اللہ کے مقابلے میں کوئی نعمت یا محنت کسی کو نفع نہیں پہنچا سکتی، اس لیے بندے کو صرف اپنے رب ہی سے رجوع کرنا چاہیے۔
بندے کا اپنے رب سے مانگنا عزت اور فخر کی بات ہے، جبکہ کسی انسان کے سامنے ہاتھ پھیلانا ذلت کا باعث بن سکتا ہے۔ اس لیے نبوی تنبیہات کا تقاضا ہے کہ انسان اپنی ہر مصیبت اور ضرورت کے لیے صرف اللہ رب العزت پر بھروسہ کرے۔
ان نبوی اصولوں پر عمل پیرا ہو کر انسان اپنی زندگی کو پرسکون بنا سکتا ہے۔ مخلوق کے حقوق کی ادائیگی اپنی جگہ ضروری ہے، لیکن دل میں استغناء اور امید صرف اللہ رب العزت سے وابستہ ہونی چاہیے، کیونکہ وہی حقیقی رزق دینے والا اور تمام مشکلات کو دور کرنے والا ہے۔





اپنی رائے دیں