جمعیت علماء اسلام کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے ایک حالیہ انٹرویو کے دوران ملکی سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وقت کا پہیہ مسلسل گھومتا رہتا ہے اور اقتدار یا طاقت کبھی بھی مستقل نہیں ہوتی۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ آج جن کے پاس طاقت موجود ہے انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ کل یہ صورتحال تبدیل ہو سکتی ہے، اس لیے سیاسی معاملات میں تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرنا انتہائی ضروری ہے۔
کامران مرتضیٰ نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کا دور بھی ایک وقت تھا جب وہ عروج پر تھی، لیکن اب حالات بدل چکے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں پی ٹی آئی کی جانب سے بھی تنقید کی جاتی تھی۔
سینیٹر نے اپنی جماعت کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جے یو آئی نے ہمیشہ اصولی سیاست کو ترجیح دی ہے، اگر ہم پارلیمان کے اندر اور باہر متضاد موقف اختیار کرتے تو ہماری سیاسی ساکھ اور وزن متاثر ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ اگر ہم خفیہ طور پر کسی قسم کے مفادات حاصل کرتے تو عوام کی نظر میں ہماری حیثیت کیا رہ جاتی، اس لیے ہم نے ہمیشہ وہی بات کی جس پر ہمارا ایمان تھا اور جسے ہم نے درست سمجھا۔
کامران مرتضیٰ نے کہا کہ عوام کو خود فیصلہ کرنا چاہیے کہ کون سچ بول رہا ہے اور کون جھوٹ، انہوں نے کہا کہ سیاست میں اختلافات ہونا ایک فطری عمل ہے لیکن اسے ذاتی دشمنی میں تبدیل کرنا درست نہیں ہے۔
انہوں نے سیاسی مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح سے کچھ لوگ ذاتیات پر اتر آتے ہیں اور اخلاقی حدود کو پار کرتے ہوئے گند اچھالتے ہیں، یہ ان کے سیاسی ہلکے پن اور کم ظرفی کی واضح نشانی ہے۔
سینیٹر نے مزید کہا کہ سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ اپنی گفتگو میں شائستگی برقرار رکھیں، کیونکہ گالی گلوچ اور ذاتی حملے کرنے سے ملکی سیاست کا وقار مجروح ہوتا ہے اور معاشرے میں تلخی بڑھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جے یو آئی نے ہمیشہ جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے آواز اٹھائی ہے اور ہم کسی بھی ایسی سرگرمی کا حصہ نہیں بنیں گے جو ملکی مفادات یا اخلاقی اقدار کے منافی ہو، ہمارا مقصد عوامی خدمت ہے۔
کامران مرتضیٰ نے کہا کہ وقت کی تبدیلی ایک اٹل حقیقت ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ جو لوگ آج طاقت کے نشے میں دوسروں کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں، کل انہیں بھی اسی طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے سیاسی اختلافات کو پارلیمانی حدود کے اندر رہتے ہوئے حل کریں، تاکہ ملک میں سیاسی استحکام آ سکے اور ہم ان چیلنجز کا مقابلہ کر سکیں جو اس وقت پاکستان کو درپیش ہیں۔
سینیٹر نے آخر میں کہا کہ ہماری سیاست کا محور ہمیشہ پاکستان کی بقا اور اسلام کے سنہری اصول رہے ہیں، ہم نے کبھی بھی ذاتی مفادات کے لیے اپنے نظریے پر سمجھوتہ نہیں کیا اور نہ ہی مستقبل میں ایسا کریں گے۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں سیاسی درجہ حرارت کافی بلند ہے اور مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان بیانات کا تبادلہ جاری ہے، جس سے سیاسی منظر نامے میں کشیدگی دیکھی جا رہی ہے۔





اپنی رائے دیں